سوڈان سے ہندوستانیوں کا انخلاء جاری؛ واپس انڈیا آنے والوں میں بھٹکل کا ایک شخص بھی شامل؛ جدہ میں قائم کیا گیا ہے ٹرانزٹ کیمپ

بھٹکل یکم مئی (ایس او نیوز) سوڈان میں جاری خانہ جنگی میں پھنسے ہندوستانیوں کے بحفاظت انخلاء کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تحت اتوار اور پیر کی درمیانی رات کو بھی ایک فلائٹ جدہ سے ریاست کیرالہ کے کوچی ائرپورٹ لینڈ کر چکی ہے۔پتہ چلا ہے کہ کوچی پہنچنے والوں میں بھٹکل کا ایک شخص نصراللہ محتشم سمیت ریاست کرناٹک کے مختلف علاقوں کے 20 سے 25 لوگ بھی شامل ہیں۔
افریقی ملک سوڈان میں خانہ جنگی چھیڑنے کے بعد ایک طرف عام شہری ہلاک ہورہے ہیں وہیں سوڈان میں رہائش پذیر ہندوستانیوں سمیت تمام غیرملکی شہریوں کے بھی جان کے لالے پڑ گئے ہیں۔ ایسے میں ایک ہفتہ قبل شروع کئے گئے آپریشن کاویری کے تحت سوڈان میں پھنسے ہندوستانیوں کو سعودی عرب کے شہر جدہ لایا جارہا ہے، پھر وہاں سے ہندوستان روانہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
جدہ میں موجود انڈین ویلفئیر پیلگرمیج ویلفیر فورم (IPWF) کے سرگرم رکن اور سابق جنرل سکریٹری جناب قمر سعدا نے بتایا کہ آپریشن کاویری کے تحت سعودی حکومت کی تعاون سے اب تک قریب 2800 لوگوں کو سوڈان سے بحفاظت جدہ لاکر اُنہیں ہندوستان کے مختلف شہروں میں روانہ کیا جارہا ہے۔ ابھی بھی 470 افراد جدہ میں موجود ہیں اور انہیں بالترتیب انڈیا روانہ کیا جائے گا۔ جناب قمر سعدا جو بھٹکل کمیونٹی جدہ کے بھی سرگرم رکن ہیں نے ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جدہ میں انٹرنیشنل انڈین اسکول کو ٹرانزٹ کیمپ میں منتقل کیا گیا ہے اوراسکول میں ہی سوڈان سے لائے ہوئے ہندوستانیوں کے رہائش سمیت کھانے پینے کا بھی بہترین انتظام کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ IPWF انڈین کونسلیٹ کی ایک وِنگ ہے جس کے تحت انڈین کونسلیٹ کے تحت ملنے والی ہدایات کو لاگو کرایا جاتا ہے۔
بھٹکل کمیونٹی جدہ کے نائب صدر جناب عُبیداللہ عسکری،جو سوڈان سے جدہ پہنچنے والے نصر اللہ محتشم کا استقبال کرنے انٹرنیشنل انڈین اسکول پہنچے تھے، نے بتایا کہ اتوار کو انڈین نیوی جہاز پر قریب 350 لوگوں کا انخلاء کراتے ہوئے اُنہیں جدہ پہنچایا گیاہے، جس میں سے 186 لوگوں کو اتوار رات کو ہی بذریعہ اسپائس جٹ کوچی روانہ کیا گیا ہے۔ جناب عُبیداللہ کے بقول، نصر اللہ نے اُنہیں بتایا کہ اُس کا موبائل فون سوڈان میں چھینا گیا ہے، البتہ انڈین ہونے کی بناء پر اُسے چھوڑ دیا گیا، نصراللہ قریب چھ کلو میٹر تک پیدل چل کر انڈین نیوی سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوا جس کے بعد انڈین نیوی نے اسے جدہ پہنچادیا۔جناب عُبیداللہ عسکری نے بتایا کہ بھٹکل سے تعلق رکھنے والے نصراللہ محتشم کے بھائی اعجاز محتشم اپنی فیملی کے ساتھ ابھی بھی سوڈان میں ہی موجود ہیں۔ جناب عُبیداللہ عسکری کے مطابق جدہ میں جب سے آپریشن کاویری کے تحت ہندوستانیوں کو سوڈان سے نکال کر جدہ لایا جارہا ہے، جماعت کے سرگرم رکن جناب قمر سعدا صاحب دن رات ہندوستانیوں کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اریندم باغچی نے ٹویٹ کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ہندوستانیوں کو گھر واپس لانے کے لئے جاری کئے گئے آپریشن کاویری کے تحت 186 مسافرکوچی پہنچ چکے ہیں۔ اس سے قبل اتوار کو 229 ہندوستانی بنگلورو پہنچے تھے جبکہ ایک دن پہلے 365 لوگ دہلی پہنچ گئے تھے۔ انخلاء مشن کے تحت جمعہ کو بھی 754 افراد دو بیچوں میں ہندوستان پہنچ چکے ہیں۔ اس طرح سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2,140 ہندوستانیوں کو وطن واپس لایا گیا ہے۔
'آپریشن کاویری' کے تحت، ہندوستانی فوج اپنے شہریوں کو بسوں کے ذریعے خرطوم اور دیگر شورش زدہ علاقوں سے پہلے پورٹ سوڈان لے جا رہے ہیں جہاں سے انہیں ہندوستانی فضائیہ کے ہیوی لفٹ ٹرانسپورٹ طیاروں میں سعودی عرب کے شہر جدہ لے جایا جا رہا ہے۔
بتاتے چلیں کہ افریقی ملک سوڈان میں گزشتہ 15 دنوں سے فوج اور پیرا ملٹری گروپ کے درمیان لڑائی جاری ہے جس میں اب تک چار سو سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں ہلاک شدگان میں درجنوں فوجی بھی شامل ہیں، جبکہ سینکڑوں لوگ زخمی بھی ہیں۔۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں فوج اور پیرا ملٹری فورسز کے دستوں کی ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر گولہ باری اور گولیاں برسانے کا سلسلہ جاری ہے اور شہر کے مختلف حصوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایسے میں گھروں میں محصور لوگوں کو خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سوڈان میں فوج اور ایک طاقت ور پیرا ملٹری فورس کے درمیان اقتدار کی لڑائی خانہ جنگی کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کے نتیجے میں عام شہری ہلاک ہورہے ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سوڈان میں فوج اور ایک طاقت ور پیرا ملٹری فورس کے درمیان اقتدار کی لڑائی چل رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سوڈان میں اقتدار سول حکمرانوں کو واپس کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ تاہم اس تجویز پر عملدرآمد آر ایس ایف نامی پیرا ملٹری فورس کو باقاعدہ فوج میں ضم کرنے کے معاملے کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔ آر ایس ایف چاہتی ہے کہ یہ کام 10 سال تک ملتوی کیا جائے تاہم فوج دو سال کے اندر اندر آر ایس ایف کو ضم کرنا چاہتی ہے۔ ایک تنازع اس بات پر بھی ہے کہ ضم ہو جانے کے بعد نئی فوج کی قیادت کون سنبھالے گا۔ آر ایس ایف کے فوجیوں کی تعداد تقریبا ایک لاکھ ہے اور آر ایس ایف کے سربراہ جنرل ہمدان ملک کے نائب صدر بھی ہیں۔ اس فورس کو 2013 میں تشکیل دیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ 2021 میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں نئی حکومت تشکیل پائی تھی جس میں فوجی جنرل ایک کونسل کے تحت ملک کا نظام چلاتے ہیں۔ اس سے قبل عسکری اور سول رہنماوں کے درمیان شراکت اقتدار کے معاہدے کے تحت ملک کا نظام چلایا جا رہا تھا جو اس وقت شروع ہوا جب سوڈان پر طویل عرصے تک حکومت کرنے والے عمر البشیر کو اقتدار سے نکال دیا گیا تھا۔