انقلابی سیرت سے ہم کیوں محروم ہیں؟ .................آز: مولانا سید احمد ومیض ندوی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 29th November 2017, 2:17 PM | اسپیشل رپورٹس | اسلام |

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سیرتِ رسولؐ انقلابی سیرت ہے، تاثیر وانقلاب اس سیرت کی امتیازی خصوصیت ہے، جس نے بھی اس کو گلے سے لگایا اس کی زندگی کی کایا پلٹ گئی، صحابہؓ سیرتِ رسول سے پہلے کچھ نہ تھے، سیرتِ رسول کے بعد سب کچھ ہوگئے، اونٹوں کے چرواہے انسانیت کے قائد ورہنما بن گئے، جہالت وظلمت کے رکھوالے علم وہدایت کی شمعیں جلانے لگے، حیوانیت وبربریت کا مظاہرہ کرنے والے انسانیت کا درس دینے لگے، یہ سب نبی کی انقلابی سیرت کی تاثیر کا نتیجہ تھا، سیرتِ رسول آج کے مسلمانوں کے پاس بھی پوری طرح محفوظ ہے، لیکن ان کی زندگیوں میں کسی طرح کے انقلابی اثرات نظر نہیں آتے، آخر وجہ کیا ہے؟ کیا نعوذ باللہ سیرتِ رسول موجودہ دور میں اپنی تاثیر کھوچکی ہے؟ ایسی بات نہیں ہے، سیرتِ رسول کی تاثیر زمان ومکان کے حدود سے ماورا ہے، چودہ سو سال قبل جس طرح یہ سیرت اثر انگیز اور انقلاب آفریں تھیں اب بھی وہ اسی طرح تاثیر وانقلاب کی صفت سے معمور ہے، اس کے باوجود تاثیر وتبدیلی کے اعتبار سے ہمارے اور اسلاف میں فرق اس لیے ہے کہ صحابہ اور سلف ِ صالحین نے سیرتِ رسول کو عملی زندگی میں برتا تھا اور خود کو اسوۂ رسول کے سانچہ میں ڈھالا تھا جب کہ موجودہ دور کے ہم مسلمان صرف سیرت کے سننے اور جاننے پر اکتفاء کرتے ہیں، سیرتِ رسول سے ہمارا تعلق ظاہری اور بیرنی نوعیت کا ہے۔

صحابہ اور سلف ِ صالحین وتابعین جذبۂ اتباعِ سنت سے سرشار تھے، سنتوں کا اہتمام اور اتباعِ سنت ان کے رگ وریشہ میں بس گیا تھا،کسی چیز کے تعلق سے نبی کی معمولی سی ناگواری پر وہ متنبہ ہوجایا کرتے تھے، حضرت عبد اللہ بن عمروبن عاص اپنے جسم پر کسم کے رنگ کی چادر ڈالے ہوئے تھے، حضور کی نظر پڑی تو آپ نے کسی قدر ناگواری کا اظہار فرمایا، تھوڑی سی ناگواری کیا دیکھی حضرت عبد اللہ فوراً گھر تشریف لے گئے، اور سلگتے ہوئے چولہے میں چار پھینک دی، دوسرے دن جب حضور کے پاس کا چادر کا ذکر آیا تو انہوں نے سارا قصہ سنایا، حضور نے فرمایا گھر کی خواتین کو دیا ہوتا کہ اُن کے پہننے میں کوئی مذائقہ نہیں تھا۔(ابوداؤد) 

ایک انصاری صحابی کے مکان کے پاس سے آپ کا گذر ہوا جو قبہ نما اونچا تھا، آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ مکان کس کا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ یہ فلاں انصاری کا ہے، جب وہ صحابی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے کچھ بے رُخی کا اظہار کیا، صحابی نے جب دوسرے صحابہ سے وجہ دریافت کی تو لوگوں نے سارا قصہ سنایا، فوراً گھرتشریف لے گئے، عمارت کو ڈھا کر زمین کے برابر کردیا اور حضور سے ذکر بھی نہیں کیا، اتفاق سے جب دوبارہ آپ کا اس جگہ سے گذر ہوا تو آپ نے دریافت کیا کہ وہ گنبد نما عمارت کیا ہوئی؟ لوگوں نے صورت ِ حال بتادی، آپ نے فرمایا ضرورت کی تعمیر کے علاوہ ہر تعمیر آدمی کے لیے وبال ہے۔(حوالہ سابق)

