کیا ’نئی قومی تعلیمی پالیسی‘ ہندوستان میں تبدیلی لا سکے گی؟ .........آز: محمد علم اللہ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 30th July 2020, 11:27 PM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

ایک ایسے وقت میں جب کہ پورا ہندوستان ایک خطرناک وبائی مرض سے جوجھ رہا ہے، کئی ریاستوں میں سیلاب کی وجہ سے زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے، مرکزی کابینہ نے آنا فانامیں نئی تعلیمی پالیسی کو منظوری دے دی۔جب کہ سول سوسائٹی اور اہل علم نے پہلے ہی اس پر سوالیہ نشان کھڑے کئے تھے اوراسے ایک مخصوص نظریہ کا شاخسانہ قرار دیا تھا۔

بتاتے چلیں کہ آزاد ہند میں یہ تیسری تعلیمی پالیسی ہے، اس سے قبل یہاں دو قومی تعلیمی پالیسیاں بالترتیب 1968 ء اور 1986 میں اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے عہد میں بنائی گئی تھیں، تاہم 1986 ء کی پالیسی پر نظرثانی 1992 ء میں کی گئی تھی، جب پی وی نرسمہا راؤوزیر اعظم تھے۔ قومی تعلیمی پالیسی اور بی جے پی کے بارے میں اگر دیکھا جائے تو 1977۔ 79 ء میں جب وہ جنتا حکومت کے حلیف کی حیثیت سے حکمران تھی، اْس وقت بھی اس نے کوشش کی تھی کہ نئی تعلیمی پالیسی پیش کی جائے، لیکن ان کا دیا ہواخاکہ سنٹرل ایڈوائزری ایجوکیشن بورڈ نے نا منظور کر دیا تھا۔اب جبکہ بی جے پی مکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار میں ہے،حکومت نے قومی تعلیمی پالیسی کو ہری جھنڈی دے دی، باوجودیکہ اس مسودہ میں بے شمار خامیوں کی نشاندہی اہل علم نے کی تھی اور ملک کے متعدددانشوروں نے اسے ناقص، خطرناک اور ایک مخصوص طرز فکر کا آئینہ قرار دیا تھا۔

حالانکہ مسودہ کی بابت حکومت نے دعویٰ کیاہے کہ یہ پالیسی نئے ہندوستان کی تعمیر میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جس مسودے کو پاس کیا گیا ہے، اس پرجب راے لی گئی تواس بارے میں انسانی وسائل کی وزارت کو دو لاکھ سے زیادہ تجاویز موصول ہوئیں۔انصاف اور ایمانداری کا تقاضہ تو یہ تھا کہ رائے موصول ہونے کے بعد ایڈٹ شدہ مواد بھی عوام کے سامنے رکھا جاتا، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا اور یوں نئی تعلیمی پالیسی کو منظوری مل گئی۔ اس خطرناک قرارپارہی تعلیمی پالیسی کے جو نکات ابھر کر سامنے آرہے ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں:

اسکولی تعلیمی نظام چار زمروں پر مشتمل ہوگا۔ تین سال کی عمر سے پری پرائمری کو تین سالوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ایک سال پری پرائمری 1 + 2 = (3 سال) دوسر ے حصّے کے طور پر تیسری، چوتھی، اور پانچویں جماعت کے 3 سالوں پر مشتمل ہوگا۔ تیسرے حصّے کے طور پر چھٹی، ساتویں اور آٹھویں 6 + 7 + 8 جماعتوں کو بھی تین سالوں پر مشتمل رکھا گیا ہے۔ چوتھا حصہ 10 + 2 پر مشتمل ہے، تاہم اس پالیسی میں 9 تا 12 ویں کلاس کے طلباء اسکولی طلباء کہلائیں گے۔ 12 ویں کا جو پری یونیورسٹی یا انٹرمیڈیٹ کورس کہلاتا ہے،اس کو ختم کردیا جائے گا اور پورے ملک میں اسکولی تعلیمی نظام رائج رہے گا۔ 12 ویں کے بعد ہی طلباء اسکول سے فراغت حاصل کر سکیں گے۔ ہائیر سیکنڈری اور جونیر کالجز کا نظام ختم کرکے 11 ویں اور 12 ویں جماعتوں کو سکینڈری اسٹیج میں ملا دیا جائے گا۔

