ہم سب ساتھ مل کر کام کریں گے: اشوک گہلوت

Source: S.O. News Service | Published on 12th August 2020, 8:55 PM | ملکی خبریں |

جیسلمیر،12؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) راجستھان کے وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے کہا ہے کہ اب تک چلنے والا معاملہ اب ختم ہو چکا ہے اور ہم سب مل کر کام کریں گے۔ اشوک گہلوت نے آج صحافیوں سے بات چیت میں سچن پائلٹ کے باغی بننے کے تعلق سے پوچھے گئے سوال پر کہا کہ اب یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے اور ہم سب مل کر کام کریں گے۔

یہ معاملہ بھول جانے اور معاف کرنے کی حالت میں ہے۔ جہاں تک ہمارے کانگریس اراکین اسمبلی کے سچن پائلٹ گروپ کے ممبر اسمبلیوں کی ناراضگی کا سوال ہے، ان کی ناراضگی کو بھی دور کیا جائے گا۔ انہیں سمجھایا جائے گا، ویسے ان کی ناراضگی واجب ہے، ایک ماہ تک جمہوریت بچانے کے لیے گھر خاندان سے دور رہے ہیں۔

اشوک گہلوت نے کہا کہ اراکین اسمبلی کو سمجھایا گیا ہے کہ ملک، ریاست اور ریاستی باشندوں و جمہوریت کو بچانے کے لیے ہمیں کئی مرتبہ برداشت کرنا بھی پڑتا ہے۔ ہم سب آپس میں مل کر کام کریں گے۔ جو ہمارے ساتھی چلے گئے تھے وہ بھی واپس آگئے ہیں۔ امید ہے کہ گلے شکوے دور کر کے سب مل کر ریاست کی خدمت کرنے کا عزم پورا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آپس میں بھولو اور معاف کرو اور آگے بڑھو، یہ ملک، ریاست اور باشندوں کے مفاد میں ہے۔

اشوک گہلوت نے کہا کہ یہ لڑائی جمہوریت کو بچانے کی ہے، اس میں جو ہمارے ممبران اسمبلی نے اتنا ساتھ دیا، سو سے زیادہ اراکین اسمبلی کا ایک ساتھ اتنے دنوں تک رہنا اپنے آپ میں بہت بڑی بات ہے جو ہندوستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہوگا۔ یہ تو جمہوریت کو بچانے کی لڑائی ہے، آگے بھی جاری رہے گی، یہ ہماری لڑائی اور باقی جو ایپیسوڈ ہوا ہے، ایک طرح سے بھولو اور معاف کرو کی حالت میں رہیں، سب مل کر چلیں کیونکہ لوگوں نے اعتماد کرکے ہماری حکومت بنائی تھی۔ ہم سب کی ذمے داری بنتی ہے کہ اس اعتماد کو برقرار رکھیں، ہم عوام اور ریاست کی خدمت کریں، اچھی حکمرانی دیں اور سب مل کر کورونا کا مقابلہ کریں۔

ایک نظر اس پر بھی

قومی سطح کی سرکاری ایجنسیوں کے بے جا استعمال کی ایک اور بدنما مثال، بنگلوروکے جی ہلی اور ڈی جے ہلی تشدد کی جانچ این آئی اے کے سپرد

بنگلورو کے دیو رجیون ہلی اور کاڈو گنڈنا ہلی علاقوں میں 11/اگست کی شب ایک توہین آمیز فیس بک پوسٹ کے خلاف احتجاج کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات کی جانچ کو کرناٹک کی بی جے پی حکومت نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے سپرد کردیا ہے۔

اپوزیشن کے 8ممبران پارلیمنٹ کی معطلی مرکزی حکومت کا اختلاف رائے سے عدم راوداری کا نمونہ۔ ایس ڈی پی آئی

 سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں زرعی بل منطور کئے جانے کی مخالفت کرنے پر اپوزیشن کے 8اراکین پارلیمنٹ کو ایک ہفتہ کیلئے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں شرکت سے معطل کرنے کے اقدام کو جمہوریت مخالف قرار دیتے ...