ماہی گیر تنظیموں کا متفقہ فیصلہ - کاسرکوڈ میں تجارتی بندرگاہ کے خلاف ہوگی قانونی جد و جہد

Source: S.O. News Service | Published on 17th April 2024, 10:28 AM | ساحلی خبریں |

ہوناور 16/ اپریل (ایس او نیوز) شہر کے سینٹ جوزیف ہال میں ماہی گیر تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور کراولی ماہی گیر مزدوروں کی تنظیم کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں کاسرکوڈ میں مجوزہ نجی تجارتی بندرگاہ کی تعمیر کے خلاف تنظیمی اور قانونی طریقے سے جد وجہد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔

 ہوناور کے اس اجلاس میں ضلع کے مختلف تعلقہ جات کے علاوہ اڈپی اور منگلورو جیسے پڑوسی اضلاع سے بھی ماہی گیروں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ شرکاء نے اس مجوزہ بندرگاہ کے منصوبے سے ہونے والے نقصانات اور درپیش مسائل پر سنجیدگی سے غور کیا اور اس کے خلاف اب تک کی گئی جد و جہد کے نتیجے میں ماہی گیروں کو جو تکلیف ہو رہی ہے اس کی کڑی مذمت کی ۔ 

 نیشنل فشرمین ایسو سی ایشن کے ریاستی سیکریٹری چندرا کانت کوچریکر نے کہا کہ ساحلی پٹی کے تین اضلاع میں غیر ضروری طور پر تجارتی بندرگاہیں تعمیر کرنے جس سے ماحولیات پر تباہ کن اثرات پڑ رہے ہیں ۔ یہ سب غیر سائنٹفک منصوبے ہیں اور ان پر عمل پیرائی کے لئے وقفے وقفے سے ماہی گیروں کو ان کے علاقوں سے نکال باہر کیا جا رہا ہے ۔ 

 ماہی گیروں کے ضلع فیڈریشن کے وکاس تانڈیل نے کہا کہ الگ الگ اور ایک ایک بندرگاہ کے خلاف جد و جہد کرنے کے بجائے ساگر مالا کا جو پورا منصوبہ ہے اسی کے خلاف کھڑے ہونے کی ضرورت ہے ۔ ماہی گیروں کو ووٹنگ کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنی جد و جہد کو تیز کرنا چاہیے ۔ 

 اکھل بھارت کونکن کھاروی مہا سبھا کے صدر موہن باناولیکر نے کہا کہ ہوناور میں تجارتی بندرگاہ کے منصوبے پر عمل پیرائی روکنے کے لئے وزیر منکال وئیدیا کو توجہ دینی چاہیے ۔ 

 ماہی گیر لیڈر گنپتی مانگریکر نے کہا کہ سیاسی مفادات بھول کر اس جد و جہد میں سب کو شامل ہونا چاہیے ۔ تجارتی بندرگاہ کی مخالفت کے ابتدائی دور میں آگے آگے رہنے والے منکال وئیدیا نے وزیر بننے کے بعد اس مسئلے پر جو خاموشی اختیار کی ہے اس سے عوام میں ناراضگی پیدا ہوئی ہے ۔ 

 کمٹہ کے بابو کوبل، ہوناور پٹن پنچایت کے سابق صدر شیو راج میستا، راجیش جی تانڈیل، جگدیش تانڈیل اور دیگر ماہی گیر لیڈروں نے اس موضوع پراپنے تاثرات سامنے رکھے ۔ جس کے بعد متفقہ طور پر مندرجہ ذیل تجاویز منظور کی گئیں :

 ۱۔ ساحلی پٹی پر قوت برداشت سے زیادہ تجارتی بندرگاہیں تعمیر کرنے کی غیر سائنٹفک پالیسی سے حکومت فوری طور پر دست بردار ہوجائے ۔

 ۲۔ مجوزہ کاسرکوڈ ٹونکا تجارتی بندرگاہ کا منصوبہ فوری طور پر منسوخ کیا جائے ۔

 ۳۔ خوبصورت ساحلی پٹی اور اس کے ماحولیات کو تباہ کرنے کے بجائے اس کے تحفظ کے لئے اقدامات کیے جائیں ۔ 

