کرناٹک کے چتردرگہ میں آلودہ پانی پینے سے پانچ لوگوں کی موت؛ 16 کی حالت نازک

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 5th August 2023, 6:15 PM | ریاستی خبریں |

چتردرگہ 5/اگست (ایس او نیوز) ضلع  کے مضافاتی قصبہ  کواڑی گڑھٹّی میں آلودہ پانی پینے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر پانچ ہوگئی ہے جبکہ  177 لوگوں کو اسپتال میں علاج کے لئے داخل کیا گیا ہے۔

حکام کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ  اسپتال میں داخل مریضوں میں 16 کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں انتہائی نگہداشت والی یونٹ (آئی سی یو) میں داخل کیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد عوام حکام پر غفلت او رلاپرواہی کا الزام عائد کررہے ہیں اور شدید برہم ہیںَ۔

بتایا گیا ہے کہ  پچاس سالہ رُودرپّا جو مبینہ طور پر آلودہ پانی پینے کی وجہ سے  قئے اور پیچش میں مبتلا ہوگیا تھا، چتردرگہ کے بشویشور اسپتال میں ایڈمٹ تھا، جمعہ کو وہ فوت ہوگیا، اسی طرح پاروتھمّا نامی 60 سالہ خاتون کی بھی   اپنی ہی رہائش گاہ میں موت واقع ہوگئی اسے اسپتال سے صحت یاب ہونے پر تین دن پہلے گھر بھیجا گیا تھا اور گھر پر ہی علاج جاری  تھا۔ بتایا گیا ہے کہ پاروتھمّا فالج کا بھی شکار تھی اور جمعہ کو اس نے دم توڑ دیا۔ اس کے گھر کے نو افراد جس میں ایک سال کا بچہ بھی شامل ہے، آلودہ پانی پینے کی وجہ سے اسپتال میں زیرعلاج ہے جس میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

آلودہ پانی کے استعمال کا معاملہ 31 جولائی کو سامنے آیا تھا  اور ابتدا میں   منجولا (23) اور رگھو (27) کی موت ہو گئی تھی جس کے بعد  آلودہ پانی پینے سے 36 لوگ بیمار ہو نے پر اُنہیں اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔پروین جو کہ 30 جولائی کو اپنے رشتہ داروں سے ملنے گاؤں آیا تھا، اگلے دن وڈّاراسیدنہلّی میں فوت ہو گیا۔ ذرائع کی مانیں تو اس طرح آلودہ پانی پینے کے نتیجے میں پانچ لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے، مگر ضلع انتظامیہ  نے آلودہ پانی پینے  کی وجہ سے صرف دو لوگوں کے مرنے کی تصدیق کی ہے اور دیگر تین لوگوں کی موت کے تعلق سے کہنا ہے کہ  اُن کی موت  کی وجہ کا پتہ ابھی نہیں چلا ہے۔

ذرائع کے مطابق 177 لوگوں کا علاج جاری ہے جس میں سے اکثر لوگوں کا بسویشور اسپتال میں  علاج چل رہا ہے جبکہ بعض لوگوں کا علاج چتردرگہ ضلعی اسپتال میں  کیا جارہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ  متعلقہ قصبہ میں 3675 لوگ بستے ہیں  ۔ جس میں سے تین کالونیوں میں رہنے والے 1128 لوگوں تک  آلودہ پانی پہنچا ہے اور پانی استعمال کرنے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب (SC/ST)  سے ہے۔ اور یہ   روزانہ مزدوری کرکے اپنا اور اپنے گھر  کا پیٹ پالنے والے لوگ ہیں۔ پتہ چلا ہے کہ اسپتال میں ایڈمٹ لوگوں میں اسکول جانے والے 40 بچے بھی شامل ہیں۔

بتایا جارہا تھا کہ  ایک شخص کے خلاف پوکسو ایکٹ کے تحت کیس درج کئے جانے پر کچھ شرپسندوں نے پانی میں زہر ملادیا  جس کی وجہ سے  لوگ بیمار ہوئے  اور موتیں ہوئیں، تاہم پانی کی جانچ کرنے پر  ایف ایس ایل رپورٹ میں تصدیق  ہوئی  ہے کہ پانی کے نمونے میں کوئی زہریلا کیمیکل  موجود نہیں تھا ۔ اسی  طرح    اس بات کی  بھی تصدیق ہوگئی ہے کہ یہ سانحہ پانی کی آلودگی کی وجہ سے ہی   پیش آیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سدارامیا نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ضلع کلکٹر کو ہدایت دی ہے کہ وہ  قصوروار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ اس تعلق سے پتہ چلا ہے کہ حکام  نے بعض لوگوں کو   خاطی مانتے ہوئے اُنہیں   اُن کی ذمہ داریوں سے معطل کردیا ہے۔ بعض لوگوں کو وجہ بتاو نوٹس بھی جاری کی گئی ہے۔

میونسپل ایڈمنسٹریشن ڈائرکٹر، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، سٹی میونسپل کونسل کمشنر، اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر، ہیلتھ آفیسر اور ڈپٹی کمشنر سمیت عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کریں کہ  کواڑی گڑھٹّی   قصبہ میں پینے کے صاف   پانی کی فراہمی  کو یقینی بنایا جائے۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی نے کانگریس ایم ایل اے کو 50 کروڑ روپے کی پیشکش کی؛ سدارامیا کا الزام

کرناٹک کے وزیر اعلی سدارامیا نے ہفتہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام لگایا کہ وہ کانگریس کے اراکین اسمبلی کو وفاداری تبدیل کرنے کے لیے 50 کروڑ روپے کی پیشکش کرکے 'آپریشن لوٹس' کے ذریعے انکی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں ملوث ہے۔

لوک سبھا انتخاب 2024: کرناٹک میں کانگریس کو حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ ہے

کیا بی جے پی اس مرتبہ اپنی 2019 لوک سبھا انتخاب والی کارکردگی دہرا سکتی ہے؟ لگتا تو نہیں ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ اول، ریاست میں کانگریس کی حکومت ہے، اور دوئم بی جے پی اندرونی لڑائی سے نبرد آزما ہے۔ اس کے مقابلے میں کانگریس زیادہ متحد اور پرعزم نظر آ رہی ہے اور اسے بھروسہ ہے ...

تعلیمی میدان میں سرفہرست دکشن کنڑا اور اُڈپی ضلع کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

ریاست میں جب پی یوسی اور ایس ایس ایل سی کے نتائج کا اعلان کیاجاتا ہے تو ساحلی اضلاع جیسےدکشن کنڑا  اور اُ ڈ پی ضلع سر فہرست ہوتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ساحلی ضلع جسے دانشوروں کا ضلع کہا جاتا ہے نے ریاست میں بہترین تعلیمی کارکردگی حاصل کی ہے۔

این ڈی اے کو نہیں ملے گی جیت، انڈیا بلاک کو واضح اکثریت حاصل ہوگی: وزیر اعلیٰ سدارمیا

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے ہفتہ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ لوک سبھا انتخاب میں این ڈی اے کو اکثریت نہیں ملنے والی اور بی جے پی کا ’ابکی بار 400 پار‘ نعرہ صرف سیاسی اسٹریٹجی ہے۔ میسور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سدارمیا نے یہ اظہار خیال کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ...