نیوز چینلزاشتعال انگیزبیانات کا پلیٹ فارم نفرت کو روکنا اینکر کی ذمہ داری، حکومت کیوں آنکھیں بند کئے بیٹھی ہے؟:سپریم کورٹ

Source: S.O. News Service | Published on 22nd September 2022, 11:38 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 22؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) ہیٹ اسپیچ معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کو کہا کہ سب سے زیادہ نفرت انگیز تقریر میڈیا اور سوشیل میڈیا پر ہوتی ہے بلکہ چینلزاشتعال انگیزبیانات کا پلیٹ فارم بن گئے ہیں - عدالت نے کہا کہ ہمارا ملک کدھر جارہا ہے؟نفرت کو روکنا ٹی وی اینکروں کی بڑی ذمہ داری ہے، لیکن ٹی وی اینکر مہمان کو وقت تک نہیں دیتے ہیں، ایسے ماحول میں سرکار خاموش کیوں ہے؟ عدالت نے کہا کہ ایک سخت ریگولیٹری مینکانزم قائم کرنے کی ضرورت ہے اور اس معاملہ میں سپریم کورٹ نے دو ہفتوں کے اندر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے - اب23نومبر کو سپریم کورٹ اس معاملہ میں اگلی سماعت کرے گا -سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ حکومت پر سوال اٹھائے ہیں - عدالت نے کہا کہ جب دھرم سنسد ہونے جارہی تھی تو آپ نے کیا کارروائی کی؟ کیا آپ نے اس کو روکا؟ اس پر اتراکھنڈ سرکار نے کہا کہ ہم نے دفعہ144لاگو کی اور چار لوگوں کو گرفتار کیا- وہیں ریاستی سرکار کارروائی کررہی ہے -جسٹس جوزف نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی مذہب تشدد کی تشہیر کرتا ہے- عدالت نے کہا کہ ان معاملات میں سزا ایسی ہونی چاہئے کہ وہ ایک ماڈل بن جائے -عدالت نے کہا کہ کوشش کرنی چاہئے کہ وشاکھا گائیڈلائن کی طرح حدود کے اندر ہم جو کرسکتے ہیں، وہ کریں - عدالت نے کہا کہ اصلی پریشانی ادارے ہیں، مذہب کیا ہے یہ مت دیکھئے؟

نفرت انگیز تقاریر کا فائدہ صرف سیاستدانوں کو:سماعت کے دوران، عدالت نے مشاہدہ کیا کہ نفرت انگیز تقریر سے سیاست دان سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور ٹیلی ویژن چینلز انہیں اس کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں - سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے نے کہا- چینل اور سیاست دان اس طرح کی نفرت انگیز تقریر پر چلتے ہیں - چینلز کو پیسے ملتے ہیں تو وہ دس لوگوں کو بحث میں رکھتے ہیں -

ایک نظر اس پر بھی

کہاں غائب ہو گئے نوٹ بندی کے بعد چھاپے گئے 9.21 لاکھ کروڑ روپے، آر بی آئی کے پاس بھی تفصیل موجود نہیں!

مرکز کی مودی حکومت نے بلیک منی پر قدغن لگانے کے مقصد سے 2016 میں نوٹ بندی ضرور کی، لیکن اس مقصد میں کامیابی قطعاً ملتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے نوٹ بندی کے وقت بھی مرکز کے اس فیصلے پر سوالیہ نشان لگایا تھا،

ہندوستان میں 10 سالوں کے دوران شرح پیدائش میں 20 فیصد کی گراوٹ، رپورٹ میں انکشاف

 پچھلے 10 سالوں میں ہندوستان میں عام زرخیزی کی شرح (جی ایف آر) میں 20 فیصد کی کمی درج کی گئی ہے۔ اس کا انکشاف حال ہی میں جاری کردہ سیمپل رجسٹریشن سسٹم (ایس آر ایس) ڈیٹا 2020 میں ہوا ہے۔ جی ایف آر سے مراد 15-49 سال کی عمر کے گروپ میں ایک سال میں فی 1000 خواتین پر پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد ...

الیکشن کمیشن نے تین برسوں میں جموں و کشمیر کی 7 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر کیا

الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے گزشتہ تین برسوں کے دوران جموں و کشمیر کی7 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر کیا ہے جن میں کچھ غیر معروف جماعتیں بھی شامل ہیں۔ ای سی آئی ریکارڈس کے مطابق کمیشن نے سال 2019 سے تمام ضروری لوازمات کی ادائیگی کے بعد جموں و کشمیر کی 7 سیاسی جماعتوں کو رجسٹر ...

بامبے ہائی کورٹ سے گوشت کے اشتہارات پر پابندی کی درخواست خارج

بامبے ہائی کورٹ نے ٹی وی اور اخبارات میں نان ویجیٹیرین کھانے کے اشتہارات پر پابندی لگانے کی درخواست خارج کر دی ہے، چیف جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس مادھو جمدار نے پیر کو جین چیریٹیبل ٹرسٹ کی عرضی کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ عدالت صرف اس صورت میں مداخلت کر سکتی ہے جب شہریوں کے ...

پی ایف آئی پر پھر چھاپے، شاہین باغ میں دبش، جامعہ میں دفعہ 144 نافذ

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) سے ملی لیڈ کی بنیاد پر، 8 ریاستوں کی پولیس نے آج یعنی منگل کو ملک بھر میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق اسے دوسرے راؤنڈ کا چھاپہ بتایا جا رہا ہے۔