بے لگام اینکروں کے چینلوں کو اشتہار دینے کا سلسلہ بند ، انڈیا اتحاد اینکروں کی دوسری فہرست جلد ؛ پون کھیڑا نے کہا ’’یہ بائیکاٹ نہیں بلکہ عدم تعاون کی تحریک ہے‘‘

Source: S.O. News Service | Published on 17th September 2023, 1:33 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 17/ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی) ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ اور شعلہ بیان مقرر مہوا موئترا جو فرقہ پرستوں ، بے لگام نیوز اینکروں اور گودی میڈیا کے چینلوں کو ان کے ہی انداز میں اکثر سبق سکھاتی رہتی ہیں ، نے اس مرتبہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ ڈال کر پورے گودی میڈیا اور ان کے چینلوں میں کھلبلی مچادی ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں یہ اطلاع دی ہے کہ ’’اپوزیشن اتحاد کی پارٹیوں کی حکومت والی ۱۱؍ ریاستیں گودی میڈیا کے بے لگام اینکروں کو سبق سکھانے اور ان کا بائیکاٹ کرنے کے بعد اب گودی میڈیا کے نیوز چینلوں کو سبق سکھانے کے بارے میں غور کررہی ہیں ۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ یہ سبق بائیکاٹ کرکے یا انہیں نوٹس بھیج کر نہیں بلکہ انہیں سرکاری اشتہارات نہ دے کر سکھایا جائے گا۔ 

 مہوا موئتراجو اکثر پوری مودی حکومت سے اکیلے ہی مقابلے پر اتر آتی ہیں ، نے بتایا کہ دہلی ، مغربی بنگال ،پنجاب ، ہماچل پردیش، چھتیس گڑھ، راجستھان ، کرناٹک،بہار ، تمل ناڈو ، کیرالا اور جھارکھنڈ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ گودی میڈیا کے چینلوں کو لگام دینے کے لئے ان کےسرکاری اشتہارات روک دئیے جائیں ۔ اس کے لئے میکانزم بنانے پر غور کیا جارہا ہے اور ممکن ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں اس پر مشترکہ فیصلہ کرلیا جائےکہ گودی میڈیا کے ایک بھی چینل کو ان ۱۱؍ ریاستوں کا ایک بھی اشتہار نہیں ملے گا۔ مہوا موئترا نے مزید لکھا کہ ان چینلوں کو بی جے پی کا ایجنڈہ چلانے اور ان کے ترجمانوں کو بلانے کی پوری اجازت ہے۔ ساتھ ہی ہم یہ بھی اجازت دے رہےہیں کہ یہ چینل اپنے لئے فنڈنگ کا انتظام بھی بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں سے کرلیں کیوں کہ اب انہیں کم از کم اپوزیشن کی ریاستوں سے تو کوئی فنڈ ملنے سے رہا ۔ مہوا موئترا نے اپنی پوسٹ کے آخر میں لکھا کہ ’’ اب کھیلا ہوبے، شروعات ہو گئی ہے۔‘‘

  دوسری طرف یہ اطلاعات بھی ہیں کہ انڈیا اتحاد کی جانب سے اینکروں کے بائیکاٹ کی دوسری فہرست بھی جاری ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں انڈیا اتحاد کی میڈیا کمیٹی کے باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ جن ۱۴؍ اینکروں کے بائیکاٹ کی فہرست جاری کی گئی ہے ان میں مزید کچھ نام جوڑے جائیں گے ۔ فی الحال ان اینکروں کے پروگراموں اور خبریں پیش کرنے کے طریقے کا تجزیہ ہو رہا ہے۔ جلد ہی دوسری فہرست بھی جاری کی جائے گی۔ کمیٹی کے ذرائع کے مطابق دوسری فہرست میں بھی زیادہ تر وہ اینکرس ہو سکتے ہیں جو اپوزیشن کے ترجمانوں کو مدعو تو کرتے ہیں لیکن انہیں بولنے نہیں دیتے اور کھلی ہوئی جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اکثر اشتعال انگیزی پر اتر آتے ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انڈیا اتحاد کی اس فہرست میں اینکروں کے علاوہ ایک نیوز ایجنسی کا نام بھی آسکتا ہے ۔ اس کے تعلق سے فی الحال غور ہو رہا ہے۔ یہ نام کب جاری کئے جائیں گے اس کا کوئی وقت تو نہیں دیا گیا لیکن امید کی جارہی ہے کہ یہ فہرست چند روز میں جاری ہو سکتی ہے۔ 

