’26 جنوری سے پہلے ہمارے مطالبات مان لیے گئے تو ہم چلے جائیں گے، ورنہ...‘، راکیش ٹکیت کا الٹی میٹم

Source: S.O. News Service | Published on 24th November 2021, 11:49 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،24؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) مودی حکومت تین زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کر چکی ہے۔ اس کے باوجود فی الحال کسان تحریک جاری رکھنے کا اعلان کسان لیڈروں نے کیا ہے۔ کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا کہ حکومت نے اعلان کیا ہے تو وہ قرارداد لا سکتے ہیں، لیکن ایم ایس پی اور 700 کسانوں کی موت بھی ایک ایشو ہے۔ حکومت کو اس پر بھی بات کرنی چاہیے۔ 26 جنوری سے پہلے تک اگر حکومت ہماری بات مان جائے گی تو ہم چلے جائیں گے۔ الیکشن کے تعلق سے ہم انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعد بتائیں گے۔

اس سے ایک دن قبل لکھنؤ میں ہوئی کسان مہاپنچایت میں راکیش ٹکیت نے کہا تھا کہ جب تک حکومت بیٹھ کر ہر مسئلہ پر بات نہیں کرے گی، تب تک کسان اپنے گھروں کو نہیں جائیں گے۔ جدوجہد ختم کرنے کا اعلان حکومت ہند نے کیا ہے، کسان نے نہیں۔ راکیش ٹکیت نے مزید کہا تھا کہ صرف معافی مانگنے سے کام نہیں چلے گا۔ بیج بل، ایم ایس پی گارنٹی، آلودگی بل، دودھ پالیسی، بجلی شرح جیسے کئی ایشوز ہیں جن کا حل نکلنا باقی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو 17 بل پارلیمنٹ میں لائے جا رہے ہیں، انھیں بھی نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

بھیما کوریگاؤں معاملے کی ملزم سدھا بھاردواج کی مشکلات میں اضافہ، ضمانت کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی این آئی اے

چھتیس گڑھ کی معروف سماجی کارکن اور وکیل سدھا بھاردواج کو ممبئی ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی ضمانت کے خلاف قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