غزہ کیلئے لندن میں تاریخی مارچ، نئی حکومت پر دباؤ، انتخابی نتائج کو نسل کشی کے خلاف برطانوی عوام کا فیصلہ قراردیاگیا

Source: S.O. News Service | Published on 8th July 2024, 11:37 AM | عالمی خبریں |

لندن، 8/جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی) لندن میں  نئی حکومت کے تشکیل پاتے ہی دسیوں ہزار افراد نے ’’قومی مارچ برائے فلسطین‘‘ کا انعقاد کرکے اس پر دباؤ ڈالا کہ وہ غزہ میں  فلسطینی شہریوں  کی نسل کشی کو روکنے کیلئے اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی بند کرے اور فوری جنگ بندی کی کوشش کرے۔ ’پالیسٹائن سولیڈیریٹی کیمپین‘ ـ( پی ایس سی) کے بینر تلے سنیچر کی دوپہر کو دسیوں  ہزار افراد رسیل اسکوائر پر اکٹھا ہوئے اور پارلیمنٹ اسکوائر تک مارچ کیا۔ یہ مارچ جو غزہ پر اسرائیلی حملوں   کے ۹؍ ماہ مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کیاگیا، برطانیہ میں  فلسطین کیلئے ہونے والے اب تک کے سب سے بڑے مارچ میں  سے ایک ہے۔ 

 مارچ میں  شامل مظاہرین سے برطانوی پارلیمنٹ کے قریب برطانیہ میں  فلسطینی سفارتکار ہشام ایس زوملوٹ نے بھی خطاب کیا۔ انہوں  نےکیئر اسٹارمر کی قیادت میں نومنتخب لیبر حکومت کو باور کرایا کہ انتخابی نتائج دراصل غزہ میں  نسل کشی کے خلاف فلسطینی عوام کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’برطانوی شہریوں نے نسل کشی کے خلاف فیصلہ سنایا ہے۔ نئی حکومت کو چاہئے کہ وہ ان کی بات کو سنیں۔ اسے فوری طور پرفلسطین کو علاحدہ ریاست کے طور پرتسلیم بھی کرلینا چاہئے۔ ‘‘ مقررین میں  اِسلنگٹن نارتھ پارلیمانی حلقہ سے جیتنے والے فلسطین حامی لیڈرجیرمی کوربن بھی تھے۔ انہوں   نے کہا کہ ’’ہم نے ٹوریز(سابقہ کنزریٹیو حکومت) سے بھی کہاتھا اور اب ہم لیبر سےبھی یہی بات کہیں گے کہ اسرائیل کو ہتھیار فروخت کرنے والی حکومت انسانیت کے خلاف جرائم میں   برابر کی شریک ہے۔ ‘‘انہوں  نے نشاندہی کی کہ برطانیہ کے پارلیمانی الیکشن میں فلسطین اہم موضوع تھا اور وہ نتائج پر بھی اثر انداز ہوا ہے۔ 

 مظاہر میں شامل فلسطینی ڈاکٹر غسان ابوستہ نے اسرائیل کی ظالمانہ بمباری کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹے رہنے اور غزہ خالی نہ کرنے والے فلسطینی شہریوں  کی مزاحمت اور بہادری کو سلام کرتے ہوئے کہا کہ’’ہم ۹؍ مہینے سے جاری بہادری کا بھی یہاں  جشن مناتے ہیں۔ ۹؍ ماہ سے امریکہ نے، برطانیہ نے اور دیگر ملکوں   نے اسرائیل کو جوکچھ بھی فراہم کیا فلسطینی عوام نے اس کا بہادری سے سامنا کیا ہے۔ ‘‘

  اُدھر غزہ میں  اسرائیلی حملوں کے ۹؍ ماہ مکمل ہونے کے موقع پر صہیونی حکومت کے طیاروں نے شام ہوتے ہوتے اچانک پورے غزہ پر حملے تیز کردیئے ہیں۔ اتوار کو پھر ا وسطی غزہ میں  اسرائیل نے اقوام متحدہ کے شیلٹر کو نشانہ بنایاجس میں   ۱۶؍ جاں  بحق ہوگئے۔ اس کے علاوہ شام کو دیر البلح  کے قریب بمباری میں  ۶؍ افراد جاں  بحق ہوئے ہیں۔ شمالی شہر المینا میں  اسرائیلی بمباری کے بعد عمارت سے مزید لاشیں  برآمد ہوئی ہیں۔ جنوب میں۳؍ ایسی لاشیں  ملی ہیں جن کے ہاتھوں  پر ہتھ کڑی لگی ہوئی تھی۔  

ایک نظر اس پر بھی

فسادات زدہ بنگلہ دیش سے تقریباً 1000 ہندوستانی طلباء کی وطن واپسی

بنگلہ دیش میں کوٹہ سسٹم کے خلاف جاری طلباء کے احتجاج کی وجہ سے حالات بدستور تشویشناک ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تقریباً 1000 ہندوستانی طلباء وہاں سے ہندوستان واپس آ گئے ہیں۔ وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز کہا کہ اس نے ہندوستانی شہریوں کی واپسی کے لیے تمام انتظامات کئے۔ ...

بنگلہ دیش کوٹہ سسٹم احتجاج: 100 سے زائد افراد ہلاک، 2500 زخمی، ملک بھر میں کرفیو، سڑکوں پر فوج کا پہرہ

بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے طلباء کا پرتشدد احتجاج جاری ہے۔ چند ہفتے قبل ملک بھر میں شروع ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں اب تک 105 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

نیپال لینڈ سلائڈنگ حادثہ: اب تک 4 ہندوستانیوں سمیت 19 افراد کی لاشیں برآمد، راحت و بچاؤ کاری کا عمل جاری

گزشتہ ہفتہ نیپال کے چتون ضلع میں لینڈ سلائڈنگ کے بعد دو بسیں طغیانی مارتی ہوئی ندی میں بہہ گئی تھیں جس میں سوار لوگوں کی لاشیں برآمد ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ دراصل لینڈ سلائڈنگ کے بعد تباہی جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں اور فوجیوں کو راحت و بچاؤ کاری میں کافی دقتیں پیش آ رہی ہیں۔ ...

بنگلہ دیش: ملازمتوں میں ریزرویشن کے خلاف پرتشدد مظاہرے، 6 افراد ہلاک، 100 سے زیادہ زخمی

  بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں میں ریزرویشن کے خلاف بڑے پیمانے پر پرتشدد مظاہرے ہو رہے ہیں اور ہزاروں طلبا کوٹہ سسٹم کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مظاہروں کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں 6 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ 100 سے زائد مظاہرین کے ...