تبلیغی جماعت کیس میں سست روی پر عدالت برہم، پولیس اہلکار تفتیشی افسر بننے کے لائق نہیں:دہلی ہائی کورٹ

Source: S.O. News Service | Published on 7th December 2021, 11:46 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 7؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)گزشتہ سال مارچ میں ملک میں کورونا انفیکشن کے پھیلاؤ کیلئے تبلیغی جماعت کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی گئی تھی، اس معاملے میں اب دہلی ہائی کورٹ نے پولیس کی کھنچائی کی ہے۔ اس میں کہا گیا کہ دہلی پولیس نے صحیح طریقے سے تفتیش نہیں کی۔ عدالت نے یہاں تک کہا کہ چونکہ تفتیش نہیں ہوئی اس لیے پولیس اہلکار تفتیشی افسر بننے کے قابل نہیں ہیں۔ اس سال ستمبر میں تبلیغی جماعت سے متعلق ایک معاملے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ میڈیا کے ایک حصے کی خبریں فرقہ وارانہ لہجے کو ظاہر کرتی ہیں اور اس سے ملک کی بدنامی ہو سکتی ہے۔کورونا پھیلانے کے الزامات کا سامنا کرنے والے تبلیغی جماعت کے تمام 36غیر ملکیوں کو گزشتہ سال دسمبر میں ہی دہلی کی ایک عدالت نے بری کر دیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ملزموں کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیاگیا اور گواہوں کے بیانات میں تضاد ہے۔ عدالت کے یہ فیصلے ان لوگوں کیلئے ایک جھٹکا ہیں جو ملک میں کورونا پھیلانے کا الزام تبلیغی جماعت پر لگا رہے تھے۔اب دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو پولیس کو ہدایت دی کہ وہ ریکارڈ پر رکھے کہ آیا گزشتہ سال مارچ میں تبلیغی جماعت میں شرکت کیلئے درست پاسپورٹ اور ویزا پر آنے والے غیر ملکی شہریوں کو رہائش فراہم کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ عدالت کے سوالوں کا صحیح جواب نہ دینے پر دہلی پولیس کی کھینچائی کرتے ہوئے کہا کہ مقدمات میں کوئی تفتیش نہیں ہوئی ہے۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں غیر ملکیوں کی آمد کی تاریخ کا جواب دینے میں پولیس کی ناکامی کے بعد، جسٹس مکتا گپتا نے کہاکہ تو پھر آپ کے افسر تفتیشی افسر بننے کے قابل نہیں ہیں۔عدالت نے پولیس سے کہا کہ وہ زیر التوا مقدمات کی اسٹیٹس رپورٹ دے، آپ کو مجھے مواد دینا ہوگا تاکہ میں کچھ حکم دے سکوں۔کم از کم ایک درجن ایف آئی آر میں کم از کم 48 / افراد ملزم ہیں جنہیں ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ دہلی کے رہائشیوں کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کیلئے ہائی کورٹ میں عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔ ان لوگوں پر الزام ہے کہ انہوں نے تبلیغی جماعت کے پروگرام میں شرکت کیلئے آنے والے لوگوں کو، جن میں زیادہ تر غیر ملکی شہری تھے، مساجد یا اپنے گھروں میں رہنے کی اجازت دی۔

ایک نظر اس پر بھی

ہندوستان کورونا کے 2.86 لاکھ نئے کیسز، ایکٹو کیسز 22 لاکھ سے متحاوز

ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں ایک بار پھر تیزی دکھائی دے رہی ہے۔ جمعرات کو بھی کورونا کے نئے کیسز 3 لاکھ کے قریب درج ہوئے ۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 2,86,384 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ تاہم کل کے مقابلے میں کیسز میں صرف معمولی اضافہ درج کیا گیا۔

طلبہ کے خلاف کارروائی پرنتیش کمارخاموش کیوں؟ کوچنگ مراکزکی حمایت میں آرجے ڈی،مانجھی نے بھی وارننگ دی

آر آر بی این ٹی پی سی امتحان کو لے کر بہار کے کئی اضلاع میں ہنگامہ آرائی کے بعد آر جے ڈی نے کوچنگ آپریٹروں کے خلاف درج ایف آئی آر کی سخت مخالفت کی ہے۔ آر جے ڈی لیڈرنے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس اساتذہ کے بجائے ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈکے عہدیداروں کے خلاف مقدمہ درج کرے۔ اس کے ...

طلبہ نے بہاربندکااعلان کیا،مہاگٹھ بندھن نے حمایت کی

این ٹی پی سی امتحان میں دھاندلی پر طلباء کا غصہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ طلبہ نے جمعہ 28 جنوری کو بہار بند کی کال دی ہے۔ آر جے ڈی سمیت عظیم اتحاد کی تمام جماعتوں نے طلبہ کے بند کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔جمعرات کوعظیم اتحادسے مشترکہ طور پر آر جے ڈی کے ریاستی دفتر میں پریس ...

مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ معاملہ : اے ٹی ایس کی موجودگی سے بھگوا ملزمین سراپا احتجاج

مالیگائوں 2008 بم دھماکہ معاملے میںآج ایک بڑی اور اہم پیش رفت ہوئی ، بم دھماکہ متاثرین اور سابق وزیر نسیم خان کی کوششوں سے آج خصوصی این آئی اے عدالت میں انسدا ددہشت گرد دستہ کے دو سینئر افسران حاضر ہوئے اور خصوصی این آئی اے جج سے کہا کہ انہیں اے ٹی ایس چیف نے ہدایت دی ہیکہ وہ ...

یوپی اسمبلی انتخابات: بی ایس پی کی نئی فہرست جاری، کندرکی سے محمد رضوان اور نواب گنج سے یوسف خان امیدوار

 اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے دوران بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے جمعرات کو اپنے چھ امیدواروں کی فہرست جاری کی ہے۔ بی ایس پی نے دو سیٹوں پر اپنے امیدواروں کو تبدیل کر دیا ہے، جبکہ چار نئی سیٹوں پر امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔ نئی فہرست میں سب سے زیادہ توجہ بریلی ضلع پر مرکوز ...

ٹوئٹر کو ’آئیڈیا آف انڈیا‘ کی تباہی کا مہرہ نہ بننے دیں، سی ای او پراگ اگروال کے نام راہل گاندھی کا مکتوب

 کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ٹوئٹر کے سی ای او پراگ اگروال کو مکتوب ارسال کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ وہ ٹوئٹر کو ’آئیڈیا آف انڈیا‘ (ہندوستان کے خیال) کی تباہی کا مہرہ بننے سے روکیں۔