بینگلورمیں کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ کی اہم نشست؛ آنے والے پارلیمانی انتخابات میں مسلم ووٹ فیصلہ کن

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 12th January 2024, 9:18 PM | ریاستی خبریں |

بینگلور 12جنوری (ایس او نیوز/طلحہ سدی باپا)آنے والے پارلیمانی انتخابات میں  مسلمانوں کے ووٹ فیصلہ  کن رول ادا کرسکتے ہیں، جس طرح اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں نے متحد ہوکر سیکولر پارٹی کے حق میں ووٹنگ کی، آئندہ بھی اگر مسلمان متحد ہوکر کسی ایک سیکولر پارٹی کے لئے ووٹنگ کریں تو فرقہ پرستوں کے منصوبے خاک میں مل سکتے ہیں۔ اسی فکر کو لے کر بینگلور میں کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ کی نشست منعقد کی گئی جس میں اس بات پر زوردیا گیا کہ آنے والے پارلیمانی انتخابات میں مسلمانوں میں ووٹنگ کے تعلق سے بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں محاذ کے کنوینر جناب مسعود عبدالقادر نے بتایا کہ پچھلے ٢٥ سالوں سے  کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے جدوجہد کرنے اورسیاسی شعور کی بیداری کے لئے کوشش کر رہا ہے۔

شاداب شادی محل بنگلور میں منعقدہ اس نشست میں ریاست سے منتخب علماء ،دانشوران اورمختلف جماعتوں کے ذمہ داران شریک ہوئے، جنہوں نے موجودہ حالات پر نگاہ  دوڑاتے ہوئے اپنے اپنے تاثرات پیش کئے۔ مولانا مفتی محمد حسین صدر جمیعت علماء بنگلور نے افتتاحی کلمات پیش کئے۔ انجنیئرایس امین الحسن صاحب نائب امیر جماعت اسلامی ہند نے موجودہ حالات اور ہماری ذمہ داری کے عنوان پر اظہار خیال کرتے ہوۓ کہا کہ ملک میں بہت بڑی تعداد اچھے اور سمجھدار لوگوں کی ہے، برادران وطن ملکی حالات پر فکر مند ہیں، ہم سب کو مل جل کر ملک کی ترقی کے لئے کوشش کرنا ہوگا۔ جناب محمد یوسف کنی جوائنٹ کنوینر محاذ نے 2024 کے پارلیمانی انتحابات کا منصوبہ پیش کیا۔  مولانا حافظ و قاری ذوالفقار نوری صاحب مہتمم جامعہ حضرت بلال اہل سنت والجماعت بنگلور، حضرت مولانا اعجاز احمد ندوی صاحب خطیب و امام مسجد چار مینار اہل حدیث بنگلور،ڈاکٹر بلگامی محمد سعد صاحب أمیر حلقہ جماعت اسلامی ہند کرناٹکا،مولانا عبدالرحیم رشیدی صدر جمیعت علماء  کرناٹکا (الف) حضرت مولانا مقصود عمران رشادی خطیب و امام سٹی جامع مسجد بنگلور اور مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی صاحب صدر جمیعت علماء کرناٹکا (میم)  سمیت جناب نور شریدھر وغیرہ نے اپنے  اپنے تاثرات پیش کئے۔ جناب سید اقبال احمد سیکریٹری محاذ نے قرارداد پیش کی جسے شرکاء نے منظوری دی۔

مولانا مفتی ذین العابدین رشادی صاحب مہتمم مدرسہ شاہ ولی اللہ بنگلور کی دعا اور جناب ملک منصوراحمد عرف دادو بھائی خاذن جمیعت اہل حدیث کرناٹک و گوا کے اظہار تشکر پر اجلاس اختتام پر پہنچا۔ حافظ محب اللہ امین سیکریٹری جمیعت علماء کرناٹکا نے نظامت کا فریضہ انجام دیا. جناب تنویراحمد شریف جوائنٹ کنوینر محاذ ،جناب اعجازاحمد بخاری ،جناب محمد ناصرسیکریٹری ایس آئی او کرناٹکا،جناب شفع احمد، جناب اعجازاحمد، حافظ محمد فاروق صاحب، ڈاکٹر عبدالقدیرصاحب بیدر، جناب اکبرعلی، جناب اللہ بخش آمیری صاحب سمیت 250 سے زائد اہم شخصیات شریک رہے۔

           قرار داد:
ریاست کے مسلمانوں کا اجتماعی وفاق کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ ریاست کی موجودہ صورتحال کو  اطمینان بخش سمجھتا ہے۔ بڑی جدوجہد کے بعد فسطائی اور فرقہ پرست طاقتوں کے سیاسی  اقتدار سے راحت پائی ہے۔ بجا طور پر سماجی سطح پر بھی اس کے اچھے اثرات نظر آتے ہیں ۔ 