چھٹی جماعت سے سہ لسانی فارمولا اختیار کیا جائے گا۔ مقامی زبانوں کے علاوہ درج فہرست زبانوں میں سے علاقائی اعتبار سے زبانیں پڑھائی جائیں گی، سنسکرت کو بھی شامل کیا جائے گا۔ انگریز ی زبان پر توجہ کم کردی جائے گی۔ اساتذہ کو درس و تدریس کے علاوہ دیگر حکومتی و ترقیاتی کاموں کی زحمت نہیں دی جائے گی۔ ان کی الیکشن کے موقع پر ڈیوٹی یا سرکاری اسکولوں میں دو پہر کے کھانے کے انتظامات کی ذمہ داری بھی نہیں ہو گی۔ استاد کا کام صرف پڑھانا ہوگا اور معیاری تعلیم کی طرف توجہ مرکوز کرنا ان کی اہم ذمّہ داری ہوگی۔

جاری بی ایڈ نظام تعلیم میں تبدیلی لائی جائے گی۔ 3 سالہ بی ایڈ گریجویشن کورس کو ختم کرکے 4 سالہ بی ایڈ کورس متعارف کر ایا جائے گا۔ ہر سطح کے تعلیمی ارکان خواہ وہ میڈیکل، انجینئرنگ کالجز کے ہی کیوں نہ ہوں، پڑھانے کے لیے بی ایڈ کرنا لازمی ہوگا۔ ہرسال اپنے پیشہ ورانہ مہارت کو فروغ دینے کیلئے 50 گھنٹے سی ڈی پی میں صرف کرنا ہوگا۔ موجودہ تمام غیر معیاری بی ایڈ اور ڈی ایڈ کالجز مکمل طور پر ختم کردیے جائیں گے۔

جدید تعلیمی پالیسی میں ٹیچرس ٹریننگ اور معیاری تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ڈاکٹروں کی طرح 4 سالہ بی ایڈ گریجویشن کے بعد ٹیچنگ میں 2 سالہ تدریسی عمل سے گزرنا ہوگا۔ بی ایڈ 6 سال میں مکمل ہو گا۔ریجنل انسٹی ٹیوشن آف ایجوکیشن سے دو سالہ کورس تکمیل کرنے والوں کو نوکریوں میں ترجیح دی جائے گی۔ نج کاری اور پبلک اسکول کی تعبیرو تشریح مکمل طور پر بدل دی جائے گی، جو اسکول حکومت اور عوامی عطیات سے قائم ہوں گے، وہی لفظ ِ پبلک لکھنے کے مجاز ہوں گے۔ باقی تمام پرائیویٹ انتظامیہ والے اسکول جو اپنے اپنے اسکول کے ساتھ پبلک اسکول لکھیں گے اسے غیر قانونی مانا جائے گا۔ پرائیویٹ اسکولوں کو تعلیمی فیس طے کرنے کی آزادی ہوگی لیکن وہ فیس من مانے طور پر وصول نہیں کرسکیں گے۔

