کیا گرم موسم کرونا وائرس کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے؟

Source: S.O. News Service | By JD Bhatkali | Published on 15th March 2020, 6:23 PM | عالمی خبریں |

لندن /15مارچ (آئی این ایس انڈیا)کرونا وائرس کے دْنیا بھر میں پھیلاؤ پر بعض حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ کیا گرم موسم کرونا وائرس کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے یا نہیں؟امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ اپریل میں گرم موسم کے باعث کرونا وائرس کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ بعض دیگر طبی ماہرین کا بھی یہ خیال تھا کہ گرم موسم سے فلو اور دیگر بیماریوں میں کمی سے لامحالہ کرونا وائرس کیسز بھی کم ہو جائیں گے۔البتہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے ایک محقق کرسٹوفر مورس کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل ازوقت ہے۔ ایسا ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ اْن کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس بھی فلو اور سانس سے متعلقہ بیماری ہے۔ موسم سرما میں یہ بڑھ جاتی ہیں اور موسم گرما میں اس میں کمی ہوتی ہے۔لیکن سائنس دانوں کے ایک گروپ کا خیال ہے کہ گرم موسم اس وائرس کے تدارک میں مدد دے سکتا ہے۔ لیکن اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ آئندہ سردیوں میں یہ وبا دوبارہ حملہ آور نہیں ہو گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں فلو اور سانس کی بیماریاں اس لیے زیادہ لاحق ہوتی ہیں کیوں کہ ہوا میں خشکی کا عنصر گرمیوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔لیکن سائنس دانوں کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ یہ وائرس چین کے ٹھنڈے علاقوں کے علاوہ نسبتاً گرم اور مرطوب آب و ہوا والے علاقوں میں بھی پایا گیا۔سائنس دانوں نے سنگا پور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں موسم مرطوب ہے، لیکن وہاں بھی کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ البتہ سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ گرمیوں یہ شرح کم ہو جاتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ اس وبا پر قابو پا بھی لیا گیا تو پھر بھی یہ وائرس اب انسانی زندگیوں میں مستقل طور پر اثر انداز ہوتا رہے گا۔کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی تیاری پر بھی کام جاری ہے۔ وائرس کے باعث اب تک دنیا بھر میں لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ وائرس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بھی پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

 

ایک نظر اس پر بھی

بدھ کو ہندوستان بھر  میں منائی جائے گی عیدالاضحٰی  ؛ سعودی عربیہ، دبئی ، عمان و دنیا کے دیگر کئی  ملکوں میں آج منگل کومنائی جارہی ہے  عید 

بھٹکل اور ریاست کرناٹک سمیت پورے ملک میں کل بدھ 21 جولائی   کو عید الاضحیٰ منائی جائے گی، البتہ سعودی عربیہ، متحدہ عرب امارات،  عمان، کویت اور گلف کے دیگر ملکوں سمیت دیگر مختلف ممالک میں آج منگل کو ہی عید منائی جارہی ہے۔

امریکا کا افغان امن عمل کی حمایت کیلئے ’ٹھوس اقدامات‘ کی ضرورت پر زور

امریکا نے افغان امن عمل کی حمایت کے لیے ’ٹھوس اقدامات‘ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب افغان امن عمل سے متعلق بیان افغانستان کے لیے امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور وزیر اعظم عمران خان کے مابین ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔

حجاب کے متعلق یوروپی عدالت کا فیصلہ اسلاموفوبیا کی علامت ہے: ترکی

  ترکی نے  یورو پی کمپنیوں کو ملازمین کے حجاب پہننے پر پابندی کی اجازت دینے کے یوروپی عدالت انصاف کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کی علامت اور مذہبی آزادی کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

آسٹریلیا میں 80 فیصد مسلمانوں کو امتیازی سلوک کا سامنا ہے: انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ

آسٹریلوی انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں مسلمانوں کی اکثریت کو امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ آسٹریلوی انسانی حقوق کمیشن کی پیر کے روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا میں 80 فیصد مسلمانوں کو تعصب یا امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جرمنی کو تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا، ہلاک شدگان کی تعداد 150 سے تجاوز، 1000 لاپتہ

 جرمنی کو اس وقت 200 سالہ تاریخ کے بد ترین سیلاب کا سامنا ہے، جس کے نتیجہ میں اب تک 150 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 1000 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ اتنا ہی نہیں سیلابی صورت حال کے پیش نظر 2 لاکھ گھروں کی بجلی کی سپائی بھی منقطع ہو گئی ہے۔

عراق: اسپتال کے کورونا وارڈ میں خوفناک آتشزدگی، 52 افراد جان بحق

عراق کے شہر ناصریہ میں اسپتال کے کورونا وارڈ میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں 52 افراد جان بحق ہو گئے۔ حکام کے مطابق 16 افراد کو بچا لیا گیا جبکہ 22 زخمی ہیں جن میں سے دو افراد کی حالت نازک ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وارڈ میں مزید افراد کی موجودگی کی اطلاعات ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