یوگی حکومت نے لکھنؤ اور نوئیڈا میں پولس کمشنر سسٹم کیا نافذ، مایاوتی نے بنایا تنقید کا نشانہ

Source: S.O. News Service | Published on 13th January 2020, 9:12 PM | ملکی خبریں |

لکھنؤ،13/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) ریاست میں محکمہ پولیس کو مزید متأثر کن بنانے ،جرائم پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے اور اس کی جواب دہی طے کرنے کے مقصد کے تحت اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے پیر کو ریاستی کابینہ کی منظوری کے بعد ریاستی راجدھانی لکھنؤ اور گوتم بدھ نگر(نوئیڈا) میں پولیس کمشنر سسٹم کے نفاذ کا اعلان کردیا۔ میرٹھ کے اے ڈی جی آلوک سنگھ گوتم بدھ نگر(نوئیڈا) کا پہلا پولیس کمشنر بنایا گیا ہے جبکہ اے ڈی جی پریاگ راج سجیت پانڈے لکھنؤ کے پہلے پولیس کمشنر ہوں گے۔

پولس کمشنری سسٹم نافذ کیے جانے کے اعلان کے بعد بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اتر پردیش میں صرف کچھ جگہ پولس نظام بدلنے سے جرائم پر قابو نہیں ہوگا۔ اس کے لیے حکومت کو پارٹی پر مبنی سیاست سے اوپر اٹھ کر سخت قانونی کارروائی کرنی پڑے گی تبھی نظام قانون میں بہتری آ سکتی ہے۔‘‘ مایاوتی نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ جرائم پیشوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے، اور ایسا کر کے ہی ریاست میں جرائم پر قابو پایا جا سکے گا۔

پیر کو کابینہ میٹنگ کے بعد نئے سسٹم کے بارے میں بذات خود وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اعلان کرتے ہوئے کہا ان کی حکومت ہر قسم کے حالات سے نبردآزما ہونے کے لئے پرعزم ہے اور یہ نیا سسٹم کرائم پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے پولیس کو مزید طاقتور بنائےگا۔ساتھ ہی ہم نے دونوں شہروں میں دو پولیس خاتون پولیس افسر تعینات کیے ہیں تاکہ خواتین کے خلاف جرائم پر قابو حاصل کیا جاسکے۔یہ افسران خواتین کے خلاف زیر التوا معاملات کو دیکھیں گی۔

لکھنؤ میں پولیس کمشنریٹ 40 پولیس اسٹیشن اور نوئیڈا میں یہ بشمول نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا کے 25 پولیس اسٹیشنوں پر محیط ہوگا۔ پولیس ایکٹ کے مطابق ایسا شہر جہاں کی آباد ایک ملین سے زیادہ ہو وہاں پر پولیس کمشنر سسٹم متعارف کرایا جاسکتا ہے۔ لیکن لکھنؤ کی آبادی 4 ملین ہے جبکہ نوئیڈا کی موجودہ آبادی تقریبا 2.5 ملین ہےجبکہ 2011 کے مردم شماری کے مطابق لکھنؤ کی آبادی 29 لاکھ اور نوئیڈا کی آبادی 1.6 لاکھ تھی۔

وزیر اعلی نے اگرچہ ان دونوں شہروں کے علاوہ کسی اور شہر کا نام نہیں لیا جہاں پر پولیس کمشنر سسٹم کو متعارف کرایا جاسکتا ہے لیکن افسران کے مطابق لکھنؤ اور نوئیڈا میں تجربہ کیا جارہا ہے اس کی کامیابی کے بعد گورکھپور، وارانسی، پریاگ راج، کانپور ،آگرہ اور میرٹھ میں بھی اس سسٹم کو نافذ کیا جائےگا۔ اس سے قبل پولیس کمشنر سسٹم پر مایاوتی کے میعاد کار 2010 میں غوروخوض کیا گیا تھا لیکن آئی اے ایس افسران کی مخالفت کی وجہ سے اسے نافذ نہیں کیا جاسکاتھا۔

وزیر اعلی نے کہا کہ نیا سسٹم سینئر پولیس افسران کو اس بات کا اختیار دے گا کہ وہ گراونڈ پر حالا ت کو اچھی طرح سے ہینڈل کرسکیں۔ لکھنؤ میں اے ڈی جی رینک کا پولیس کمشنر کی تعیناتی کےعلاوہ حکومت آئی جی رینک کے دو جوائنٹ پولیس کمشنر اور ڈی آئی جی رینک کے 9اڈیشنل پولیس کمشنر کا تقرر کرے گی۔ایک جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق کو دیکھےگا تو دوسرا انتظامی امور کو۔

نوئیڈا میں یہ تھوڑا الگ ہوگا۔یہاں پولیس کمشنر کے ساتھ ڈی آئی جی رینک کے 2 اڈیشنل کمشنر آف پولیس(اے سی پی) اورایس پی رینک کے 5 پولیس افسر ہوں گے۔ دونوں شہروں میں ایس پی اور اڈیشنل ایس پی رینک کی دو الگ الگ خاتون افسر ہوں گی جو کہ خاتون کے خلاف کرائم انچارج ہوں گی۔علاوہ ازیں ٹریفک کے لئے ایک علیحدہ ایس پی تعینات کیا جائےگا۔

