یڈی یورپا نے پھر دہرایا اپنا دعویٰ، کہا : کانگریس ارکان اسمبلی کی بی جے پی میں شمولیت جلد؛ جواب میں سی ایم ابراہیم نے کہا، 23مئی کے بعد خود یڈیورپا نہیں رہیں گے بی جے پی میں

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 15th May 2019, 12:43 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو۔14/مئی(ایس او  نیوز) سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا نے آج ایک بار پھر یہ بات دہرائی کہ لوک سبھا انتخابات کے نتائج ظاہر ہوتے ہی ریاست کی سیاست میں نئی صف بندی کا آغاز ہوگا اور  کانگریس کے 20 سے زائد اراکین اسمبلی بی جے پی میں شامل ہوجائیں گے۔ ان کے اس بیان کے سامنے آتے ہی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اُدھر سی ایم ابراہیم نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ  23/اپریل کے بعد خود یڈی یورپا  بی جے پی میں نہیں رہیں گے۔

کلبرگی میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یڈی یورپا نے کہاکہ بی جے پی ہرگز نہیں چاہتی کہ موجودہ مخلوط حکومت کو غیر مستحکم کرنے کا الزام اس پر ڈالا جائے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ 20 سے زائد کانگریس اراکین اسمبلی کو وزیراعلیٰ کمار سوامی کی قیادت پر اعتماد نہیں ہے، کسی بھی وقت وہ کانگریس چھوڑ کر بی جے پی کا رخ کرسکتے ہیں۔ کندگول اور چنچولی کے بعد ان بیس حلقوں میں بھی ضمنی چناؤ ناگزیر ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ لوک سبھا انتخابات کے فوراً بعد ریاستی حکومت نہیں گرے گی لیکن آپسی رسہ کشی اپنے عروج پر جائے گی۔ کرناٹک میں کانگریس امور کے انچارج وینو گوپال کے اس بیان پر کہ بعض بی جے پی اراکین اسمبلی کانگریس میں شامل ہونے والے ہیں، یڈیورپا نے کہاکہ یہ وینو گوپال کی خام خیالی ہے، لوک سبھاانتخابات کے دوران وینو گوپال نے کتنے حلقوں کا دورہ کیا اور وہاں کے حالات کا جائزہ لیا اس کے بارے میں خود وینو گوپال بھی نہیں بتاسکتے۔

انہوں نے کہاکہ ریاست میں کانگریس لوک سبھا کی سیٹوں پر کامیابی کے اعتبار سے دو عدد ی نشانہ بھی پار نہیں کرپائے گی۔ ایسے میں بی جے پی اراکین اسمبلی میں کانگریس میں شمولیت کے دعوے کانگریس کی بوکھلاہٹ کا مظہر ہے۔ انہوں نے کانگریس کو ایک ڈوبتی کشتی قرار دیتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم مودی کے دوبارہ اقتدار پر آنے کے بعد ملک میں کانگریس کا وجود کہاں غائب ہوجائے گا اس کا اندازہ کانگریسیوں کو بالکل نہیں ہے۔یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ کندگول اور چنچولی اسمبلی حلقوں میں بی جے پی کی جیت کے لئے ماحول سازگار ہے۔انہوں نے کہاکہ اس جیت کے ساتھ ہی اسمبلی میں بی جے پی اراکین کی تعداد 106ہوجائے گی۔ اکثریت کے لئے درکار مزید پانچ چھ اراکین اسمبلی میں سے دو آزاد اراکین نے پہلے ہی بی جے پی کی حمایت کا اعلان کردیا ہے، باقی کانگریس سے استعفیٰ دینے والے اراکین اسمبلی بی جے پی کی مدد کریں گے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی کی طرف سے مخلوط حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لئے اپنے طور پر کوئی کوشش یا آپریشن کمل نہیں کیا جائے گا بلکہ کانگریس کے برگشتہ اراکین اپنی مرضی سے بی جے پی کا رخ کرنے والے ہیں۔ اگر مخلوط حکومت ریاست میں برقرار رہی تو بی جے پی اپوزیشن کی صف میں بیٹھ کر ایک تعمیری اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ 
 