اعلی تعلیم و تحقیقی شعبوں میں تمام مروجہ نظام کو بدل کرایک نیا تعلیمی نظام متعارف کروایاجائے گا، جس کے مطابق 3 طرح کے ادارے ہوں گے۔ پہلے نمبر پر جدید تحقیقات و مطالعات کا کام بڑے پیمانے پرانجام دیا جائے گا۔ جس میں انڈر گریجویٹ اورپی ایچ ڈی نیز ماسٹر و پیشہ روانہ اور وکیشنل پروگرام ہوں گے۔ معیاری تعلیمی اداروں سے فارغ طلباء کو ان اداروں میں داخلہ دیا جائے گا جس میں نئی نسل کی ذہن سازی کے لیے عملی نمونہ تیار کیا جائے گا اوراگلے 20 سالوں میں ایسے 150 تا 300 اعلی تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں گے۔ دوسرے نمبر پر تدریسی ادارے ہوں گے جس میں تدریسی صلاحیتوں اور اعلیٰ تعلیمی معیار کو فروغ دینے کے لیے اساتذہ تیار کیے جائیں گے، اس میں پیشہ ورانہ اساتذہ کی تعلیم و تربیت لازمی ہوگی۔ تیسرے مرحلے میں ایسے ادارے ہوں گے جو انڈر گریجویٹ اوراختیاری مضامین کے مطابق چلائے جائیں گے۔

یونیورسٹیوں کو تین حصّوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اول: پبلک، دوم: پرائیویٹ، سوم: پرائیوٹلی ایڈڈ۔ یونیورسٹیز سے مروّجہ ایم فل ڈگری کو مکمل طور پر ختم کردیا جائے گا اوراو۔ ڈی۔ ایل پروگرام (فاصلاتی تعلیم) کو فروغ دیا جائے گا نیز اسے آن لائن کے تحت مربوط کرکے طلباء کی تعلیمی ضرورتوں کو پورا کیا جائے گا۔ اس میں یوگا کو بھی اہمیت دی گئی ہے، جب کہ اخلاقی تعلیمات پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ہے۔ اس پالیسی کے مطابق کاروباری تعلیم، زندگی گزارنے کے مختلف مواقع جس میں باغبانی، الیکٹرک ورک، دست کاری اور صنعت وحرفت وغیرہ کو ابتدائی جماعتوں سے سکھانے کے انتظامات جائیں گے۔

عالمی سطح پر ہندوستان کو اعلیٰ مقام تک لے جانے کیلئے دنیا کی 200 سے زائد یونیورسٹیوں اور اس کی شاخوں کے طلبہ کو یہاں داخلہ دیا جائے گا۔ (یہ الگ بات ہے کہ ادھر گذشتہ پانچ سالوں میں سب سے زیادہ بیرونی ممالک میں بھیجے جانے والے طلبامیں ہندوستان سر فہرست ہے، یہاں سے ہر سال تقریباً تین لاکھ طلبہ بیرونی ممالک میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے جارہے ہیں، جب کہ اس کے بر عکس بین الاقوامی طلبہ کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہی یعنی 46 ہزار طلبہ بیرونی ممالک سے ہندوستان آکر تعلیم حاصل کررہے ہیں، جب کہ ہندوستان میں تحقیق کے معاملے میں ہماری جی ڈی پی کی آمدنی سے 0.84 فیصد 2008 ء سے لے کر 2014 ء تک 0.69 فیصد ہے۔)

اس تعلیمی پالیسی میں نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن کا بھی ذکر ہے۔ جو ریسرچ کرنے والی تنظیموں پر نگراں ہو گی، اس کا احیاء اور تشکیل آئین کے مطابق ہوگا۔ اس کیلئے سالانہ 20 ہزار کروڑ روپئے سیِڈ مَنی (ابتدائی تعاون) کے طور پر دیے جائیں گے۔ اس تعلیمی پالیسی میں ’راشٹریہ شکشا آیوگ‘ کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کی تشکیل بھی پارلیمنٹ کے قانون کے مطابق ہو گی۔ اس کے سربراہ خود وزیر اعظم ہوں گے اور ایڈوائزری باڈیز کے ذریعہ اس کی تعمیل و تشکیل ہوگی۔

اس میں نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن، این سی ای آر ٹی، نیشنل ٹیسٹنگ ایجوکیشن، ہائر ایجوکیشن، گرانٹ کونسل اور ریاستی تعلیمات کے ارکان شامل ہوں گے۔ اس طرح اس مسودے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیاہے کہ موجودہ وزارت تعلیم، فروغ انسانی وسائل کے بجائے اسے وزارت تعلیم کہا جائے گا۔ جس میں وزیر تعلیم اور راشٹریہ شکشن آیوگ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے علاوہ یونین منسٹر آف یونین ایجوکیشن مختلف لوگوں کی نامزدگی کریں گے۔

