بھٹکل کے ’میکرس ہَب‘نے کی ہے طبی عملے کے لئے’فیس شیلڈ‘۔ نوجوانوں کی ہورہی ہے ستائش!

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 6th April 2020, 11:37 AM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 6/ اپریل (ایس او نیوز) کورونا وائرس نے جہاں ایک طرف دنیا بھر میں اپنا قہر برپا کیا ہے، وہیں دوسری طرف ڈاکٹر، طبی عملہ اور سماجی رضاکا ر اپنی جان پر کھیلتے ہوئے اس وباء کو قابو میں کرنے کی مہم چلارہے ہیں۔ ایسے میں فیلڈ میں رہ کر کام کرنے والوں کا تحفظ بہت ہی اہم ہوجاتا ہے، جس کے لئے ضروری سازوسامان یا پرسنل پروٹیکٹیو اکوِپمنٹ وغیرہ کی کمی کھل کر سامنے آگئی ہے۔مضافات میں کام کررہے ڈاکٹروں کے پاس ضروری ماسک تک موجو د نہیں ہیں اور اس کی وجہ سے کورونا وباء پر قابو پانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ان حالات میں بہت سارے اداروں کی طرف سے دوسرے شہروں میں خرید کر اور خواتین کی طرف سے گھروں پر ماسک تیار کرکے طبی عملہ اور رضاکاروں کو فرا ہم کیے جارہے ہیں۔ 

 لیکن اب بھٹکل کے ’میکرس ہَب‘ نامی نوجوانوں کے ایک گروپ نے طبی عملے کے لئے ضروری نقاب (فیس شیلڈ) تیار کرلی ہے، جو ماسک سے بڑھ کر طبی عملے کا تحفظ کرنے کے کام آسکتی ہے۔ اس لئے اس کی ستائش ہر طرف سے کی جارہی ہے۔کیونکہ یہ شیلڈ سرکاری سطح پر بھی دستیاب نہیں ہے۔بھٹکل مدینہ کالونی کے سید قطب ہال میں واقع ’میکرس ہَب‘ نوجوان طلبہ کا ایک گروپ ہے جس نے اپنی جدت طرازی اور صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ ’فیس شیلڈ‘ یا نقاب تیار کرلی ہے۔ اور اس کا مقصدکورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لئے طبی عملہ، پولیس اہلکار اور رضاکاروں کو ضروری تحفظ فراہم کرنا ہے۔

 فیس شیلڈ سے متعلق بات کرتے ہوئے نُوہیل دامودی نے بتایا کہ طبی عملہ جو ماسک استعمال کرتا ہے وہ صرف ناک اور منھ کو محفوظ رکھتا ہے، لیکن آنکھوں کے لئے خطرہ موجود رہتا ہے۔لیکن اب ہم نے جو شیلڈ تیار کی ہے وہ پورے چہرے کو محفوظ رکھنے کا کام کرتا ہے۔اس سے طبی عملے کے ساتھ دوسرے جولوگ بھی اس میدان میں کام کررہے ہیں ان کے لئے یہ نقاب بہت ہی مفید ہوسکتی ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ فی الحال میکرس ہب والے اس نقاب کو اپنے ہاتھوں سے تیار کررہے ہیں اس لئے پہلے مرحلے میں 100 شیلڈس تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ بھٹکل تعلقہ میں کوروناوائرس کی روک تھام کے لئے طبی شعبے کے نوڈل آفیسر ڈاکٹر شرد نائک نے ہمیں شیلڈ تیار کرنے کی اجازت دی ہے۔ آئندہ اس کی تیاری کے لئے ضروری مشین کا انتظام کرنے کے بعد ایک دن میں 500سے زیادہ شیلڈس تیارکی جاسکیں گی۔

