دکشن کنڑا اور اڈپی میں نہیں ختم ہو رہی ہیں 'غیر اخلاقی پولیس گیری'- صحافی اور پولیس والے بھی آ رہے ہیں زد میں - 6 مہینوں میں درج ہوئے 10 معاملے

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 1st December 2023, 9:53 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

منگلورو یکم / دسمبر (ایس او نیوز) دکشن کنڑا اور اڈپی ضلع میں غیر اخلاقی پولیس گری کا بھوت قابو میں آتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ امسال جون سے دسمبر تک یعنی گزشتہ 6 مہینوں میں غیر اخلاقی پولیس گری کے 10 معاملے درج ہوئے ہیں ۔ ان میں سے بعض معاملوں کی زد میں تو صحافی اور پولیس والے بھی آئے ہیں۔

معاملہ نمبر 1 : چار دن قبل یعنی 27 نومبر کو منگلورو شہر کی ایک دکان میں ملازمت کرنے والے الگ الگ مذہب سے تعلق رکھنے والے مرد اور خاتون کو میلاگریس چرچ کے پاس بائک سے گزرتے وقت پیچھا کرکے سڑک پر روکا گیا اور ہندو مسلم مرد و خاتون کو ہراساں کیا گیا۔ اس ضمن میں پانڈیشور پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے۔

معاملہ نمبر 2 :  کاپو پولیس اسٹیشن کے حدود میں دو الگ الگ مذہب سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کو آگمبے آبشار سے واپس لوٹتے وقت مقامی سنگھی نوجوانوں نے روکا اور ان کے ساتھ غنڈہ گردی کی۔ اس کی ویڈیوبھی کی گئی ۔ یہ واقعہ 21 اگست کو پیش آیا تھا ۔ پھر جب ویڈیو کلپ سوشیل میڈیا پر وائرل ہوئی تو 21 ستمبرکو کاپو پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا۔

معاملہ نمبر 3 : موڈبیدری بس اسٹینڈ کے پاس 21 اگست کو دو الگ الگ مذہب سے تعلق رکھنے والے ہم جماعت طالب علم بات چیت کر رہے تھے تو اس وقت سنگھی گروپ نے نہ صرف دونوں کو ہراساں کیا بلکہ 19 سالہ لڑکے کو بری طرح مار پیٹ کر زخمی کر دیا ۔ اس معاملے میں تین ملزمین کو گرفتار بھی کیا گیا۔

معاملہ نمبر 4 : سولیا کے توڈیکان نامی علاقے میں اگست کے مہینے میں ہی ایک واردات ہوئی جس میں  ایک ایسے شخص پر پانچ لوگوں نے حملہ کیا جو دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والی دوست کے لئے لاڈجنگ کا کمرہ حاصل کرنے میں تعاون کر رہا تھا۔ اس معاملے میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا۔

معاملہ نمبر 5 : اوجیرے سے دھرمستھلا بس اسٹینڈ تک  2 اگست کے دن  ایک غیر مسلم طالبہ کو اپنے آٹو میں لے جانے والے مسلم رکشہ ڈرائیور پر چار افراد نے حملہ کیا۔ اس معاملے میں پولیس نے کیس درج کیا۔

معاملہ نمبر 6 :  کارکلا میں 29 جولائی کو ایک واردات پیش آئی جس میں منگلورو سے تعلق رکھنے والے مسلم و غیرمسلم افراد پر مشتمل میڈیکل پروفیشنلس کے گروپ پر غیر اخلاقی پولیس گری کرنے والوں کی طرف سے ہراسانی کا معاملہ پیش آیا ۔ اس کیس میں پانچ ملزمین کو گرفتار کیا گیا تھا۔

معاملہ نمبر 7 : بنٹوال میں27 جولائی کو اپنی ڈیوٹی ادا کرکے رہائشی کوارٹر کی طرف جانے والے پولیس کانسٹیبل اوراس کی بیوی کو روک کر دونوں کو الگ الگ مذاہب کے افراد مانتے ہوئے ہراساں کیا گیا۔ 

معاملہ نمبر 8 : کاور کے ایک ہوٹل میں 26 جولائی کو کھانا کھانے کے بعد باہر نکل کر اپنی دوست کے ساتھ بات چیت میں مصروف ایک صحافی کو روک کر ہراساں کیا گیا۔

معاملہ نمبر 9 : مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اپنے ہم جماعت طالب علموں کے ساتھ 21 جولائی کو پنمبور ساحل پر تفریح کرنے والی لڑکی کو ہراساں کرنے کا معاملہ پیش آیا جس کے بعد دو ملزمین کو گرفتار کیا گیا۔ 

معاملہ نمبر 10 : سومیشور ساحل پر یکم جون کو تین لڑکیوں کے ساتھ تفریح کے لئے آئے ہوئے نوجوان پر دس افراد کے ایک گروپ نے حملہ کیا۔

یہ اعداد و شمار ان وارداتوں کے ہیں جس کی شکایت پولیس کے پاس کی گئی یا معاملہ درج کیا گیا ہے ۔ ایسے بھی بہت سارے معاملے ہوتے رہتے ہیں جس کے بارے میں پولیس کے پاس شکایت درج نہیں کی جاتی ۔ 

حالانکہ اس طرح کی غیر اخلاقی پولیس گری پر روک لگانے کے لئے ریاستی کانگریسی حکومت نے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ منگلورو پولیس کمشنریٹ حدود میں اینٹی کمیونل ونگ بھی شروع کیا گیا ہے، مگر فرقہ وارانہ منافرت اورغیراخلاقی پولیس گری پر ابھی تک پوری طرح روک لگانے میں کامیابی نہیں ملی ہے۔

اس صورتحال پر منگلورو کے ایک سینئر صحافی رمیش پیرل نے کہا : اس طرح کی غنڈہ گردی ضلع کی ترقی کے لئے زہر قاتل ہے۔ پولیس کو ایسے معاملات میں کٹھن کارروائی کرنی چاہیے۔ اس ضمن میں پولیس اہلکاروں کے اندر بھی بیداری لانی چاہیے۔ ورنہ کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ متاثرہ افراد اگرشکایت درج کروانے جاتے ہیں تو پولیس اسٹیشن میں ہی معاملہ درج کرنے میں پس و پیش کیا جاتا ہے۔

سابق ریاستی وزیر رماناتھ رائے کا کہنا ہے کہ ایک حد تک ایسی وارداتوں پر روک لگی ہے۔ ہماری حکومت نے دوبارہ اقتدار سنبھالتے ہی اس تعلق سے سخت پالیسی اپنائی ہے اور اس کے مطابق اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ آنے والی دنوں میں ایسی طاقتوں پر قابو پانے کے لئے ہی سیکیولر پارٹیوں کا اتحاد ضروری ہے ۔ 

دوسری طرف شہر کی ایک سوشیل ورکر ودیا دینکر کا ماننا ہے کہ ایسی غنڈہ گردی پر پوری طرح روک لگنی چاہیے۔ الیکشن قریب آتے ہی ایسی سرگرمیوں میں اضافہ ہو جاتا ہے ، جو لوگوں کے لئے تشویش کا باعث ہے۔

اس لئے حال ہی میں جو اینٹی کمیونل ونگ قائم کی گئی ہے اس کی طرف سے کیا کچھ کارروائیاں ہو رہی ہیں ، ایسی سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں اور افراد کے ساتھ پولیس نے کیا طریقہ کار اپنایا ہے انہیں کس طرح کی وارننگ، معلومات دی ہے ، ان سب کے بارے میں ایک وہائٹ پیپر جاری کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ضلع انتظامیہ کی طرف سے اجلاس منعقد کرکے عوام کو باخبر کرنا بھی ضروری ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں بارش سے گھروں کو پہنچے نقصانات کا جائزہ لینے تنظیم وفد کا متاثرہ علاقوں کا دورہ

   ہفتہ عشرہ سے  بھٹکل میں جاری زور دار بارش کے نتیجے میں کئی علاقوں میں مکانوں کو نقصان پہنچا ہے، جس کا جائزہ لینے آج پیر کو قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے ایک وفد نے   صدیق اسٹریٹ، نستار اور مخدوم کالونی علاقہ کا دورہ کیا اور تنظیم کی جانب سے ہرممکن تعاون کا یقین ...

انکولہ لینڈ سلائیڈ: بھٹکل اسکول ٹیمپو ڈرائیورس یونین نے پہاڑی کا ملبہ ہٹانے والے عملے میں تقسیم کیا کھانا

   انکولہ لینڈ سلائیڈ کے بعد  کیرالہ کے ارجن سمیت تین لاپتہ لوگوں  کی کھوج کرنے والے سو سے زائد  عملہ کو  آج بھٹکل اسکول ٹیمپو ڈرائیورس  یونین کی طرف سے  دوپہر کا کھانا تقسیم کیا گیا اور  کیرالہ سے خصوصی طور پر    ملبہ ہٹانے کے لئے پہنچے لوگوں کی ہمت بندھائی۔

نیشنل ہائی وے کا غیر سائنٹفک کام - این ای سی ایف نے مرکزی وزیر گڈکری کو بھیجا شکایتی مراسلہ

نیشنل ہائی وے کے مختلف مقامات پر چٹانیں اور زمین کھسکنے کے جان لیوا حادثات کے لئے شاہراہوں کے غیر سائنٹفک توسیعی کام کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے نیشنل اینوائرنمنٹ کیئر فیڈریشن (ین ای سی ایف) نے مرکزی وزیر برائے بری نقل و حمل نتین گڈکری کئی اہم سرکاری افسران کو شکایتی مراسلہ بھیجا ...

بینگلورو: دھوتی میں ملبوس کسان کو داخلہ نہ دینے کا معاملہ : حکومت نے دیا سات دن کے لئے مال بند کرنے کا حکم 

دو دن قبل بینگلورو کے ایک مال میں ایک عمر رسیدہ کسان اور اس کے اہل خانہ  کو اس وجہ سے داخلہ دینے سے انکار کیا گیا تھا کہ وہ کسان دھوتی میں ملبوس تھا ۔ اس واقعے کی ویڈیو کلپ وائرل ہونے کے بعد اس کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی تھیں اور مال کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا ۔ 

کرناٹک پرائیویٹ فرموں میں کناڈیگاس کے لیے 100فیصد کوٹہ لازمی کرنے والا بل منظور

کرناٹک کی کابینہ نے ایک بل کو منظور کیا ہے جس میں کننڈیگاس کو گروپ سی اور ڈی کے عہدوں کے لیے نجی شعبے میں 100 فیصد ریزرویشن لازمی قرار دیا گیا ہے،  وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہا۔یہ فیصلہ پیر کو ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔

کیا یہ مسلمانوں کی سماجی و معاشی بائیکاٹ کی ایک سازش ہے؟ ۔۔۔۔۔۔از: سہیل انجم

کیا کانوڑ یاترا کے بہانے مسلمانوں کے سماجی و معاشی بائیکاٹ کی تیاری چل رہی ہے اور کیا وہ وقت دور نہیں جب تمام قسم کی دکانوں اور مکانوں پر مذہبی شناخت ظاہر کرنا ضروری ہو جائے گا؟ یہ سوال یوں ہی نہیں پیدا ہو رہا ہے بلکہ اس کی ٹھوس وجہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کانوڑ یاترا کے روٹ پر ...

پیپر لیک سے ابھرے سوال، جوابدہی کس کی ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آز: ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

پیپر لیک معاملہ میں ہر روز نئے انکشافات ہو رہے ہیں ۔ اس کے تار یوپی، بہار، ہریانہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور دہلی سے جڑنے کی خبر ہے ۔ عجیب بات ہے کہ نیٹ پیپر لیک میں جن ریاستوں کے نام سامنے آئے دہلی کو چھوڑ کر ان سب میں ڈبل انجن کی سرکار ہے ۔ جس ایجنسی کے پاس امتحانات کرانے کی ذمہ ...

نیشنل ہائی وے کنارے کچروں کے ڈھیر نے بھٹکل کی خوبصورتی کوکیا داغدار؛ لوگ ناک پر انگلی دبائے گزرنے پر مجبور

بھٹکل تعلقہ کے ہیبلے پنچایت حدود کے حنیف آباد کراس کے قریب شہر کی خوبصورت فورلین قومی شاہراہ کنارے کچروں کا اتنا زیادہ ڈھیر جمع ہے کہ بائک اور آٹو پر گذرنے والے لوگوں کا ہاتھ اس علاقے میں پہنچتے ہی خودبخود ناک پر پہنچ جاتا ہے اور بڑی سواریوں والے اس بدبودار علاقے سے جلد از جلد ...

کیا وزیر اعظم سے ہم تیسری میعاد میں خیر کی اُمید رکھ سکتے ہیں؟ ........... از : ناظم الدین فاروقی

18ویں لوک سبھا الیکشن 24 کے نتائج پر ملک کی ڈیڑھ بلین آبادی اور ساری دنیا کی ازبان و چشم لگی تھیں ۔4 جون کے نتائج حکمران اتحاد اور اپوزیشن INDIA کے لئے امید افزاں رہے ۔ کانگریس اور اس کے اتحادی جماعتوں نے اس انتخابات میں یہ ثابت کر دیا کہ اس ملک میں بادشاہ گر جمہورہیں عوام کی فکر و ...

کاروار: بی جے پی کے کاگیری نے لہرایا شاندار جیت کا پرچم - کانگریس کی گارنٹیوں کے باوجود ووٹرس نے چھوڑا ہاتھ کا ساتھ  

اتر کنڑا سیٹ پر لوک سبھا انتخاب میں بی جے پی امیدورا وشویشورا ہیگڑے کاگیری کی شاندار جیت یہ بتاتی ہے کہ ان کی پارٹی کے سیٹنگ ایم پی اننت کمار اور سیٹنگ رکن اسمبلی شیو رام ہیبار کی بے رخی دکھانے اور انتخابی تشہیر میں کسی قسم کی دلچسپی نہ لینے کے باوجود یہاں ووٹروں کے ایک بڑے حصے ...

کون بنے گا 'کنگ' اور کون بنے گا ' کنگ میکر'؟! - لوک سبھا کے نتائج کے بعد سب کی نظریں ٹک گئیں نتیش اور نائیڈّو پر

لوک سبھا کے اعلان شدہ انتخابی نتائج نے منگل کو یہ ثابت کر دیا کہ پوسٹ پول سروے ہمیشہ درست نہیں ہوتے  کیونکہ این ڈی اے اتحاد کی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بارے میں جو توقعات بنی یا بنائی گئی تھیں وہ پوری طرح  خاک میں مل گئیں۔