کیا ’لو جہاد‘ قانون دوسرے مذاہب میں شادی کرنے والے بی جے پی لیڈران پر نافذ ہوگا: بھوپیش بگھیل

Source: S.O. News Service | Published on 22nd November 2020, 12:16 AM | ملکی خبریں |

رائے پور،21؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) ان دنوں ’لو جہاد‘ کے خلاف قانون بنانے کو لے کر بی جے پی حکمراں کچھ ریاستوں میں ہو رہی تیاریاں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہیں۔ کئی سیاسی لیڈروں کا اس طرح کے قانون کے خلاف اور حق میں رد عمل سامنے آ چکا ہے۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے آج اپنی رائے ظاہر کی۔ انھوں نے بی جے پی لیڈروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سیدھے یہ سوال داغ دیا کہ ’’پہلے یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ جن بی جے پی لیڈروں نے دوسرے مذاہب میں شادی کی ہے، ان پر ’لو جہاد‘ قانون نافذ ہوگیا یا نہیں؟‘‘

بھوپیش بگھیل نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’بدقسمتی ہے کہ جو پبلک ادارے جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی نے شروع کیے تھے، وہ سب اب پرائیویٹ ہاتھوں میں جا رہے ہیں۔ اس کا نقصان ملک کو ہو رہا ہے۔ اب (مرکزی حکومت) صرف ہندو-مسلمان اور طلاق ثلاثہ میں لگے ہیں، اور اب ’لو جہاد‘ آ گیا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’لو جہاد آ گیا تو ذات سے باہر شادی کرنے والوں پر قانون بنانے کی بات ہو رہی ہے۔ بی جے پی کے ان لیڈروں پر ’لو جہاد‘ نافذ ہوتا ہے کہ نہیں جنھوں نے دوسرے مذہب میں شادی کی ہے۔‘‘

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ نے بی جے پی کے کچھ لیڈران کے نام بھی شمار کرائے جنھوں نے دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین سےشادی کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مرلی منوہر جوشی ہیں، سبرامنیم سوامی ہیں، اڈوانی جی ہیں، ان لوگوں پر ’لو جہاد‘ قانون نافذ ہوتا ہے یا نہیں... پہلے تو یہی پوچھنا چاہیے۔ یہ صرف تقسیم کرنے کا کام کر رہے ہیں، لوگوں کو کیسے جوڑنا ہے، کیسے بڑھانا ہے، اس پر کام نہیں ہو رہا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ اس سے پہلے راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے ’لو جہاد‘ کو لے کر بی جے پی پر حملہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ بی جے پی نے یہ لفظ فرقہ وارانہ خیر سگالی کو بگاڑنے کے مقصد سے تیار کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یو پی کی یوگی حکومت اس قانون کو نافذ کرنے کی تیاری میں ہے۔ علاوہ ازیں مدھیہ پردیش حکومت نے بھی کہا تھا کہ اس کو لے کر اسمبلی اجلاس میں بل لانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

لو جہاد: یوگی حکومت کے ذریعہ منظور آرڈیننس کو سی پی آئی-ایم ایل نے آئین پر حملہ ٹھہرایا

 کمیونسٹی پارٹی آف انڈیا (ایم ایل) کی اترپردیش اکائی نے یوگی کابینہ کے ذریعہ مبینہ لوجہاد پر منظور کیے گئے آرڈیننس کو ملک کے آئین پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملکی آئین میں حاصل ایک شہری کو انتخاب، مذہب اور شہری آزادی کے حقوق پر کھلا حملہ ہے۔

شاہین باغ کی دادی ’ٹائم میگزین‘ کے بعد ’بی بی سی‘ کی 100 بااثر خواتین کی فہرست میں بھی شامل

ٹائم میگزین کی 2020 میں 100 سب سے بااثر شخصیات کی فہرست میں جگہ بنانے کے بعد اب شاہین باغ کی بلقیس دادی نے ایک اور کامیابی حاصل کرتے ہوئے ’بی بی سی- 100 ویمن آف دی ایئر‘ میں بھی مقام حاصل کیا ہے۔