کولارمیں کانگریس کی الجھن ختم؛ گوتم کو بنایا امیدوار

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 31st March 2024, 5:45 PM | ریاستی خبریں |

بینگلورو31 / مارچ (ایس او نیوز) کانگریس ہائی کمان نے کولار میں سابق اسپیکر رمیش کمار اور سابق وزیر منی اپّا گروہ بندی کی وجہ سے پیدا ہوئی الجھن اورتذبذب کوختم کرتے ہوئے پارلیمانی انتخاب کے لئے کے وی گوتم کواپناامیدوار بنانے کا اعلان کردیا۔

کانگریس کے لئے اس سیٹ پرامیدوارمنتخب کرنا ایک مسئلہ بن گیا تھا کیونکہ وزیرمُنی اپّا اپنے داماد چیکا پیدنّا کو ٹکٹ دلانے کے لئے کانگریسی صدرملیکارجن کھرگے سے اصرارکررہے تھے لیکن چیکا پیدنّا کو ٹکٹ دینے کی مخالفت میں کولار ضلع کے اراکین اسمبلی نے اجتماعی طورپرمستعفی ہونے کا اشارہ دیا تھا۔

اسی الجھن کے چلتے کانگریس نے سب سے آخر میں کولار سیٹ پر اپنے امیدوار کے طور پر گوتم کے نام کا اعلان کیا ، اور اس دوڑ میں وزیر منیپّا کے داماد کا نمبر نہیں نکل سکا۔ اس پراپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مُنی اپّا نے کہا کہ ہائی کمان نے میرے داماد کو ٹکٹ پر رضا مندی ظاہرکی تھی مگراراکین اسمبلی کی مخالفت کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ بالآخر گوتم کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ اس سے مجھے کوئی ناراضی نہیں ہے۔ میں پارٹی کے لئے اپنے حلقے میں کام کروں گا۔ کولارمیں کانگریس پارٹی کو جیت دلانے کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

ادھر اپنے نام کا اعلان ہونے کے بعد کے وی گوتم نے کہا کہ مجھے ایک بہترین موقع ملا ہے۔ یہ درست بات ہے کہ ضلع کانگریس میں اختلافات ہیں، لیکن کوئی بھی میری مخالفت نہیں کر رہا ہے۔ رمیش کماراورمُنی اپّا دونوں لیڈروں سے میرے اچھے تعلقات ہیں۔ سب لوگ میرے حق میں کام کریں گے اور کولارحلقے میں کانگریس کو صد فی صد جیت حاصل ہوگی۔

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی نے کانگریس ایم ایل اے کو 50 کروڑ روپے کی پیشکش کی؛ سدارامیا کا الزام

کرناٹک کے وزیر اعلی سدارامیا نے ہفتہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر الزام لگایا کہ وہ کانگریس کے اراکین اسمبلی کو وفاداری تبدیل کرنے کے لیے 50 کروڑ روپے کی پیشکش کرکے 'آپریشن لوٹس' کے ذریعے انکی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں ملوث ہے۔

لوک سبھا انتخاب 2024: کرناٹک میں کانگریس کو حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ ہے

کیا بی جے پی اس مرتبہ اپنی 2019 لوک سبھا انتخاب والی کارکردگی دہرا سکتی ہے؟ لگتا تو نہیں ہے۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ اول، ریاست میں کانگریس کی حکومت ہے، اور دوئم بی جے پی اندرونی لڑائی سے نبرد آزما ہے۔ اس کے مقابلے میں کانگریس زیادہ متحد اور پرعزم نظر آ رہی ہے اور اسے بھروسہ ہے ...

تعلیمی میدان میں سرفہرست دکشن کنڑا اور اُڈپی ضلع کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

ریاست میں جب پی یوسی اور ایس ایس ایل سی کے نتائج کا اعلان کیاجاتا ہے تو ساحلی اضلاع جیسےدکشن کنڑا  اور اُ ڈ پی ضلع سر فہرست ہوتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ساحلی ضلع جسے دانشوروں کا ضلع کہا جاتا ہے نے ریاست میں بہترین تعلیمی کارکردگی حاصل کی ہے۔

این ڈی اے کو نہیں ملے گی جیت، انڈیا بلاک کو واضح اکثریت حاصل ہوگی: وزیر اعلیٰ سدارمیا

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے ہفتہ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ لوک سبھا انتخاب میں این ڈی اے کو اکثریت نہیں ملنے والی اور بی جے پی کا ’ابکی بار 400 پار‘ نعرہ صرف سیاسی اسٹریٹجی ہے۔ میسور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سدارمیا نے یہ اظہار خیال کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ...