کورونا سے متاثر ہو کرمرنے والوں کی تدفین میں رکاوٹ درست نہیں، لاک ڈاؤن ہو یا نہ ہو اپنے آپ احتیاط برت کر وائرس سے بچنے کی کوشش کریں: ضمیر احمد خان

Source: S.O. News Service | Published on 4th July 2020, 11:10 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،4؍جولائی(ایس او نیوز) شہر بنگلورو میں کورونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں جس طرح کا بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے اسی رفتار سے اس مہلک وباء کی زد میں آکر مرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو تا جارہا ہے۔ اس وباء کا شکار ہو کر مرنے والے افراد کی تدفین اور دیگر آخری رسومات کے لئے عالمی صحت تنظیم کی طرف سے جو رہنما خطوط وضع کئے گئے ہیں ان پر عمل لازمی قرار دیا گیا ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ بعض مقامات پر ان ضوابط کی کھلی پامالی ہو رہی ہے لیکن شہر بنگلورو میں جہاں تک ہو سکے میت کی بے حرمتی نہ ہونے پائے اور اس میت کی تدفین کی وجہ سے لوگوں کو کسی طرح کی پریشانی نہ ہو اس کے لئے سخت احتیاطی تدابیر بھی اپنائی جا رہی ہیں اس کے باوجود بھی شہر کے بعض مقامات پر مقامی لوگوں کی طر ف سے مسلم قبرستانوں میں کورونا وائرس سے متاثرہ میتوں کی تدفین کی شدید مخالفت کے معاملات سامنے آئے ہیں۔ چند دن قبل شہر کے قدوس صاحب قبرستان میں کووڈ سے متاثرہ میتوں کی تدفین کی مخالفت میں مقامی لوگوں کو جمع کرکے تدفین کی خدمت انجام دینے کے لئے آنے والے کارکنوں پر پتھراؤ کئے جانے کی خبر آئی تو اس کے بعد اب بنشنکری قبرستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک میت کو عین تدفین کے وقت دفنانے سے روک دئیے جانے اور مجبوراً اس میت کو کسی اور قبرستان میں لے جاکر دفنائے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس طرح کے واقعات پرچامراج پیٹ کے رکن اسمبلی بی زیڈ ضمیر احمد خان نے تشویش ظاہر کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے سبب اگر کسی کی موت ہو جائے تو اس کے جسم میں کورونا وائرس بھی ختم ہو جاتا ہے اس سے ڈرنے یاگھبرانے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کسی کو بھی ہوسکتا ہے۔ اگر کسی کو ہو گیا اور بدقسمتی سے اس کی موت ہو گئی تو اس کی تدفین میں رکاوٹ ڈالنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائر س جس تیزی سے پھیل رہا ہے اس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر پر اگر توجہ دی جائے تو ممکن ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کو قابومیں رکھا جا سکتا ہے۔ اگر کورونا وائرس کے واقعات میں اضافہ کا سلسلہ یونہی برقرار ہا تو ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات اور بھی سنگین ہو ں گے اس لئے ابھی سے احتیاط ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں کورونا سے پیداشدہ بحران سے نپٹنے میں پورے طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں کورونا سے لوگوں کے متاثر ہونے اور مرنے کے جو معاملے سامنے آرہے ہیں وہ اس بات کا عکاس ہے کہ اب حالات حکومت کے قابو میں نہیں ہیں۔ کورونا سے بچنے کا واحد ذریعہ صرف سماجی دوری ہے۔ حکومت لاک ڈاؤن کرے یا نہ کرے عوام کو چاہئے کہ اپنے آپ پر بندشیں لگالیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹک: ایس ایس ایل سی میں تقریبا 6 لاکھ طلبہ کامیاب

کورونا کی خطرناک وبا کے درمیان ریاست کرناٹک میں منعقد ہوئے ایس ایس ایل سی ( دسویں جماعت) کے نتائج منظر عام پر آچکے ہیں ۔ تقریبا 6 لاکھ طلبہ نے ان امتحانات میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ طلبہ کی ہمت اور حوصلہ کی ہر جانب سے ستائش کی جارہی ہے ۔

کاروار:ایس ایس ایل سی امتحان کے نتائج۔ سرسی کی سنّدھی ہیگڈے نے پایا ریاست میں پہلا رینک

امسال ریاست میں ایس ایس ایل سی کے جو امتحانات ہوئے تھے اس کا سامنا طلبہ نے کووڈ وباء کے پس منظر میں ذہنی تناؤ کے ساتھ کیا تھا۔اس کے بعد کافی دنوں سے طلبہ بڑی بے چینی کے ساتھ اپنے نتائج کا انتظار کررہے تھے۔

کرناٹک میں 5985 کورونا پوزیٹیو، 107 ہلاک

ریاست کرناٹک میں پچھلے 24 ؍ گھنٹوں میں 5985 افراد کورونا میں مبتلا ہوئے ہیں، 107 کی موت ہوگئی، متاترین کی کل تعداد 1،78،087 ہوگئی، جبکہ 4،670 افراد شفایاب ہو کر اسپتالوں سے رخصت ہوئے ہیں۔ 107 افراد ہلاک ہوئے ، مہلوکین کی کل تعداد 3،198 ہوگئی ہے۔

کرناٹک میں آئندہ 5دنوں اوربنگلورمیں دوروزتک شدیدبارش کی پیشین گوئی، ریاست میں شدیدبارش اورسیلاب سے 100 سڑکوں اورپلوں کونقصان

ریاست بھرمیں پچھلے چنددنوں سے موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔شدیدبارش اورسیلاب سے ریاست کے کم از کم 100 سڑکیں اورپلوں کونقصان پہنچاہے۔ اس سلسلہ میں محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیوڈی)کے افسروں نے معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین دنوں سے ریاست میں بھاری بارشیں ہورہی ...