پولیس کمشنر کو نظم ونسق اور مجسٹیریل اتھارٹی کےکے ساتھ ساتھ دیگر مزید 15 اختیارات حاصل ہوں گے۔تاہم آرم لائسنس جاری کرنے کا اختیار پولیس کمشنر کو نہیں ہوگا۔ یہ سسٹم آئی جی رینک کے آئی پی ایس افسر کو مزید اختیارات دے گا۔اس وقت ملک کے 15 ریاستوں کے 71 شہروں میں یہ سسٹم نافذ ہے۔لکھنؤ اور نوئیڈا ملک میں 16 ریاست کے بالترتیب 72 ویں اور 73 ویں شہر ہوں گے جہاں پر پولیس کمشنری سسٹم نافذ ہوگا۔ اس سے پہلے ملک کی15 ریاستوں کے 71 شہروں میں یہ سسٹم نافذ تھا۔

وہیں یو پی کے سابق ڈی جی پی برج لال اے کے جین اور و وکرم سنگھ نے ریاست میں پولیس کمشنر سسٹم کے متعارف کرائے جانے پر حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ متأثرکن پولیسنگ کے لئے یہ کافی دیرینہ مطالبہ تھا بلاخر لمبے انتظار کے بعد حکومت نے ریاست میں اسے نافذ کردیا۔

ایک نظر اس پر بھی

یوم جمہوریہ کے موقع پر پس مرگ پدما وبھوشن ایوارڈ پانے والوں میں شامل ہیں اڈپی پیجاورمٹھ سوامی اور جارج فرنانڈیز

یوم جمہوریہ کے موقع پر مرکزی حکومت کی طرف سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو پدما بھوشن اور پدماوبھوشن جیسے اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ امسال جن شخصیات کو پس مرگ پدماوبھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا ہے اس میں پیجاور مٹھ کے سوامی اور سابق مرکزی وزیر ...

شاہین باغ وہ انقلاب ہے جو اب تھمنے والا نہیں ... آز:ظفر آغا

شاہین باغ اب محض ایک پتہ نہیں بلکہ ایک تاریخ ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جس کا سلسلہ 1857 سے ملتا ہے۔ جی ہاں، 1857 میں جس طرح انگریزوں کے مظالم اور ناانصافی کے خلاف بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں ایک بغاوت پھوٹ پڑی تھی، ویسے ہی نریندر مودی کے خلاف شاہین باغ سے ایک بغاوت کا نقارہ بج اٹھا ہے اور ...

دہلی کے شاہین باغ میں لاکھوں مظاہرین نے منایا پورے جوش وخروش کے ساتھ یوم جمہوریہ؛ شہریت قانون کی سخت مخالفت

شہریت قانون کی مخالفت کرنے والے احتجاجیوں نے آج 26 جنوری کے موقع پر پورے جوش و خروش کے ساتھ یوم جمہوریہ کی تقریب منائی اور لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں  شاہین باغ میں ہی ترنگا جھنڈا لہراتے ہوئے  ملک میں نئے انقلاب  کی جھلک دکھائی۔

شہریت قانون اور این آر سی ملک کے دلتوں، غریبوں اور پسماندہ طبقہ کے خلاف ہے؛ سیتامڑھی میں انسانی زنجیر کے ذریعے احتجاج

  سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاجی مظاہرے اب شہروں سے نکل کر گاوں اور دیہاتوں میں بھی پھیل چکے ہیں اور ملک کے تقریبا ہر علاقوں سے بڑے پیمانے پر ریلیاں اور احتجاج کئے جانے کی خبریں موصول ہورہی ہیں، اسی طرح ایک خبر بہار  کےضلع سیتامڑھی کے سونبر سا بلاک کے مہولیا ...

شہریت قانون کی مخالفت میں اب شیموگہ میں نظر آرہا ہے شاہین باغ ؛26 جنوری کی رات کو پبلک پارک میں عورتوں کا جم غفیر!

جیسے جیسے شہریت قانون کی مخالفت میں اُٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ اُتنی ہی تیزی کے ساتھ اُبھرتی نظر آرہی ہے، اب تازہ خبر ریاست کرناٹک کے شہر شموگہ سے سامنے آئی ہے جہاں 25 جنوری کی شام سے ہی  آر ایم نگر میں موجود پبلک پارک میں خواتین کی بھیڑ جمع ہونی شروع ...

جدوجہد کرنے والے نوجوان گاندھی جی کے عدم تشدد کے پیغام کو ہمیشہ یاد رکھیں: صدر جمہوریہ رامناتھ کووند کا قوم کو پیغام

صدر جمہوریہ رامناتھ کووند نے جمہوریت کے لئے حکمراں اور اپوزیشن دونوں فریقوں کو اہم قرار دیتے ہوئے عوام خاص طورپر نوجوانوں کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کے عدم تشددے کے منتر کو ہمیشہ یاد رکھنے کی تلقین کی۔