 خیال رہے کہ انجینئرنگ کالج میں زیر تعلیم طلبہ کے اس گرو پ نے 2017میں ’میکرس ہب‘ قائم کیاتھا۔اس ادارے کے تحت انجینئرنگ اور پالی ٹیکنیک شعبوں میں زیر تعلیم طلبہ کے لئے پروجیکٹس کی تیاری میں مدد کرنااور ان کی رہنمائی کرنا، نوجوانوں کو انجینئرنگ میں دلچسپی لینے پر آمادہ کرنے کے لئے ورکشاپ منعقد کرنا، میکرس ہب کے مقاصد میں شامل ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں 72 ویں یوم جمہوریہ کی خوبصورت تقریب؛ بھٹکل کے بی جے پی رکن اسمبلی نے کوویڈ کے موقع پر ہیلتھ ورکروں کے ساتھ تنظیم کی بھی خدمات کا کیا اعتراف

جس طرح ملک بھر میں آج 26 جنوری کےموقع پر یوم جمہوریہ کی 72 ویں تقریب  منعقد ہوئی، بھٹکل میں بھی  سرکاری اداروں، پرائیویٹ اداروں، اسکولوں اور کالجوں میں  بھی پورے اہتمام کے ساتھ اس تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ہر سال کی طرح امسال بھی بھٹکل تعلقہ انتظامیہ کی جانب سے  صبح 9 بجے بھٹکل ...

زرعی قوانین کی مخالفت میں بنگلورو سمیت ریاست کےمختلف مقامات پر کسانوں کی دھاڑ: ٹریکٹرپریڈ کے ذریعے مرکزی اور ریاستی حکومت سے زرعی قوانین واپس لینے کامطالبہ

مرکزی حکومت کی تین زرعی قوانین اور ریاستی حکومت کے اراضی قانون میں کی گئیں ترمیمات کو  واپس لینے پرزور دیتے ہوئے ریاست کے صدر مقام بنگلورو سمیت مختلف مقامات پر کسانوں نے بڑے پیمانےپر ٹریکٹر پریڈ کا اہتمام کرتےہوئے بی جےپی اقتدار والی حکومتوں کے خلاف اپنی سخت برہمی کا ...

 کیا بھٹکل جالی ساحل سیر و تفریح کے لئے ہوگیا ہے غیر محفوظ؟ شہریوں کے لئے کیا ہے اس کا متبادل ؟!

بھٹکل تعلقہ میں  مرڈیشور ساحل اور مرڈیشور کا  مندر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت یافتہ سیاحتی مرکز ہے۔ اس کے بعد بھٹکل شہر سے قریب جالی بیچ ان دنوں سیر و تفریح کرنے والوں کے لئے بہت زیادہ دلکش بنتا جارہا ہے۔

مرڈیشور میں سیاحوں کی آمد ورفت میں اضافہ :افسران کی غفلت سے مین روڈ کا تعمیری کام برسوں سے  تعطل کا شکار

مرڈیشور ایک سیاحتی مرکز کے طور پر بہت مشہور ہے ،ملک و بیرونی ملک اور ریاستوں کے سیاح جب مرڈیشور کے مین روڈ سے گزرتے ہیں تو خستہ سڑک کی بدولت سر شرم سے جھک جاتاہے۔ مرڈیشورکے عوام اس حالت کے لئ ے  افسران کی لاپرواہی  کو ذمہ دار مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ  مشہور سیاحتی مقام کی اہم ...

رام مندر کی بنیادیں کیوں لرز رہی ہیں؟ ... معصوم مرادآبادی

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اجودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر جس ’ عظیم الشان‘رام مندر کی تعمیر ہورہی ہے ، اس کا خمیر ظلم اور ناانصافی سے تیار ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کی تعمیرمیں ایسی دشواریاں حائل ہورہی ہیں ، جن کا تصور بھی مندر تعمیر کرنے والوں نے نہیں کیا ...

گرام پنچایت انتخابات  کے نتائج: ریاست کے مختلف مقامات سےکچھ اہم اور دلچسپ جھلکیاں

ریاست کرناٹک  میں گرام پنچایت انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوچکا ہے جس میں ایک طرف بی جےپی حمایت یافتہ امیدوار وں نے سبقت حاصل کی ہے تو دوسری طرف کچھ اہم اور دلچسپ قسم کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ کچھ حلقوں میں ساس نے بہو کو ہرایا ہے، کچھ میں شوہر کو جیت اور بیوی کو شکست ہوئی ہے تو ...