جدید تعلیمی پالیسی کے مسودہ میں ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان اور ان کے تعلیمی رویے کے بابت محض ڈیڑھ صفحہ پر مشتمل بے ربط انداز میں چند باتیں درج ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے سلسلہ میں پالیسی سازوں نے مکمل طور پر معاندانہ رویہ اختیا ر کیا ہے۔ اقلیتوں کے تعلیمی اداروں کی بقاء اور فروغ کے سلسلہ میں پالیسی ساز بالکل خاموش ہیں۔ ڈرافٹ کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہو تا ہے کہ اب تمام اختیارات، مرکزی حکومت کے ہاتھ میں آجائیں گے، جس کے مطابق حکومت تعلیمی سیکٹر کیلئے اپنی پبلک فنڈنگ آہستہ، آہستہ ختم کردے گی۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم و ریسرچ پر قومی بجٹ کا 6 % خرچ کیا جاتا ہے جبکہ ہمارے یہاں 2 % بھی بجٹ نہیں دیا جاتا۔

ایسا لگتا ہے کہ حکومت اپنی پالیسی کے مطابق آہستہ آہستہ سرکاری اداروں کو کم کردے گی۔ خدشہ اس بات کا ہے کہ جتنے ملک میں عطیہ جاتی ادارے ہیں انہیں بھی معیار تعلیم کے لازمی مطلوبات کے مطابق نہ رہنے کا بہانہ بناتے ہوئے اقلیتی تعلیمی اداروں کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ نئی تعلیمی پالیسی 2019 ء میں ایسے اشارے بھی ملتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بڑے پیمانے پر ہندوتوا تحریکات اور آر ایس ایس کے کارکنوں کا ہر تعلیمی ادارے میں عمل دخل ہوگا، پالیسی دستاویز میں اس کا ہلکا سا ذکر کیا گیا ہے کہ کارکنان تعلیمی اداروں کے درس و تدریس کے نظام پر نظر رکھیں گے۔ حالانکہ اس کی صراحت نہیں ہے کہ یہ کارکنان کون لوگ ہوں گے؟ ان کے کیا اختیارات ہوں گے؟

نیشنل ایجوکیشن پالیسی میں دیے گئے تجاویز و مشوروں پر عمل آوری کے لئے جو ایکشن پلان ہونا چاہیے تھا اس کابھی کہیں ذکر نہیں ہے۔ حالاں کہ نئے نظم میں تقرری اوردیگر سہولیات کی فراہمی کا ذکر بھی ضروری تھا۔ ساتھ ہی ہر ریاست کے لئے علیحدہ ایکشن پلان ہونا چاہیے تھا۔ اس پالیسی کے نفاذ کے لئے ادارہ جاتی فائنانس ایک بنیادی ضرورت ہے۔ تعلیم کیلئے دیا جانے والا بجٹ دیگر ترقی یافتہ ممالک کے تناسب سے نہایت ہی کم ہے۔ جب تک بجٹ میں اضافہ نہ ہو تعلیمی پالیسی کے دیے ہوئے رہنما اْصول پر عمل آوری ناممکن ہے۔

اس پالیسی کے مطابق قدیم ہندوستانی ویدک تہذیب اور نالندہ کے طریقہ تعلیم کو رائج کرنے کی کوشش ہوگی۔ جس میں میوسیقی اور رقص کی کلاسیں ایک ساتھ ہوں گی، سرسوتی پوجا، یوگا نیز ہندو، مذہبی تعلیمات کو لازمی طور پر شامل رکھنے کی بات بھی مسودہ میں شامل ہے۔ مسلمانوں کے 87 % بچّے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، اگر سرکاری اسکولوں کا بجٹ کم کردیا جائے یا پھر سرکاری نصاب میں ان تمام مذہبی تعلیمات کو لازم کردیا جائے، جیسا کہ اس وقت دیگر اہلیتی امتحانات میں کثرت سے یہ کام انجام دیے جا رہے ہیں تواس میں اندیشہ ہے کہ اسکریننگ ٹیسٹ کے نام پر مخصوص طلباء کو داخلے سے روک دیا جائے گا، اس سے نہ صرف ہندوستانی مسلمان بلکہ دیگر اقلیتوں کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جانے کا امکان ہے۔