حضرت حذیفہ ؓ  ایک عجمی بادشاہ کے دستر خوان پر کھانا تناول فرمارہے ہیں، اچانک ہاتھ سے لقمہ گر پڑا تو گرے ہوئے لقمہ کو صاف کرکے کھانے لگے، شاہی خدام کہتے ہیں کہ آپ کی یہ حرکت آدابِ شاہی کے خلاف ہے، لوگ ا یسے شخص کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، حضرت حذیفہ برہم ہوکر کہنے لگے:  أ اترک سنۃ حبیبي لہؤلاء الحمقاء کیا میں ان احمقوں کی وجہ سے اپنے محبوبﷺ کی سنت کو چھوڑ دوں؟

حضرت عبد اللہ بن عمروبن عاص اتباعِ سنت کا بہت زیادہ اہتمام کرتے تھے، حتی کہ عادی امور میں بھی اس کا پورا لحاظ کرتے تھے، جب بھی حج کے لیے تشریف لے جاتے، بلا کسی ظاہری سبب کے جگہ جگہ رکتے، اٹھتے بیٹھتے تھے، کسی کی دریافت کرنے پر بتایا کہ میں نے حضور کو سفر حج میں جس جگہ جو کچھ جس طرح کرتے دیکھا ہے چاہتا ہوں کہ اس سنت پر جوں کا توں عمل کروں۔

حضرت خریم فاتک خوبصورت نازک مزاج تھے، لباس اور وضع قطع میں اہتمام کرتے تھے، اسلام سے پہلی پاجامہ نیچا پہنتے تھے، اور لامبے لامبے گیسورکھتے تھے، ایک مرتبہ حضورﷺ نے ان کے غیاب میں فرمایا: خریم کیا ہی اچھے آدمی ہیں اگر وہ لامبے بال نہ رکھیں اور پاجامہ نیچا نہ پہنیں، آپ کے اس ارشاد کی ا نہیں اطلاع ہوئی فوراً حجاج کی دکان پر پہونچے اور سارے بال کٹوا ڈالے، لوگوں نے دیکھا کہ ان کے سارے بال صاف ہوگئے اور پاجامہ آدھی پنڈلی تک پہونچ گیا ہے۔(ابوداؤد)

یہ تو حضراتِ صحابہ کے نمونے تھے، اتباعِ سنت اور سیرتِ رسول پر عمل آوری کا اہتمام بعد کے ادوار میں بھی رہا، اولیاء اللہ بھی سنتوں کی شدید اتباع کرتے تھے، حضرت شبلیؒ   مشہوربزرگ اور سرخیل ِ اولیاء ہیں، آخری وقت ہے، بیہوشی کے عالم میں مریدین سے وضو کرانے پر اصرار کررہے ہیں، مریدین کے ہزار انکار کے باوجود اصرار کرتے رہے،چنانچہ وضو کرایا گیا، وضو سے فراغت کے بعد پھر دوبارہ وضو پر اصرار کرنے لگے، مریدین نے کہا حضرت ابھی تو آپ کو وضو کرایاگیا ہے،فرمایا وضو کراؤ، کیوں کہ وضو میں حضورﷺ کی سنت انگلیوں کے خلال کی بھی ہے، تم نے مجھے خلال نہیں کرایا، کہا میں دنیا سے اس حال میں جاؤں اور قبر میں حضورﷺ کا سامنا اس طرح کروں کہ آپ کی ایک سنت کو چھوڑ نے کا الزام ہو یہ کبھی نہیں ہوسکتا، جب دوبارہ انگلیوں کے خلال کی سنت کے ساتھ وضو کرایا گیا تو وضو کی تکمیل کے ساتھ ان کی روح پرواز کر گئی۔

علامہ اقبالؒ نے حضرت یزید بسطامیؒ کا واقعہ لکھا ہے، انہوں نے زندگی بھر خربوزہ کھانے سے محض اس بناء پر اجتناب کیا تھا کہ انہیں معلوم نہ تھا کہ نبی کریمؐ نے یہ پھل کس طرح کھایا تھا۔(ذکرِ مصطفی مضمون پروفیسر خلیق احمد نظامی)

