منصورخان ہنوز لاپتہ-ایس آئی ٹی گھپلے کی جانچ کرے گی آئی ایم اے کے بانی جہاں بھی ہوں سامنے آجائیں -حکومت مسئلہ کو حل کرنے میں ہرممکن تعاون کرے گی:ضمیراحمدخان

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th June 2019, 10:25 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،12؍جون(ایس او نیوز) آئی ایم اے کمپنی میں سرمایہ لگانے والے سرمایہ کاروں کی جانب سے پولیس میں شکایات داخل کرنے کا سلسلہ ہنوز جاری ہے - شیواجی نگر کے شیواجی سرکل پر واقع اے ایس کنونشن ہال میں پولیس نے تین کاؤنٹرس کھولے ہیں -آج صبح سے شام تک تقریباً 4,500 ڈپازٹروں نے شکایات درج کرائی ہیں -اس طرح اب تک آئی ایم اے کے خلاف شکایات درج کرانے والوں کی تعداد 8ہزار سے تجاوزکرگئی ہے - ریاستی وزیربرائے امور اقلیت اوقاف حج اور شہری رسدات بی زیڈ ضمیراحمد خان کی قیادت میں مسلم فیڈریشن آف کرناٹک کے اراکین پر مشتمل ایک وفد نے آج صبح ریاستی وزیر داخلہ ایم بی پاٹل سے ملاقات کرکے آئی ایم اے کے اس دھوکہ کی تفصیلی جانچ ایس آئی ٹی کے ذریعہ کروانے کی درخواست کی اور غریب سرمایہ کاروں کا سرمایہ واپس دلانے میں حکومت کی مداخلت کا مطالبہ بھی کیا -اس کے بعد وفد نے وزیراعلیٰ کمارسوامی سے بھی ملاقات کرکے آئی ایم اے گھپلے کی منصفانہ جانچ کرکے حقائق منظرعام پر لانے کا مطالبہ کیا ہے اور اس گھپلہ میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے - اس وفد میں اراکین کونسل نصیراحمد، عبدالجبار اور رضوان ارشد بھی شامل تھے - مسلم وفد سے ملاقات کے بعد وزیراعلیٰ نے آئی ایم اے گھپلہ کی جانچ کی ذمہ داری ایس آئی ٹی کو دئے جانے کا اعلان کردیا ہے -اب ایس آئی ٹی اس پورے معاملہ کی جانچ کرے گی-

ضمیراحمد خان سرگرم:آئی ایم اے کے منیجنگ ڈائرکٹر محمد منصور خان کی آڈیو کلپ جاری ہونے کے ایک دن بعد وزیر اقلیتی بہبود کافی سرگرم ہوگئے ہیں - آج شام یہاں وکاس سودھا میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے آئی ایم اے گھپلہ کی جانچ کی نگرانی کرنے ایک وظیفہ یاب جج، فائنانس افسر، ریونیو افسراور ایک وظیفہ یاب مسلم آئی پی ایس افسر پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے - انہوں نے بتایا کہ منصور خان کے نام سے سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے والا آڈیو کلپ اصلی ہے یا فرضی اس کا پتہ لگانے یہ آڈیو کلپ لیب روانہ کی گئی ہے -انہوں نے بتایا کہ آئی ایم اے میں صرف بنگلور نہیں بلکہ ریاست کے مختلف اضلاع کے لوگوں نے بھی سرمایہ لگایا ہے - بنگلور کی طرح ریاست کے دیگر اضلاع ہیڈکوارٹروں اور تعلقہ جات کے پولیس تھانوں میں شکایات درج کروانے کی سہولت مہیا ہے -لہٰذا دیگر اضلاع کے لوگ بنگلورآکر شکایات درج کرنے کی بجائے اپنے اپنے متعلقہ پولیس تھانوں میں شکایات درج کرواسکتے ہیں -

غریبوں کی رقم واپس مل جائے:انہوں نے بتایا کہ ہزاروں غریبوں اورمزدوروں نے آئی ایم اے میں اپنی زندگی بھر کی پونجی لگائی ہے - ہماری یہ کوشش ہے کہ غریبوں کی رقم انہیں واپس مل جائے -انہوں نے کہاکہ آڈیو کلپ میں منصورخان نے ہماری پارٹی کے ایک رکن اسمبلی کا بھی نام لیا ہے جنہوں نے 400 کروڑ روپئے لئے ہیں -حالانکہ متعلقہ رکن اسمبلی نے اس الزام سے انکارکیا ہے -اتنے بڑے الزام کے بعد اس پورے معاملہ کی ایس آئی ٹی کے ذریعہ جانچ ہونی چاہئے -خاطیوں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے -ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی نہ برتی جائے - 

ضمیراحمدخان کا پیغام منصور خان کے نام:غریبوں کی رقم واپس کرنے کو تب ہی یقینی بنایا جاسکتا ہے جب منصور خان سامنے آجائیں -منصور خان سے غائبانہ مخاطب کرتے ہوئے ضمیر احمد نے کہاکہ آپ کے روپوش ہونے سے کچھ نہیں ہوگا- آپ جہاں کہیں بھی ہیں سامنے آجائیں - آپ کے بغیر غریبوں کی رقم واپس کرنا مشکل ہے - آپ سامنے آجائیں تو حکومت آپ کا تحفظ کرنے اور آپ کے مسائل حل کرنے میں بھرپور تعاون کرے گی-منصورخان صاحب جن سیاستدانوں اور افسران نے آپ سے رقم لی ہے اگر آپ نام بتائیں تو وہ رقم واپس لینے میں حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی اورآپ کا بھرپور تعاون بھی کرے گی- آپ سے جنہوں نے رقم لی ہے حکومت ان سے وصول کرے گی -آپ کو کسی سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، حکومت آپ کو مکمل تحفظ فراہم کرے گی، ڈرنے کی ہرگز ضرورت نہیں - حکومت غریبوں کو ان کے خون پسینے کی رقم واپس دلانا چاہتی ہے - جن لوگوں نے آپ کو دھوکہ دیا ہے ان کے خلاف حکومت سختی سے کارروائی کرے گی اور ان سے رقم وصول کرنے میں مدد کرے گی-

علمائے کرام نے بھی صحیح سمت نہیں بتائی:ضمیراحمد نے بتایا کہ ایک اطلاع کے مطابق آئی ایم اے میں سرمایہ کاروں نے 2ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ سرمایہ لگایا ہے، کئی مرتبہ خود منصورخان نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے -انہوں نے بتایا کہ حلال منافع کی خاطر لوگوں نے سرمایہ لگایا - خون پسینے کی گاڑی کمائی آئی ایم اے میں لگادی -انہوں نے مزید کہاکہ اس معاملہ میں چند علمائے کرام نے صحیح رہنمائی نہیں کی بلکہ آئی ایم اے کی تائید کی - ضمیراحمد نے بتایا کہ اس کے بعد ایسی پونزی کمپنیوں کا ہمیشہ خاتمہ ہوناچاہئے -وزیراعلیٰ کو بھی انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ ایسی کمپنیوں کو شروع کرنے کی اجازت ہی نہ دی جائے-

متاثرین کے نام پیغام:آئی ایم اے میں سرمایہ لگانے والے متاثرین کو مخاطب کرتے ہوئے ضمیراحمد خان نے کہاکہ وہ مایوس ہوکر کوئی غلط قدم نہ اٹھائیں بلکہ اللہ سے دعا کریں کہ ان کی رقم واپسی کا مناسب حل نکلے- ذرائع کے مطابق خود ضمیراحمدخان نے آئی ایم اے سے 5کروڑ روپئے قرض لیا ہے - انہوں نے ایک حلف نامہ میں اس کا اعتراف بھی کیا ہے - کیا ضمیراحمد خان یہ قرضہ کمپنی کو لوٹاکر سرمایہ کاروں کو رقم واپس کرنے میں مدد کریں گے؟ کل سے آئی ایم اے کے ماتحت آنے والے تمام وینچرس جیسے میڈیکل شاپس،زیورات کے شورومس وغیرہ بند ہیں -

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹک کے مختلف شہروں میں یا دوسری ریاست میں پھنسے بھٹکلی افراد اب آسکتے ہیں واپس بھٹکل؛ تنظیم کی طرف سےجاری کی گئی ہدایات

بھٹکل میں اب چونکہ لاک ڈاون میں ڈھیل دی گئی ہے اور یکم جون سے بھٹکل میں تمام دکانوں اور کاروباری اداروں کو صبح آٹھ سے دوپہر دو بجئے تک کھولنے کی اجازت دی گئی ہے، اس بنا پر ریاست کرناٹک کے مختلف شہروں یا ملک کی دیگر ریاستوں میں پھنسے ہوئے بھٹکلی افراد کے لئے اب بھٹکل واپس آنے کی ...

کیا کرناٹک کے وزیراعلیٰ یڈی یورپا کے خلاف بغاوت کے پیچھے ایک مرکزی وزیر کا ہاتھ ہے؟ کیا ریاست کی کمان کسی اور کو سونپنے کے لئے ہورہی ہیں کوششیں ؟

کرناٹک بی جے پی میں وزیر اعلیٰ یڈی یورپا کے خلاف 27 اراکین اسمبلی کی طرف سے شروع کی گئی بغاوت کو ایک مرکزی وزیر کی طرف سے ہوا دیئے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

کرناٹک میں عبادت گاہیں یکم جون نہیں ، 8؍ جون کو کھلیں گی۔ ریاستی حکومت نے سابقہ فیصلہ واپس لیا، مساجد کے متعلق وقف بورڈ سے رہنما خطوط ایک دو دن میں

کرناٹک بھر میں ریاستی حکومت کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ چوتھے لاک ڈاؤن 31 ؍ مئی کو ختم ہوتے ہی ریاست بھر میں یکم جون سے تمام عبادگاہوں کو کھول دیا جائے گا۔

ساحلی کرناٹکا میں رُکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں کورونا معاملات؛ مینگلور میں دو دنوں میں 28 اور اُڈپی میں 23 معاملات؛ آج اُترکنڑا میں بھی پانچ پوزیٹو

مہاراشٹرا سے واپس آنے والوں میں  جس طرح کرناٹک کے دیگر اضلاع میں کورونا کے معاملات میں  تشویشناک حدتک اضافہ دیکھنے میں آرہاہے، اُسی طرح  ساحلی کرناٹکا کے اضلاع  اُترکنڑا، اُڈپی اور دکشن  کنڑا میں بھی کورونا کے معاملات میں روز بروز اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

ریاستی بی جے پی حکومت میں میں بغاوت کے آثار، سرگرمیاں تیز ؛ جگدیش شٹر یا پرہلاجوشی کو وزیر اعلیٰ بنانے دو مختلف دھڑوں کی لابی

بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی ) میں دل بدلی کر کے آنے والوں سے پارٹی کے بنیادی ورکرس اور قائدین کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے، جس کی وجہ سے حکومت پھر ایک مرتبہ ڈانواں ڈول نظر آرہی ہے ۔ یہ بات کے پی سی سی کے کارگزار صدر شیش جارکی ہولی نے کہی۔