افسوس اس قدر حساس موضوع پر ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان اورمسلم قائدین کی جانب سے جس قسم کے رد عمل کا اظہار کیا جانا چاہیے تھا،وہ دیکھنے میں نہیں آرہا ہے اوردیگر امور کی طرح اس معاملے میں بھی مسلم قائدین اور ملی تنظیموں کی جانب سے خاموشی اور سرد مہری کا رویہ ہی دیکھنے کو ملا۔ ایسا لگتا ہے کہ چند ایک کو چھوڑ کر زیادہ تر مسلم زعماء اور قائدین ملّت اس قومی تعلیمی پالیسی کے مسودہ کو پڑھنے سے قاصرہیں۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ وہ اس پر احتجاج کرتے اور بڑی تعداد میں سیکولر طبقے کو ساتھ لے کر ہندوستان کو مستقبل میں پیش آنے والے خطرات سے بچانے اور نونہالوں کے ذہن کو مسموم کرنے والے عمل کے خلاف آواز اٹھاتے۔

موجودہ تعلیمی پالیسی کا مسودہ تیار کنے والے پینل کے چیئرمین ڈاکٹر کستوری رنگن ہیں جبکہ دیگر ارکان میں پروفیسر وسودھا کامتھ جو ایس این ڈی ٹی یونیورسٹی کی سابقہ وائس چانسلر، پرنسٹن یونیورسٹی کی پروفیسر منجل بھارگوا جو حساب کی پروفیسر ہیں، رام شنکر کریل بابا صاحب امبیڈکر یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر، پروفیسر کٹھامنی ای وی جو اندراگاندھی نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر، شری کرشنا موہن ترپاٹھی یو پی ہائی اسکول و انٹرمیڈیٹ ایگزامینیشن بورڈ کے سابق چیئرمین، پروفیسر مظہر آصف جو جے این یونیورسٹی میں وسط ایشیائی ایشین اسٹیڈیز کے پروفیسر ہیں، پروفیسر کے این سری دھر جو کرناٹک نالج کمیشن کے سربراہ کے علاوہ ڈاکٹر شکیلا جو ڈپارٹمنٹ آف ایچ آر ڈی میں او ایچ ڈی کی حیثیت سے نیشنل ایجوکیشن پالیسی اور راجندر پرتاپ گپتا جیسے ذمہ داروں کے نام شامل ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

دہلی میں ای-گاڑی پالیسی کا اعلان، الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری پر رعایت ملے گی

ہلی کی اروند کیجریوال حکومت نے دارالحکومت کو آلودگی سے پاک کرنے کے منصوبے کے تحت جمعہ کے روز ای- گاڑی پالیسی کو نافذ کرنے کا اعلان کیا، جس میں مختلف زمروں کی الیکٹرک گاڑیاں خریدنے کے لئے 30 ہزار سے لے کر 1.5 لاکھ روپے تک رعایت دی جائے گی۔

بے لگام میڈیا پر جمعیۃ کی عرضی: جب تک عدالت حکم نہیں دیتی حکومت خود سے کچھ نہیں کرتی: چیف جسٹس

مسلسل زہر افشانی کرکے اور جھوٹی خبریں چلاکر مسلمانوں کی شبیہ کوداغدار اور ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوارکھڑی کرنے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں کے خلاف داخل کی گئی

دہلی فسادات: پروفیسر اپوروانند کی حمایت میں سامنے آئے ملک و بیرون ملک کے دانشوران

 ملک اور بیرون ملک کے ایک ہزار سے زائد معروف دانشوروں، نوکر شاہوں، صحافیوں، مصنفوں، ٹیچروں او اسٹوڈنٹس نے دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند سے مشرقی دہلی میں فسادات کے معاملے میں پوچھ گچھ کئے جانے اور انکا موبائل فون ضبط کرنے کے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور پولیس کے ذریعہ ...

کالعدم چینی کمپنیوں سے بی جے پی کے گہرے رشتے ہیں: کانگریس

 کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے قومی سلامتی کے لیے خطرہ بتاتے ہوئے جن چینی کمپنیوں پر پابندی لگائی ہے ان میں سے کئی کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے گہرے رشتے ہیں اور گزشتہ عام انتخابات میں ان کمپنیوں نے اس کے لیے تشہیری مہم کا کام کیا تھا۔

بابری مسجد تاریخ کے آئینہ میں؛ 1528 میں بابری مسجد کی تعمیر کے بعد 1949 سے 2020 تک

ایک طویل عدالتی جد و جہد کے بعد گزشتہ سال نومبر کی 9 تاریخ کو سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا اور ایودھیا میں واقع بابری مسجد کے انہدام کو پوری طرح غیر قانونی بتا کر اراضی کی ملکیت اسی ہندو فریق کو سونپ دی جو مسجد کی مسماری کا ذمہ دار تھا۔

”دہلی کا فساد بدلے کی کارروائی تھی۔ پولیس نے ہمیں کھلی چھوٹ دے رکھی تھی“۔فسادات میں شامل ایک ہندوتوا وادی نوجوان کے تاثرات

دہلی فسادات کے بعد پولیس کی طرف سے ایک طرف صرف مسلمانوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ سی اے اے مخالف احتجاج میں شامل مسلم نوجوانوں اور مسلم قیادت کے اہم ستونوں پر قانون کا شکنجہ کسا جارہا ہے، جس پر خود عدالت کی جانب سے منفی تبصرہ بھی سامنے آ چکا ہے۔

ملک پر موت اور بھکمری کا سایہ، حکومت لاپرواہ۔۔۔۔ از: ظفر آغا

جناب آپ امیتابھ بچن کے حالات سے بخوبی واقف ہیں۔ حضرت نے تالی بجائی، تھالی ڈھنڈھنائی، نریندر مودی کے کہنے پر دیا جلایا، سارے خاندان کے ساتھ بالکنی میں کھڑے ہو کر 'گو کورونا، گو کورونا' کے نعرے لگائے، اور ہوا کیا! حضرت مع اہل و عیال کورونا کا شکار ہو کر اسپتال پہنچ گئے۔

بھٹکل نیشنل ہائی وے کنارے پر مچھلی اور ترکاری کا لگ رہا ہے بازار۔ د ن بھر سنڈے مارکیٹ کا منظر

جب سے بھٹکل میں کورونا وباء کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہواتھا، تب سے ہفتہ واری سنڈے مارکیٹ اور مچھلی مارکیٹ بالکل بند ہے۔ لیکن ترکاری، فروٹ اور مچھلی کے کاروباریوں نے نیشنل ہائی وے، مین روڈ اور گلی محلوں کی صورت میں اس کا دوسرا نعم البدل تلاش کرلیا ہے۔

بابری مسجد کے "بے گناہ" مجرم ............ تحریر: معصوم مرادآبادی

بابری مسجد کا انہدام صدی کا سب سے گھناؤناجرم تھا۔ 6 دسمبر1992کو ایودھیا میں اس پانچ سو سالہ قدیم تاریخی عبادت گاہ کو زمیں بوس کرنے والے سنگھ پریوار کے مجرم خودکو سزا سے بچانے کے لئے اب تک قانون اور عدلیہ کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے رہے ہیں۔ایک طرف تو وہ اس بات پر فخر کا اظہار کرتے ...