خود یڈی یورپا بی جےپی چھوڑ کر جائیں گے؛ سی ایم ابراہیم کا دعویٰ

سابق مرکزی وزیر اور رکن کونسل سی ایم ابراہیم نے ریاست میں کانگریس کے 20اراکین اسمبلی کی بی جے پی میں شمولیت کے متعلق ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہاکہ لوک سبھا انتخابات کے بعد خود یڈیورپا بی جے پی چھوڑ کر جانے والے ہیں۔ یڈیورپا کے سہارے کے لئے شوبھا کارند لاجے کے علاوہ کوئی ان کا ساتھ نہیں دے گا۔ ایسے میں وہ اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ کانگریس کے 20اراکین اسمبلی ان کا ساتھ دینے کے لئے پارٹی چھوڑ کر آجائیں گے۔

اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سی ایم ابراہیم نے کہاکہ دراصل بی جے پی میں ایک بہت بڑا طبقہ نہیں چاہتا کہ یڈیورپا کو دوبارہ وزیراعلیٰ بننے دیا جائے۔ اسی لئے سوائے یڈیورپا کے ریاست میں دوبارہ بی جے پی حکومت قائم ہونے کے متعلق کوئی بی جے پی لیڈر بیان نہیں دے رہا ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے بعد ریاست میں نئی سیاسی صف بندیوں کو ایک حقیقت قرار دیتے ہوئے ابراہیم نے کہاکہ ایک حقیقت طے ہے کہ مودی دوبارہ وزیراعظم نہیں بنیں گے اور ریاست میں کمار سوامی کی مخلوط حکومت کو کوئی نقصان بھی نہیں پہنچے گا۔ یڈیورپا کو بذات خود ایک اچھا انسان قرار دیتے ہوئے سی ایم ابراہیم نے کہاکہ ان کی پارٹی صحیح نہیں ہے، لوک سبھا انتخابات کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ یڈیورپا کو حاشیہ بردار کرنے والے ہیں۔ یہ لوگ ایسی صورتحال پیدا کریں گے کہ سابق وزیراعلیٰ کو خود بی جے پی چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ سابق وزیراعلیٰ سدرامیا کے متعلق ریاستی جے ڈی ایس صدر ایچ وشواناتھ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے سی ایم ابراہیم نے کہاکہ سدرامیا اور وشواناتھ کے درمیان اختلافات اتنے گہرے نہیں ہیں کہ ان کو دور نہ کیا جاسکے۔ 35 سال سے یہ دونوں گہرے دوست رہے ہیں، معمولی بات پر دونوں میں اختلاف پیدا ہوا ہے، اسے سلجھالیا جائے گا۔ 

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو میں موسلادھار بارش سے ٹرافک جام موٹر گاڑیوں پر 25سے زائد درخت گرنے سے شدید نقصان

ہفتہ کی رات تیز ہواؤں کے ساتھ ہوئی موسلادھار بارش سے 25سے زائد درخت کئی گاڑیوں پر گرنے سے کافی نقصان پہنچاہے- ہفتہ کی شام 5بجے شروع ہوئی بارش 6:30بجے شہر کے اہم علاقوں میں کافی تیز ہواؤں کے ساتھ جاری رہی-

بنگلورو سنٹرل حلقہ: بی جے پی امیدوار پی سی موہن کو گاندھی نگر میں اکثریت

کانگریس کمیٹی کے صدر دنیش گنڈو راؤ کے اپنے حلقہ گاندھی نگر میں کانگریس کو اکثریت حاصل ہونے کی بجائے یہاں بی جے پی کو اکثریت ملی ہے- اس حلقہ میں بی جے پی امیدوار پی سی موہن کو 24,723 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہوئی ہے-

خواب وخیال میں بھی نہیں تھا کہ لوک سبھا انتخابات کے نتائج کانگریس کے حق میں اتنے مایوس کن ہوں گے:دنیش گنڈو راؤ

لوک سبھا انتخابات میں کانگریس پارٹی کی شکست کی ذمہ داری میں اپنے سر لیتا ہوں۔ میرے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ ہم ریاست میں صرف ایک سیٹ پرکامیابی حاصل کریں گے۔