بی جے پی کو صرف اقتدار چاہئے، عوام کی فلاح نہیں سدارامیا کو اس بار بھی بادامی سے ہی انتخاب لڑنا چاہئے: ضمیر احمد خان

Source: S.O. News Service | Published on 21st November 2022, 11:48 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو ،21؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) ملک اور ریاست میں برسر اقتدار بی جے پی کے لئے عوام کے مفادات سے کچھ لینا دینا نہیں۔ ہندو یا مسلمان جو بھی ہو ان تمام کے مذہبی جذبات کو بھڑکا کر بی جے پی صر ف اور صرف اس کے ذریعہ اقتدارپر اپنی پکڑ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ بات سابق ریاستی وزیر اور چامراج پیٹ حلقہ کے رکن اسمبلی بی زیڈ ضمیر احمد خان نے کہی۔

جمکھنڈی میں ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی کوشش ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ تمام طبقات کو ساتھ میں لے کر آگے بڑھاجائے،جبکہ بی جے پی کی کوشش ہمیشہ سے دوسری سیاسی جماعتو ں کو توڑ کر اقتدار پر قبضہ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس ہمیشہ ریاست کی ترقی کے لئے فکر مند رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ تمام برادران وطن کو ساتھ میں لے کر ریاست اور ملک کی ترقی کے لئے کام کریں۔ ایسی کوئی حرکت نہ کریں جس سے پوری قوم کو شرمندگی اٹھانی پڑے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کو اس بار بھی شمالی کرناٹک کے بادامی اسمبلی حلقہ سے ہی انتخاب لڑنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار اس حلقہ سے سدارامیا کو از کم 50ہزار ووٹوں کی برتری سے کامیابی ہونی چاہئے۔

شمالی کرناٹک کے لئے بار بار آنے جانے کے لئے سدارامیا کو پریشانی کے بارے میں ضمیر احمد نے کہا کہ اس کے لئے مقامی لوگوں سے چندہ کر کے سدارامیا کے لئے ایک ہیلی کاپٹر خریدا جائے گا،تاکہ وہ آسانی سے آجا سکیں۔ اس موقع پر جمکھنڈی کے رکن اسمبلی آنند نیامے گوڑا نے ضمیر احمد خان کا پرزور استقبال کیا۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی نے کانگریس ایم ایل اے کو 50 کروڑ روپے کی پیشکش کی؛ سدارامیا کا الزام

کرناٹک کے وزیر اعلی سدارامیا نے ہفتہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام لگایا کہ وہ کانگریس کے اراکین اسمبلی کو وفاداری تبدیل کرنے کے لیے 50 کروڑ روپے کی پیشکش کرکے 'آپریشن لوٹس' کے ذریعے انکی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں ملوث ہے۔

لوک سبھا انتخاب 2024: کرناٹک میں کانگریس کو حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ ہے

کیا بی جے پی اس مرتبہ اپنی 2019 لوک سبھا انتخاب والی کارکردگی دہرا سکتی ہے؟ لگتا تو نہیں ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ اول، ریاست میں کانگریس کی حکومت ہے، اور دوئم بی جے پی اندرونی لڑائی سے نبرد آزما ہے۔ اس کے مقابلے میں کانگریس زیادہ متحد اور پرعزم نظر آ رہی ہے اور اسے بھروسہ ہے ...

تعلیمی میدان میں سرفہرست دکشن کنڑا اور اُڈپی ضلع کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

ریاست میں جب پی یوسی اور ایس ایس ایل سی کے نتائج کا اعلان کیاجاتا ہے تو ساحلی اضلاع جیسےدکشن کنڑا  اور اُ ڈ پی ضلع سر فہرست ہوتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ساحلی ضلع جسے دانشوروں کا ضلع کہا جاتا ہے نے ریاست میں بہترین تعلیمی کارکردگی حاصل کی ہے۔

این ڈی اے کو نہیں ملے گی جیت، انڈیا بلاک کو واضح اکثریت حاصل ہوگی: وزیر اعلیٰ سدارمیا

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے ہفتہ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ لوک سبھا انتخاب میں این ڈی اے کو اکثریت نہیں ملنے والی اور بی جے پی کا ’ابکی بار 400 پار‘ نعرہ صرف سیاسی اسٹریٹجی ہے۔ میسور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سدارمیا نے یہ اظہار خیال کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ...