حوثی باغیوں کا سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے روکنے کا اعلان

Source: S.O. News Service | Published on 21st September 2019, 1:33 PM | عالمی خبریں |

یمن،21؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے روکنے کا اعلان کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے روکنے کا اعلان کردیا، حملے بند کرنے کا اعلان سربراہ حوثی سیاسی کونسل مہدی المشاط نے کیا، انہوں نے کہا کہ وہ سعودی عرب پر اب ڈرون، بیلسٹک میزائل و دیگر ہتھیار نہیں چلائیں گے۔

حوثی سربراہ مہدی المشاط نے امید ظاہر کی کہ سعودی عرب ان کی اس خیر سگالی کا مثبت جواب دے گا اور اگر ان کے اس اقدام پر مثبت ردعمل نہ آیا تو جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔

حوثی رہنما کا کہنا تھا کہ یمن جنگ کے تسلسل سے کسی بھی فریق کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، جنگ کا تسلسل خطرناک پیشرفت کا باعث بن سکتا ہے تاہم جنگ بندی کا بڑا مقصد جانوں کا تحفظ اور عام معافی حاصل کرنا ہے۔

مہدی المشاط نے کہا کہ امن کی کوشش کا مقصد سنجیدہ مذاکرات سے قومی مفاہمت کا حصول ہے، کسی فریق کو قومی مفاہمی عمل سے باہر نہ رکھا جائے اور صنعا ایئرپورٹ کھولا اور الحدیدہ بندرگاہ تک رسائی دی جائے۔

دوسری جانب سعودی فوجی اتحاد نے حوثیوں کے اس اعلان پر فوری ردعمل سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں خانہ جنگی سے ہزاروں افراد ہلاک جب کہ لاکھوں قحط کا شکار ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

میں تمام امریکیوں کا صدر ہوں: جو بائیڈن

"امریکہ میں جمہوریت جیت گئی ہے اور امریکی عوام کی آواز سنی گئی ہے۔ یہ امریکہ کا دن ہے۔ یہ جمہوریت کا دن ہے۔ ایک تاریخ ساز اور امید کا دن، تجدید اور مسمم ارادے کا دن۔ جمہوریت قیمتی ہے اور حفاظت طلب بھی۔‘‘

بائیڈن وائٹ ہائوس کی پہلی پریس بریفنگ، ایرانی جوہری پروگرام پر قدغن بڑھانے کا عزم

امریکی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے جو بائیڈن کی بہ طور صدر حلف برداری کے بعد وائٹ ہائوس کی پہلی پریس بریفنگ میں اہم امور پر حکومتی پالیسی کی وضاحت کی گئی ہے۔ وائٹ ہائوس کی ترجمان جین بساکی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ایرانی جوہری پروگرام پر مزید پابندیاں عاید کرے گی۔

متنازع ٹویٹ پرامریکا میں چینی سفارت خانے کا 'ٹویٹر اکائونٹ' بلاک

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ 'ٹویٹر' نے ایک متنازع 'ٹویٹ' کی وجہ سے امریکا میں چینی سفارت خانے کا ٹیوٹر اکائونٹ بلاک کردیا۔ اس ٹویٹ میں چینی سفارت خانے کی طرف سے چین کے مسلم اکثریتی صوبے'سنکیانگ' میں بیجنگ کی پالیسیوں‌ کا دفاع کیا گیا تھا۔