اکثریت کی ناراضگی کے خوف اور اقلیت نوازی کی طمع سے اوپر اٹھ کر قانون کی حکمرانی،  عدل و انصاف اور سماجی بہبود کے تقاضوں کو پورا کرنا ہی حکومت کی پہچان ہونا چاہئے۔  سرے دست موجودہ حکومت میں یہ عوامل پائے جاتے ہیں ۔جن کے سبب ریاست کی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔  تاہم شر پسندوں کی سر گرمیاں اور  مختلف سطح پر ان کے اثرات باقی ہیں ۔ حکومت کو چاہئے کہ پیش بندی اور چوکسی سے کام لے کر فرض شناسی اور پاسداری کی مثال قائم کرے۔

سماج میں انسانیت نواز اور امن کے متوالوں کی خاصی تعداد پائی جاتی ہے۔ طلبا، دانشور، مذہبی رہنما،سماجی کارکن، صحافی،  مرد و خواتین بے لوث خدمت میں لگے ہوئے ہیں ۔ مسلم متحدہ محاذ ان کی کوششوں کو قدر کی نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ 

ملت اسلامیہ بلا شبہ ہلکی اور کبھی کڑی آزمائشوں سے دوچار ہے۔ لیکن حوصلہ اور ہمت، صبر اور حکمت، اتحاد اور اتفاق، خود اعتمادی اور توکل علی اللہ کے ذریعے بہتر تبدیلی لائی جاسکتی ہے ۔ متحدہ محاذ ملت کے نوجوانوں سے تعمیری اور مثبت طرز عمل کی توقع کرتا ہے۔ 
اس وقت ملک گیر سطح پر مذہب کی آڑ میں سیاسی اقتدار کو وسعت دینے کے لئے نت نئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ ملت اسلامیہ کو بالخصوص نوجوانوں کو نہایت ہوش مندی، بصیرت سے کام لینا چاہئے۔ مسلم متحدہ محاذ نوجوانوں سے اپیل کرتا ہے کہ جذبات کو بھڑکانے والی حرکتوں سے ہوشیار رہیں ۔ صبر و ضبط اور ایمان و یقین کے ساتھ کام لیں۔

ریاست کرناٹکا ایک پر امن ریاست ہے،برسوں سے مختلف مذاہب اور طبقات کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ملجل کر اوربھائی چارہ سے رہتے ہیں،فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط کرنے کے لئے کوشش کرنے کی ضرورت ہے،اس موقع ہم دلت، مسلم، لنگایت، وکلیگاز، کربا، کرسچن، بودھسٹ، جین، سکھ، آریہ، برہمن، پارسی کےعلاوہ ریاست کے کسانوں اورمزدوروں سے اپیل کرتے ہیں کہ ریاست میں بھائی چارہ کے فروغ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط کرنے اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوکر انہیں حق و انصاف دلانے کوشش کرتے رہیں، یقیناً ہمارے ان اقدامات سے ریاست میں امن ہوگا اورہماری ریاست ایک خوشحال ریاست بنے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی نے کانگریس ایم ایل اے کو 50 کروڑ روپے کی پیشکش کی؛ سدارامیا کا الزام

کرناٹک کے وزیر اعلی سدارامیا نے ہفتہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام لگایا کہ وہ کانگریس کے اراکین اسمبلی کو وفاداری تبدیل کرنے کے لیے 50 کروڑ روپے کی پیشکش کرکے 'آپریشن لوٹس' کے ذریعے انکی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں ملوث ہے۔

لوک سبھا انتخاب 2024: کرناٹک میں کانگریس کو حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ ہے

کیا بی جے پی اس مرتبہ اپنی 2019 لوک سبھا انتخاب والی کارکردگی دہرا سکتی ہے؟ لگتا تو نہیں ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ اول، ریاست میں کانگریس کی حکومت ہے، اور دوئم بی جے پی اندرونی لڑائی سے نبرد آزما ہے۔ اس کے مقابلے میں کانگریس زیادہ متحد اور پرعزم نظر آ رہی ہے اور اسے بھروسہ ہے ...

تعلیمی میدان میں سرفہرست دکشن کنڑا اور اُڈپی ضلع کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

ریاست میں جب پی یوسی اور ایس ایس ایل سی کے نتائج کا اعلان کیاجاتا ہے تو ساحلی اضلاع جیسےدکشن کنڑا  اور اُ ڈ پی ضلع سر فہرست ہوتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ساحلی ضلع جسے دانشوروں کا ضلع کہا جاتا ہے نے ریاست میں بہترین تعلیمی کارکردگی حاصل کی ہے۔

این ڈی اے کو نہیں ملے گی جیت، انڈیا بلاک کو واضح اکثریت حاصل ہوگی: وزیر اعلیٰ سدارمیا

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے ہفتہ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ لوک سبھا انتخاب میں این ڈی اے کو اکثریت نہیں ملنے والی اور بی جے پی کا ’ابکی بار 400 پار‘ نعرہ صرف سیاسی اسٹریٹجی ہے۔ میسور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سدارمیا نے یہ اظہار خیال کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ...