سفاک انسان ژو ہائیلون:    جو دس لاکھ ایغور مسلمانوں کے قید و بند کا قصور وار ہے 

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 2nd December 2019, 10:55 PM | عالمی خبریں |

لندن، یکم دسمبر(آئی این ایس انڈیا) دس برس قبل ہونے والے نسلی فسادات نے چین کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس وقت کمیونسٹ پارٹی اپنی ہی صفوں میں موجود ایک نادر شخصیت کی طرف راغب ہوئی تاکہ امن بحال کیا جا سکے۔ یہ ہان نسل چینی اہلکار ایغوری زبان کا بھی ماہر تھا۔چین کی منظر عام پر آنے والی خفیہ دستاویزات کے مطابق عہدیدار ژ و ہائیلون نے ایغور مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بندی، حراستی مراکز اور شروع ہونے والی مہم میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ نیوز ایجنسی اے پی کی رپورٹوں کے مطابق منصوبہ سازی کی دستاویزات پر ژو ہائیلون کے دستخط ملتے ہیں اور اس کے بعد اس منصوبے کی منظوری سینکیانگ کی طاقتور لیگل افئیرز کمیشن نے دی۔نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق اکسٹھ سالہ ژو سے متعدد مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ژو ہیلون سن 1958 میں چینی کے ساحلی علاقے جیانگ سو میں پیدا ہوئے تھے۔ چین کے ہنگامہ خیز ثقافتی انقلاب کے دوران انہیں سنکیانگ کے ایک وسطی علاقے میں بھیج دیا گیا تھا، جہاں وہ اب تک رہائش پذیر ہیں۔اسی کی دہائی میں ژو ہیلون سنکیانگ کی بیوروکریسی میں شامل ہوئے اور نوے کی دہائی میں وہ ایغوری زبان پر عبور حاصل کر چکے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ مختلف میٹینگز کے دوران خود اپنے مترجم کی تصحیح کر دیتے ہیں۔ترکی میں جلاوطن ایک ایغور مسلمان کا کہنا تھا کہ اگر آپ انہیں دیکھیں نہیں صرف سنیں تو کوئی بھی اندازہ نہیں کر سکتا کہ وہ ایغور نہیں ہے۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس ایغور بزنس مین کا کہنا تھا کہ میرے دوست اس سے بہت متاثر تھے۔ ہم سمجھتے تھے کہ ہم اس چینی کے ساتھ مل کر کام کر سکتے ہیں کیوں کہ ژو بہت صلاحیتوں کا حامل ہے۔ماہر لسانیات اور ایغور مسلمان ایوب کہتے ہیں کہ ان کی ژو ہیلون  سے پہلی ملاقات سن 1998 میں ہوئی تھی۔ اس وقت ہی وہ کہا کرتا تھے کہ ایغوروں کے خلاف چھاپے رات کے تین بجے مارے جانے چاہئیں اور ہر ایغور کو یہ گانا چاہیے کہ ہیلون آ رہا ہے۔اس وقت وہ کسانوں کو فوجیوں کی طرح حکم دیتا تھا کہ ہم تمام اس کے فوجی تھے۔ ایوب مزید بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ اس نے تلاوت فوری طور پر بند کرنے کا کہا اور کہا یہ بالکل فضول ہے۔ اسی طرح ژو نے خدا کے بارے میں ایسے الفاظ کہے، جو میں بیان نہیں کر سکتا۔ایوب بتاتے ہیں کہ ژو ان کی تہذیب کا موازنہ افغان کلچر سے کرتے تھے اور اسے جدید بنانے کا کہتے تھے۔ ایوب بتاتے ہیں کہ وہ خود کو نجات دہندہ سمجھتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ وہ اس علاقے میں جدت لائے گا، ایغوروں کے لیے ایک نئی آئیڈیالوجی بنائے گا۔سن 2016 میں بیجنگ حکومت نے سنکیانگ کے لیے ایک نیا لیڈر منتخب کیا، جس کا نام چن کوانگواؤ تھا۔ اس نے آتے ہی سب سے پہلے ان افسران سے تعلقات قائم کیے، جو ایغوروں کے خلاف سخت موقف رکھتے تھے اورژو ہیلون اس کا دایاں ہاتھ ثابت ہوا۔ ژو نے نگرانی کے نظام کے لیے پہلے ہی ہوم ورک کر رکھا تھا۔ نگرانی کا ویسا ہی نیا نظام لایا گیا، جیسا تبت میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ نظام ہدف کی گرفتاری کی خودکار طریقے سے نشاندہی کر دیتا تھا۔چن کوانگواؤ کے آنے کے بعد ایغور مسلمان ہزاروں کی تعداد میں غائب ہونا شروع ہوئے۔ ساٹھ سال کی عمر میں ژو ہیلون گزشتہ برس ریٹائرڈ ہو گئے تھے لیکن ان کی پالیسیاں اب بھی جاری ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

شہریت ترمیمی بل: دستور سے کھلواڑ ........... آز: معصوم مرادآبادی

ہندوستان کے سیکولرجمہوری آئین پر ایک ایسا خطرناک ہتھوڑا چلنے والا ہے جس کی زد میں آنے والی ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کر رہ جائے گی ۔حکومت شہری قانون میں ایک ایسی تباہ کن ترمیم کرنے جارہی ہے جو مذہبی تعصب اور مسلم دشمنی کی بدترین مثال ہے۔عام خیال یہ ہے کہ مجوزہ شہریت ترمیمی بل مسلمانوں ...

  بغداد میں مسلح حملہ آوروں کے مظاہرین پرخونیں حملے کے باوجود احتجاج جاری

عراق کے دارالحکومت بغداد میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں کے خونریز حملے کے باوجود مظاہرین نے حکومت مخالف احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور وہ جنوبی شہروں میں بھی اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔بغداد میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب نامعلوم حملہ آوروں نے مظاہرین پر ...