ماضی قریب کے علماء واکابر امت میں بھی اتباعِ سنت کا کافی اہتمام تھا، انگریز کے دور میں مولانا قاسم نانوتویؒ کے نام گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوا، دوست واحباب کے مشورہ پر مصلحتاً چھپ جاتے ہیں، پھر تین دن کے بعد باہر آجاتے ہیں، لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ حالات ابھی سنبھلے نہیں ہیں، پولیس آپ کی تلاش میں پھر رہی ہے، براہِ کرم آپ ابھی چھپے رہیں، اس پر مولانا نانوتویؒ کہتے ہیں: حالات جو بھی ہوں مگر میں تین دن سے زیادہ چھپا نہیںرہتا، ہمارے آقار(سلام ہو اُن پر درود ہو اُن پر) ہجرت کے موقع پر دشمنوں کے تعاقب سے غور ثور میں تین ہی دن چھپے رہے تھے، اس سے زیادہ چھپ کر میں سنت کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔

مولانا بدر عالم مہاجر مدنی صاحب ِترجمان السنۃ کے سامنے مدینہ منورہ میں کسی نے انگریزی میں ٹیلی فون نمبر بتائے، حضرت کو بہت ناگوار گذرا اور فرمایا کہ ا للہ کے نبی کے گھر میں اللہ کے دشمن کی زبان۔(مقدمہ سیرت النبی جدید)

تذکرۃ الرشید میں حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب کے تعلق سے لکھا ہے کہ غالباً عصر کی نماز میں ایک دن ایسا اتفاق پیش آیا کہ مخلوق کے اژزحام اور مصافحہ کی کثرت کے باعث باوجود عجلت کے جس وقت آپ جماعت میں شریک ہوئے قرأت شروع ہوگئی تھی، سلام پھیرنے کے بعد دیکھا گیا تو آپ اداس اور چہرہ پر اضمحلال برس رہا تھا اور آپ رنج کے ساتھ یہ ا لفاظ فرمارہے تھے کہ افسوس ۲۲؍ برس کے بعد آج تکبیر اولیٰ فوت ہوگئی۔(مقدمہ سیرت النبی جدید)

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ایک مرتبہ فرمانے لگے ایک دن مجھے خیال آیا کہ ہم اتباعِ سنت کا بہت ذکر کرتے ہیں مگر اس کا کچھ حصہ ہمارے اعمال میں ہے بھی کہ نہیں، چنانچہ میں تین دن تک صبح سے رات تک اپنے تمام اعمال کا بغور جائزہ لیتا رہا، دیکھنا یہ تھا کہ کتنی اتباعِ سنت ہم لوگ عادتاً کرتے ہیں، کتنی اتباع کی توفیق علم حاصل کرنے کے بعد ہوئی اور کتنی باتوں میں اب تک محرومی ہے،تین دن تک تمام امورِ زندگی اور معمولاتِ روز وشب کا جائزہ لینے کے بعد اطمینان ہوگیا کہ الحمد للہ معمولات میں کوئی عمل خلافِ سنت نہیں ہے۔(حوالہ سابق)

دور جانے کی ضرورت نہیں شہر حیدرآباد کے ایک بزرگ حضرت مسکین شاہ صاحب کا حال ملاحظہ کیجئے، بڑھاپے کی عمر میں ایک بوڑھی خاتون حضرت سے بیعت ہونے کے لیے حاضر ہوکر اپناہاتھ آگے بڑھاتی ہے، حضرت اپنا ہاتھ کھینچ لیتے ہیں، اس لیے کہ عورتوں کو بیعت کرنے حضور کی سنت یہ ملتی ہے کہ آپ کپڑے کا ایک سرا اپنے ہاتھ میں لیتے دوسرا عورتوں کے ہاتھ میں دیتے، حضرت مسکین شاہ بھی ایسا ہی کرنا چاہتے تھے، بوڑھی خاتون کہتی ہے حضرت! میں بھی بوڑھی آپ بھی بوڑھے پھر ہاتھ میں ہاتھ رکھ کر بیعت کرنے می کیا حرج ہے؟ حضرت نے اتباعِ سنت اور اتباعِ شریعت سے بھر پور لہجہ میں فرمایا: یہ صحیح ہے کہ میں بھی بوڑھا ہوں تم بھی بوڑھی ہو، مگر خدا کی شریعت اور اس کے رسول کی سنت تو جوان ہے۔

حضرت مجدد الف ثانی کے مرتبۂ ولایت سے کون ناواقف ہے؟ شدت سے سنتوں کا اہتمام فرماتے اور اپنے مریدین کو بھی تاکید کرتے، اپنے مرید کے نام ا یک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں: فضیلت تمام پر سنت ِ سیئہ کی پیروی سے وابستہ ہے اور امتیاز اور اعزاز شریعت پر عمل کرنے سے مربوط ہے، مثلا دوپہر کا سونا جو اتباعِ سنت کی نیت سے ہو کروڑوں شب بیدار رہنے سے افضل اور زکوٰۃ کا ایک پیسہ ادا کرنا سونے کے پہاڑ خرچ کردینے جو اپنی طرف سے ہو افضل ہے۔(مکتوبات امامِ ربانی)

طاؤس الفقراء شیخ ابو نصر سراج لکھتے ہیں: اب ہر مخلوق پر سولِ خداﷺ کی پیروی اخلاق اور افعال اوامر ونواہی غرض ہر شئ میں واجب ہے۔

حضرت عبد القادر جیلانیؒ نے اپنے وعظ کا آغاز ہی:  اتبعوا ولا تبتدعوا سے کیا، نبی کا اتباع کرو اور نئی بات نہ نکالو، ایک مقام پر نبی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے شیخ فرماتے ہیں:  الذي من اتبع ما جاء بہ اہتدی ومن صرف عنہ ضل وارتدی کہ جس شخص نے ان کے لائے ہوئے دین کی پیروی کی وہ اپنی منزل مقصود کو پہونچ گیا، اور جس نے راہ سے کجی اختیار کی وہ گمراہ اور ہلاک ہوگیا۔

حضرت جنید بغدادی فرماتے تھے کہ بجز پیروی رسول خدا کے اب ساری راہیں بند ہوچکی ہیں۔(بمضمون مولانا عبد الماجد دریابادی شائع شدہ رسالہ ا رشاد حیدرآباد)

حضرت شاہ کلیم اللہ دہلویؒ فرماتے تھے کہ اگر کسی کی روحانی حیثیت کا اندازہ لگا نا ہو تو صرف یہ دیکھو کہ وہ سنت ِ رسول کے اتباع میں کتنا راسخ ہے، جو جتنا راسخ ہوگا اتنا ہی اس کا روحانی درجہ بلند ہوگا۔

قرونِ مشہود لہا بالخیر کے لوگوں کی زندگیوں کا جائزہ لیجئے، ہر ایک کے یہاں اتباع سنت کا اہتمام ملے گا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی زندگی انقلاب سے آشنا ہوئی، آج کا مسلمان سیرت کی اثر انگیزی سے اس لیے محروم ہے کہ اس میں اتباعِ رسول اور اسوۂ حسنہ کی پیروی نہیں ہے، صحابہ سے لے کر تابعین سلف ِ صالحین اور اولیائِ امت نے سیرت کو عملی زندگی میں اپنانے پر زور دیا ہے، تو پھر کیا ہم اسوۂ رسول کو اپنا کر اپنی زندگیوں کو انقلاب سے آشنا کریں گے۔

مضمون نگار مولانا سید احمد ومیض ندوی دارالعلوم حیدرآباد کے استاذ حدیث ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

ایودھیا معاملہ سے منسلک وہ شخصیات، جن کےکام کی وفاداری مذہب پربھاری ثابت ہوئی

سپریم کورٹ کے فیصلےکے بعد ایودھیا معاملے(مندر- مسجد تنازعہ) کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ 135 سال پہلے1885 میں شروع ہوئےایودھیا تنازعہ کی قانونی لڑائی میں کچھ کردارایسے رہے ہیں، جنہیں ان کی ڈیوٹی کے فرائض کولےکرہمیشہ یاد رکھا جائےگا،

نمونیا ایک ایسا مرض، جس کا علاج موجود، پھر بھی مہلک ترین مرض؛ ایک سال میں آٹھ لاکھ بچے جاں بحق

عالمی ادارہ صحت نے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق نمونیا کے مرض میں مبتلا ہو کر گزشتہ برس آٹھ لاکھ شیر خوار اور کم عمر بچے ہلاک ہوئے۔ پاکستان، نائجیریا، بھارت، جمہوریہ کانگو اور ایتھوپیا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں نمونیا کے باعث ہلاک ہونے بچوں کی تعداد تقریباً چار ...

شاعر مشرق علامہ اقبال کی یوم پیدائش ؛ کیا آج کا پاکستان علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر ہے؟

پاکستان قائم ہونے کے 72 سال بعد آج بھی علمی و ادبی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان کا خواب دیکھنے والے علامہ اقبال اصل میں کس طرح کا پاکستان دیکھنا چاہتے تھے۔انہیں مفکر پاکستان کہا جاتا ہے۔ ہندوستان سے تاج برطانیہ کی رخصتی اور دو آزاد مملکتوں کے قیام سے بہت پہلے علامہ اقبال ...