 ادھرکانگریس کی مجلس عاملہ کی میٹنگ کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی لیڈران پون کھیڑا ، جے رام رمیش اور پی چدمبرم نے کئی سوالوں کا جواب دیا جن میں نیوز اینکرس کے بائیکاٹ سے متعلق سوال بھی شامل تھے۔ اس تعلق سےکانگریس لیڈر پون کھیڑا نے کہا کہ ہم نے کسی پر پابندی نہیں لگائی، نہ بائیکاٹ کیا اور نہ کسی کو بلیک لسٹ کیا ہے۔ یہ بائیکاٹ ہے ہی نہیں بلکہ یہ عدم تعاون کی تحریک ہے۔ معاشرے میں نفرت پھیلانے والوں سے ہم تعاون نہیں کریں گے لیکن اگر کل انہیں یہ احساس ہو گیا کہ وہ جو کر رہے ہیں وہ ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہے تو ہم دوبارہ ان کے شوز میں جانا شروع کر دیں گے۔ اس پر کسی کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ 

  اس تعلق سے پی چدمبرم نے کہا کہ میڈیا کمیٹی نے جو فیصلہ کیا ہے وہ بہت سوچ سمجھ کر اور تمام پہلوئوں کو دھیان میں رکھ کر کیا گیا ہے۔ میڈیا کمیٹی میں شرد پوار جیسے سینئر اور تجربہ کار سیاستداں ہیں ۔ انہیں معلوم ہے کہ وہ کیا فیصلہ کررہے ہیں اس لئے فیصلے پر سوال اٹھانے کے بجائے ان اینکروں کے پروگراموں کو ایک مرتبہ دیکھ لیا جائے تو حقیقت خود بخود واضح ہو جائے گی۔ 

ایک نظر اس پر بھی

ہیمنت سورین کو جھٹکا! سپریم کورٹ کا انتخابی تشہیر کے لئے عبوری ضمانت دینے سے انکار

جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو مبینہ زمین گھوٹالہ سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے بدھ کو اس معاملے میں لوک سبھا انتخابات کے سلسلے میں سورین کو عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا، ’’نچلی عدالت اس معاملے کا نوٹس لے چکی ہے ...

ایسی سرگرمیوں سے ووٹرس پریشان، ووٹنگ کا حتمی فیصد تاخیر سے جاری کیے جانے پر کانگریس نے پھر اٹھائے سوال

لوک سبھا انتخاب 2024 میں پانچ مراحل کی ووٹنگ ہو چکی ہے۔ اس درمیان بدھ کو ایک بار پھر کانگریس نے الیکشن کمیشن کے ذریعہ ووٹنگ کا حتمی فیصد جاری کرنے میں تاخیر اور ووٹنگ کے عبوری فیصد و حتمی فیصد کے درمیان بڑے فرق پر فکر کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ووٹرس الیکشن کمیشن میں ...

انڈیا اتحاد کی حکومت بننے پر ’مودانی مہا گھوٹالہ‘ کی تحقیقات جے پی سی کے ذریعے کرائی جائیں گی: کانگریس

 کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے 22 مئی 2024 کو کہا کہ عام انتخابات میں انڈیا اتحاد بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا نظر آ رہا ہے، ’مودانی مہا گھوٹالہ‘ کے سلسلے میں انکشافات کا ٹیمپو بھی رفتار پکڑ رہا ہے۔ جے رام رمیش نے ایکس پر لکھا، ’’مودانی مہا گھوٹالے کے سلسلہ میں آج ہونے ...

انڈیا اتحاد کی حکومت بننے کے بعد بی جے پی لیڈر اور مرکزی ایجنسیوں کے افسر جیل جائیں گے: آتشی

عام آدمی پارٹی کی لیڈر آتشی نے کہا کہ 4 جون کے بعد جب انڈیا اتحاد کی حکومت بنے گی تو الیکٹورل بانڈ اسکیم کی تحقیقات ہو گی جس میں نہ صرف بی جے پی کے لیڈر جیل جائیں گے بلکہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے افسر بھی جیل ...