افغان اہلکاروں کو ’ہنی ٹریپ‘ کے ذریعے قتل کرنے والی خواتین رہا

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 23rd November 2020, 8:10 PM | عالمی خبریں |

کابل، 23/نومبر (آئی این ایس انڈیا)افغانستان میں مبینہ طور پر طالبان کی ایما پر افغان اہلکاروں کو ہنی ٹریپ کے ذریعے قتل کرنے والی دو خواتین کو افغان امن عمل کے دوران قیدیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت چھوڑ دیا گیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق طالبان کے حقانی نیٹ ورک میں شامل مزغان اور ان کی خالہ نسرین کو ستمبر میں جیل سے چھوڑ دیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق اپنے جرائم کا اعتراف کرنے والی دونوں خواتین نے انٹیلی جنس ایجنٹ کا بھی قتل کیا تھا اور انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ انہوں نے طالبان کمانڈر کے حکم پر نسرین کی بیٹی کو بیچنے کے بہانے سے راغب کیا اور قتل کردیا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ خواتین ماہر قاتل کا روپ دھار چکی تھیں اور ہنی ٹریپ میں ماہر تھیں۔دستاویزات کے مطابق انہوں نے پولیس اہلکار کی حیثیت سے کام کرنے والے اپنے دو رشتے داروں کو بھی قتل کردیا تھا۔عدالتی دستاویزات کے مطابق خواتین نے ایک رشتے دار سرکاری اہلکار کو زہر دے دیا تھا جبکہ دوسرے کی گاڑی کی سیٹ کے نیچے بم لگا دیا تھا۔

دستاویزات کے مطابق دونوں کی گرفتاری 2016 میں عمل میں آئی تھی جبکہ اس سے قبل وہ صوفی کے مزار پر دستی بم اور فائرنگ اور پولیس اسٹیشن پر حملے کے واقعات میں ملوث رہی تھیں۔مزغان نے اپنی رہائی سے قبل ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ 'مجھے قتل، اغوا اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ تعاون کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں اس گروپ میں دوبارہ شامل نہیں ہوں گی۔

واضح رہے کہ افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کی پیشگی شرط کی بنا پر طالبان قیدیوں کی رہائی عمل میں آئی اور مذاکراتی وفد میں 5 خواتین بھی شامل تھیں۔امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے تحت 5 ہزار طالبان قیدیوں کے تبادلے کا وعدہ کیا گیا تھا جس کے بدلے میں طالبان نے ایک ہزار افغان سکیورٹی فورسز کے قیدیوں کو رہا کرنا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

ایران کے ساتھ مذاکرات میں خلیجی ممالک اور اسرائیل کو شامل کیا جائے گا: بلنکن

امریکا کے نو منتخب صدر جوبائیڈن کے نامزد وزیرخارجہ انتھونی بلنکن نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گی۔ان کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے جوہری مذاکرات میں خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کو شامل کیا جائے گا۔

حکومت مخالف ایرانی مذہبی عالم کا اسرائیل سے مصالحت کا مشورہ

ایران کے ایک سرکردہ مذہبی رہ نما اور حکومت پر سخت تنقید میں شہرت رکھنے والے آیت اللہ عبدالحمید معصومی تہرانی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ دشمنی رکھنا عقل اور منطق کے خلاف ہے۔ انہوں نے ایرانی حکومت سے زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ صلح کرے جیسا کہ بعض عرب ممالک نے کی ہے۔

جوہری معاہدے کے حوالے سے بائیڈن کی ٹیم اور ایران کے درمیان خفیہ بات چیت

منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ذمے داران نے جوہری معاہدے میں واپسی کے حوالے سے ایران کے ساتھ خاموشی سے بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔ تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان یہ سمجھوتا جولائی 2015ء میں طے پایا تھا۔ اسرائیلی نیوز نیٹ ورک "چینل 12" اور اسرائیلی اخبار "د ٹائمز آف ...