 ۴۔ کاروار بندرگاہ کے توسیعی منصوبہ کو روکا جائے ۔

 ۵۔ کاسرکوڈ کے ماہی گیروں پر دائر کیے گئے مقدمات واپس لیے جائیں ۔

 ۶۔ کاسرکوڈ بندرگاہ کی تعمیر کا منصوبہ منسوخ کیے جانے کے سلسلے میں وزیر ماہی گیری اور انتظامیہ کی طرف کاسرکوڈ کے ماہی گیروں پختہ تیقن دیا جائے ، بصورت دیگر کاسرکوڈ کے ماہی گیروں نے الیکشن کے بائیکاٹ کا جو فیصلہ کیا ہے، اس کی حمایت تینوں اضلاع کی ماہی گیروں کی طرف سے کی جائے گی ۔ اور الیکشن کے بعد پورے ساحلی علاقے میں زبردست احتجاج شروع کیا جائے گا ۔ 

 ۷۔ دھرمستھلا کی طرف سے کاسرکوڈ میں چینابھیراوی تھیم پارک تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سرکاری کی طرف سے اس منصوبے کو منظوری دی جائے اور اس کے لئے ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں ۔  

ایک نظر اس پر بھی

کمٹہ کے تدڑی میں سیاحوں کی کشتی ڈوبنے کا معاملہ : محکمہ ٹورازم کی کارروائی - 21 ٹورسٹ بوٹس کا لائسنس منسوخ

تعلقہ کے تدڑی موڈنگی میں سیاحوں کی کشتی ڈوبنے کا جو معاملہ پیش آیا تھا اس پر محکمہ سیاحت کی طرف سے کارروائی کی گئی اور غیر قانونی طور پر یا لائسنس کی تاریخ ختم ہونے کے باوجود چلائی جا رہی ٹورسٹ بوٹس کے اجازت نامے عبوری طور پر منسوخ کر دئے گئے۔ 

مرڈیشور بستی مکّی میں جنگلاتی زمین پر قبضہ - وزیر منکال وئیدیا پر اٹھ رہی ہیں انگلیاں - محکمہ جنگلات نے لگائی روک

مرڈیشور بستی مکّی میں موجود اتر کنڑا ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا کی صدارت میں چل رہے بینا وئیدیا اسکول سے متصل جنگلاتی زمین پر ناجائز قبضے کی کوشش کے بعد محکمہ جنگلات نے مداخلت کرتے ہوئے وہاں چل رہی کھدائی اور صفائی کے کام پر روک لگا دی ہے ، مگر اس ناجائز قبضے کے معاملے میں ...

ادیب و شاعر نفرت کی آگ کو گلزار بنانے کا کام کریں: بھٹکل میں منعقدہ شعری نشست میں سالک ندوی ‌کا‌اظہار خیال

وطن عزیز ان دنوں انتہائی اہم دور سے گزر رہا ہے۔ایک طرف تہذیبی جارحیت نے ان ہنگاموں کو نہایت سنگین بنا دیا ہے تو دوسری طرف فرقہ پرستی، تنگ نظری،لسانی عصبیتیں، اور طبقاتی کشمکش عروج پر ہے اور بے چہرگی کی بھیڑ میں انسانوں کا وجود ہی گم ہو گیا ہے۔

بھٹکل کی ہائی ٹیک مچھلی مارکیٹ بن گئی ہے مہاجر مزدوروں، آوارہ جانوروں اور بھکاریوں کا ٹھکانہ؛ کیا یہ ترقی کے نام پر غبن نہیں  ؟

ایسا لگ رہا ہے کہ بھٹکل میں ترقیاتی کاموں کا مطلب  ہی  حکومت کے پیسوں کا غبن کرنا  رہ گیاہے ، ایسا لگتا ہے کہ  یہاں بعض لوگ ایسے ہیں جو حکومت کی مختلف اسکیموں  کے لئے  منطور شدہ رقم  کو چور راستے سے    اپنے نام کروارہے  ہیں جس میں  بھٹکل سنتے مارکٹ کے قریب  تعمیر شدہ  ہائی ٹیک ...

سرسی : کار خریدی کے نام پر بینکوں کو دھوکہ دینے کے الزام تین افراد پر کیس درج 

کار خریدی کے نام پر بینک کو دھوکہ دینے اور نقلی دستاویزات کے ذریعے لاکھوں روپے قرضہ حاصل کرنے کے الزام میں رویش ہیگڑے، وینکٹرمنا گجانن ہیگڑے اور منی کنٹا چندرا شیکھر نائک کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے ۔