 دلوں کو تقسیم کرنے والی دیوارِ برلن کی یادیں اب بھی باقی ہیں 

جرمنی کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی تاریخی دیوارِ برلن کو گرے 30 سال مکمل ہوگئے ہیں لیکن اس کی یادیں آج بھی باقی ہیں۔دیوار کی موجودگی تک یہ ملک مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی کہلاتا تھا۔ یہ دیوار 1961 میں تعمیر کی گئی تھی۔دیوار برلن جنگ عظیم دوم کے بعد تعمیر ہوئی تھی۔

بابری مسجد۔رام جنم بھومی تنازعہ؛ خدا کی قسم، کوئی بھی ذی شعور مندر اور مسجد کے لئے اپنے گھر کو آگ نہیں لگائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از: سید خرم رضا

بابری مسجد۔رام جنم بھومی تنازعہ پر ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کا فیصلہ دس دن کے اندر آنے والا ہے۔ وزیر اعظم سے لے کر ہندو اور مسلمانوں کی تمام نمائندہ تنظیموں کے رہنما اپیل کر رہے ہیں کہ عوام کو خوش دلی سے عدالت کا جو بھی فیصلہ آئے اسے قبول کرنا چاہیے۔ فیصلہ اگر حق میں ...

لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کا بیٹا سیف الاسلام کہاں ہے؟

جرائم کی بین الاقوامی عدالت نے ایک اعلان میں بتایا کہ وہ اُس مقام کے حوالے سے تقریبا مصدقہ معلومات رکھتی ہے جہاں لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کا بیٹا سیف الاسلام موجود ہے۔ سیف الاسلام جون 2017 میں الزنتان شہر کی جیل سے رہا ہونے کے بعد سے روپوش ہے۔مذکورہ عدالت کی پراسیکیوٹر ...

عیدالفطر: فضائل و احکام ........... آز: عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

جب بندہ تیس دن تک لگاتار روزے رکھتا ہے،روزے کےمطلوبہ تقاضے پورے کرتا ہے،قیام اللیل کے ذریعہ تقرب الہی کے ذرائع تلاش کرتاہے، خدمت خلق کے ذریعہ اپنےخالق و مالک کو راضی کرلیتا ہےاور اسی کی عبادت و فرماں برداری میں سارا وقت صرف کرتا ہےتو حق تعالیٰ  اس پیہم محنت و جدوجہد کے بعد ...

نئے سال کی آمد پر جشن یا اپنامحاسبہ ................ آز: ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

ہمیں سال کے اختتام پر، نیز وقتاً فوقتاً یہ محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہمارے نامۂ اعمال میں کتنی نیکیاں اور کتنی برائیاں لکھی گئیں ۔ کیا ہم نے امسال اپنے نامۂ اعمال میں ایسے نیک اعمال درج کرائے کہ کل قیامت کے دن ان کو دیکھ کر ہم خوش ہوں اور جو ہمارے لئے دنیا وآخرت میں نفع بخش بنیں؟ یا ...

مٹھی بھر شر پسند عناصر ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی فضا کو خراب کرنا چاہتے ہیں : مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی

مرکزی جمعیت اہل حدیث( ہند) سے جاری ایک اخباری بیان کے مطابق مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے امرتسر میں نرنکاری ست سنگ ڈیرہ پر ہوئے گرینیڈ حملہ جس میں تین افراد ہلاک اور پندرہ افراد زخمی ہوئے، کی پر زور مذمت کی ہے اور اسے بزدلانہ اورغیر انسانی ...

ماہ صفر مظفر اور بد شگونی ......... بقلم: محمد حارث اکرمی ندوی

فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَٰذِهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ ۗ أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ( الأعراف 131) ...

ملک کے موجودہ حالات اور دینی سرحدوں کی حفاظت ....... بقلم : محمد حارث اکرمی ندوی

   ملک کے موجودہ حالات ملت اسلامیہ ھندیہ کےلیے کچھ نئے حالات نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ صبر آزما حالات اس ملک اور خاص کر ملت اسلامیہ ھندیہ پر آچکے ہیں . افسوس اس بات پر ہے اتنے سنگین حالات کے باوجود ہم کچھ سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں یہ سوچنے کی بات ہے. آج ہمارے سامنے اسلام کی بقا ...