جنسی ہراسانی کے معاملے میں ہمیشہ مرد ہی قصوروار نہیں ہوتے، الہ آباد ہائی کورٹ کا اہم تبصرہ

Source: S.O. News Service | Published on 15th June 2024, 12:27 PM | ملکی خبریں |

الہ آباد ، 15/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) الہ آباد ہائی کورٹ نے جنسی استحصال کے ایک معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ جنسی ہراسانی سے متعلق قوانین خواتین کو پیشِ نظر رکھ کر بنائے گئے ہیں۔ اس کا مقصد خواتین اور لڑکیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہر معاملے میں مرد ہی قصوروار ہوتے ہیں۔ ایسے معاملات میں ثبوت پیش کرنا مرد اور عورت دونوں کی ذمہ داری ہے۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایسا کوئی فارمولہ نہیں ہے جس کے ذریعے یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ عورت کے ساتھ جسمانی تعلقات شادی کے جھوٹے وعدے پر قائم ہوئے یا دونوں کی رضامندی سے۔ انفرادی معاملات میں حقائق کے تجزیے سے ہی یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ عورت سے جسمانی تعلق قائم کرنے والا مرد قصوروار ہے یا نہیں۔ اس تبصرے کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے جنسی استحصال اور ایس سی/ ایس ٹی ایکٹ کے ملزم نوجوانوں کو بری کرنے کے سیشن کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے شکایت کنندہ خاتون کی اپیل کو مسترد کر دیا۔

یہ معاملہ پریاگ راج (الہ آباد) کے کرنل گنج علاقے کا ہے۔ یہاں رہنے والی ایک لڑکی کی 2010 میں شادی ہوئی تھی۔ شادی کے دو سال بعد وہ اپنے شوہر سے علاحدہ ہو کر اور طلاق لیے بغیر اپنے والدین کے گھر جا کر رہنے لگی۔ 2019 میں اس نے پولیس میں شکایت درج کرائی کہ ایک نوجوان شادی کے بہانے اس کے ساتھ گزشتہ پانچ سالوں سے جسمانی تعلقات بنا رہا ہے۔ اس شکایت پر ملزم نوجوان کے خلاف عصمت دری اور ایس سی/ ایس ٹی ایکٹ سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ اس سال فروری میں الہ آباد کے سیشن کورٹ نے اس ملزم نوجوان کو عصمت دری اور دیگر سنگین دفعات سے بری کر دیا تھا۔

سیشن کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف خاتون نے الہ آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس راہل چترویدی اور جسٹس نند پربھا شکلا کی ڈویژن بنچ نے سیشن کورٹ کے فیصلے کو درست مانتے ہوئے ملزم نوجوانوں کو بری کرنے کے فیصلے کو اپنی منظوری دے دی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خاتون پہلے سے شادی شدہ تھی۔ اسے جسمانی تعلقات کے بارے میں اچھی طرح معلومات تھیں۔ شوہر سے طلاق لیے بغیر دوسری شادی کے وعدے پر راضی ہونا بالکل مناسب نہ تھا۔ صرف شادی کے وعدے پر پانچ سال تک جسمانی تعلقات رکھنا عملی طور پر ممکن نہیں۔

عدالت نے کہا کہ اس بات پراعتماد نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی عورت اپنے شوہر کو طلاق دیے بغیر دوسری شادی کے لیے کسی مرد کو پانچ سالوں تک جسمانی تعلق کی اجازت دیتی رہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ مرد اور عورت دونوں بالغ تھے اور جسمانی تعلقات کے نتائج کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ ایسے میں صرف مرد کو ہی مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

ایک نظر اس پر بھی

کووڈ میں شرح اموات ظاہر کرنے والی رپورٹس غیر مصدقہ اور گمراہ کن

صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت نے کہا ہے کہ سائنس جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع مطالعہ سے کووڈ کی مدت کے دوران 2020 میں سب سے زیادہ اموات کو ظاہر کرنے والی رپورٹ غیر مصدقہ اور ناقابل قبول اندازوں پر مبنی ہیں۔

علاقائی سیاسی پارٹیوں کمائی اور خرچ کی رپورٹ جاری

ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز نے اپنی حالیہ جاری کردہ رپورٹ میں ملک کی 57 علاقائی جماعتوں میں سے 39 علاقائی جماعتوں کی آمدنی اور اخراجات کی رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2022-23 کی آمدنی اور اخراجات کے لحاظ سے کون سی پارٹی اوپر اور نیچے ہے۔ کس نے کتنا عطیہ وصول ...

جیتن سہنی قتل کے سلسلے میں مزید 3 ملزمان گرفتار، ایس ایس پی کے مطابق جائے وقوعہ سے اہم دستاویزات برآمد

  وکاسشیل انسان پارٹی (وی آئی پی) کے سربراہ مکیش سہنی کے والد کے قتل کیس میں پولیس نے مزید 3 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاری کلیدی ملزم کاظم انصاری کی نشان دہی پر کی گئی ہے۔ دربھنگہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جگوناتھ ریڈی نے یہ اطلاع دی۔

آئی اے ایس پوجا کھیڈکر تنازعہ کے درمیان یو پی ایس سی کے چیئرمین منوج سونی عہدے سے مستعفی

  یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) کے چیئرمین منوج سونی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی مدت ملازمت پوری ہونے سے قبل ہی اپنا استعفی صدر کو ارسال کر دیا ہے۔

کیجریوال جان بوجھ کر کم کیلوری والا کھانا لے رہے ہیں، ایل جی کا الزام، عآپ کا شدید ردعمل

عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی صحت سے متعلق لیفٹیننٹ گورنر ونے سکسینہ کے چیف سکریٹری کو لکھے گئے خط پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایل جی کو نشانہ بناتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ ایل جی یہ کیا مذاق کر رہے ہیں؟ کیا کوئی آدمی رات کو شوگر کم ...

نیٹ پر سپریم کورٹ کے حکم کے بعد این ٹی اے نے آن لائن اپ لوڈ کئے مرکز اور شہر وار نتائج

نیٹ پر سپریم کورٹ کے حکم کے بعد این ٹی اے نے نیٹ یو جی طلباء کے مرکز اور شہر وار نتائج کو آن لائن اپ لوڈ کر دیا ہے۔ نتائج اپلوڈ کرنے کے لئے ہفتہ کی دوپہر 12 بجے تک کا وقت دیا گیا تھا۔ تاہم، سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس جے بی پاردیوالا اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے واضح کیا تھا کہ ان ...