بھٹکل: ضلع اتر کنڑا میں جاری ہے تیز برسات کا سلسلہ - ہوناور کے قریب نیشنل ہائی وے پر چٹان کھسک گئی 

Source: S.O. News Service | Published on 7th July 2024, 1:07 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل  7 / جولائی (ایس او نیوز)بھٹکل سمیت ضلع اتر کنڑا میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ سنیچر کو تھوڑا کم ہوا تھا مگر  رات سے برسات مزید تیز ہوگئی ہے ۔  اس  دوران ہوناور سے ملی خبر کے مطابق نیشنل ہائی وے 66 پر ہوناور  پولیس اسٹیشن کے حدود میں کرنل ہِل کے قریب چٹان کھسک گئی  اور  ملبہ سڑک پر گرنے سے گاڑیوں کی آمد و رفت میں خلل پیدا ہوگیا ۔
    
بتایا جاتا ہے کہ  چٹان کھکسنے کا واقعہ پیش آتے ہی ہوناور پولیس نے موقع  پر پہنچ کر سڑک کی ایک طرف سے موٹر گاڑیوں کے لئے آمد و رفت کی سہولت کا انتظام کیا ۔ اسی کے ساتھ نیشنل ہائی وے توسیعی منصوبے کی ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی نے ہائی وے پر گرے ہوئے ملبے کو ہٹانے کا کام شروع کیا ہے ۔ 

ہوناور کے ساتھ بھٹکل میں بھی اتوار صبح سے زبردست بارش ہورہی ہے ، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں پانی بھرنے کی اطلاعات ہیں۔ 

ایک نظر اس پر بھی

دکشن کنڑا میں 83 مقامات پر بج رہی خطرے کی گھنٹی - موسلا دھار برسات سے کھسک سکتی ہیں چٹانیں 

کئی دنوں سے چل رہی مسلسل برسات کی وجہ سے جگہ جگہ چٹانیں کھسکنے کے واقعات پیش آ رہے ہیں ۔ اس وقت دکشن کنڑا میں 83 ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں چٹانیں کھسکنے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے ۔    

 انکولہ میں زمین کھسکنے کا معاملہ : ضلع انتظامیہ نے کی ملبے میں ٹرک دبے ہونے کی تصدیق؛ کیا زندہ برآمد ہوگا لاری ڈرائیور ؟

انکولہ تعلقہ کے شیرور میں پیش آئے چٹان کھسکنے کے المیہ کے بارے میں مزید کچھ اہم باتیں سامنے آ رہی ہیں، جس سے یقین ہوگیا ہے کہ ملبے کے اندر ایک بینز ٹرک دبا ہے ۔ اس وجہ سے ملبے کے اندر ٹرک کا لا پتہ ڈرائیور بھی موجود ہونے کا قوی امکان ہے۔

کمٹہ تعلقہ میں بھاری برسات کے بعد چٹان کھسک گئی  

اتر کنڑا میں موسلا دھار برسات کے نتیجے میں انکولہ تعلقہ کے  شیرور میں بڑے پیمانے پر چٹان کھسکنے کا جان لیوا حادثہ پیش آنے کے بعد اب کمٹہ تعلقہ میں الورومٹھ  کے قریب بھی ایک بڑی چٹان کھسک گئی ۔ اس سے کمٹہ سداپور شاہراہ مکمل طور پر بند ہوگئی ہے ۔

اڈپی میں ڈینگی کے بڑھتے معاملے - ڈاکٹری نسخے کے بغیر پیراسیٹامول گولی کی فروخت پر لگی پابندی

ضلع میں ڈینگی اور دوسرے متعدی امراض میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور زیادہ تر مریض خود ہی اپنا علاج (سیلف میڈیکیشن) کرنے لگے ہیں ۔ اس کی وجہ سے امراض کی نامناسب تشخیص اور نامکمل علاج کا سلسلہ چل پڑا ہے جس کا نتیجہ کبھی کبھی جان لیوا ثابت ہوتا ہے ۔