رام مندر کی بنیادیں کیوں لرز رہی ہیں؟ ... معصوم مرادآبادی

Source: Photo courtesy: Indian Express | Published on 10th January 2021, 2:32 PM | اسپیشل رپورٹس |

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اجودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر جس ’ عظیم الشان‘رام مندر کی تعمیر ہورہی ہے ، اس کا خمیر ظلم اور ناانصافی سے تیار ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کی تعمیرمیں ایسی دشواریاں حائل ہورہی ہیں ، جن کا تصور بھی مندر تعمیر کرنے والوں نے نہیں کیا تھا۔میڈیارپورٹوں کے مطابق اس مندر کی بنیادوں میں ایسی ریت اور پانی دریافت ہوا ہے جس پر فی الحال کسی عمارت کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔اس قدرتی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے ملک کے بڑے بڑے تعمیراتی انجینئروں کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔یہ رکاوٹ ان تمام قانونی دشواریوں کو عبور کرنے کے بعد پیدا ہوئی ہے جو وشو ہندو پریشد نے سیاسی طاقت کے حصول کے بعد کی تھیں۔ وشوہندو پریشد کا کہنا تھا کہ کوئی طاقت رام مندر کی تعمیر کو نہیں روک سکتی مگر فی الحال مندر کی تعمیر کا کام رک گیا ہے کیونکہ اس کی بنیادوں میں ریت اور پانی نکل آیا ہے۔ معماروں کا کہنا ہے کہ اس صورت میں وہاں کوئی مضبوط عمارت تعمیر کرنا ممکن نہیں ہے اور اگر ایسا کیا گیا تو مندر کی عمارت زمیں بوس ہوسکتی ہے۔اس تکنیکی دشواری کو دور کرنے کے لیے ملک کے تمام آئی آئی ٹی ماہرین سے رابطہ قائم کیا گیا ہے۔رام مندر درحقیقت سنگھ پریوار کا ایک دیرینہ خواب ہے اور وہ اس کے ذریعہ اپنی عددی برتری ثابت کرنے کے ساتھ مسلمانوں کو یہ احساس دلانا چاہتے ہیں کہ وہ اس ملک میں دویم درجے کے شہری ہیں ۔

 اطلاعات کے مطابق بابری مسجد کا منبر جسے وشو ہندو پریشد’ گربھ گرہ ‘کہہ کر پکارتا ہے اور جو رام مندر کا مرکزی مقام قرار پایا ہے ، وہاں 200 فٹ نیچے ریت اور پانی نکل آیا ہے۔ظاہر ہے کسی بھی عمارت کی بنیادیں ریت اور پانی میں استوار نہیں کی جاسکتیں ، اس لئے رام مندر کے معماروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر کے لیے جب لوڈ ٹیسٹنگ کی گئی تو مندر کے ستون زمین کے اندر دھنسنے لگے، جس کی وجہ سے طے شدہ ڈیزائن کے مطابق مندر کی تعمیر کا کام آگے بڑھانے میں دقت پیش آرہی ہے اور اس کی وجہ سے مندر کی تعمیر سے وابستہ لوگ سخت تشویش اور پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

ان خبروں کو پڑھ کر مجھے 9نومبر 1989کا وہ دن یاد آیا جب بابری مسجد کے روبرو رام مندر کا شلانیاس کیا گیا تھا ۔ میں اس کی رپورٹنگ کے لئے اجودھیا میں موجود تھا اور یہ سب کچھ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ جب شلانیاس کے لیے زمین کھودی گئی تو وہاں سے انسانی ہڈیاں برآمد ہوئیں ، جنھیں دیکھ کر وشوہندو پریشد کے لوگ حیرت زدہ رہ گئے ، لیکن کسی بھی قسم کی خجالت سے بچنے کے لیے ان ہڈیوں کو نظر انداز کردیا گیا۔ دراصل شلانیاس وقف کی زمین پر کیا گیا تھا اور یہاں کسی زمانے میں قبرستان گنج شہیداں واقع تھا۔شلانیاس کی رات تک طے شدہ جگہ کے متنازعہ ہونے کی بحث چلتی رہی ، لیکن اچانک اس وقت کے وزیر اعلیٰ نارائن دت تیواری نے اس جگہ کے غیر متنازعہ ہونے کا اعلان کرکے شلانیاس کی راہ ہموار کردی۔ لیکن بعد میں  وشو ہندو پریشد نے اس جگہ کوئی تعمیری کام نہیں کیا اور جب 6 دسمبر 1992کو بابری مسجد شہید کی گئی تو شلانیاس کی جگہ بھی برابر کردی گئی اور آج کسی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ رام مندر کا پہلا شلانیاس کہاں ہوا تھا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال پانچ اگست کو بڑے تام جھام کے ساتھ رام مندر کا دو سرا شلانیاس کیا اور جنگی پیمانے پر مندر کی تعمیر کاکام شروع کردیا گیا۔ اس سلسلے کی بنیادی کارروائیاں انجام دینے کے بعد جب ایک ہزار سال تک قائم رہنے والے مندر کی بنیاد یں کھودنے کا کام شروع ہوا تو یہ انکشاف ہوا کہ بنیاد کی زمین نیچے کی طرف دھنس رہی ہے کیونکہ اس میں ریت اور پانی نکل آیا ہے۔یہ وہی زمین ہے جس پر پانچ سوسال تک بابری مسجد پورے وقار کے ساتھ کھڑی ہوئی تھی۔عمارت کے خستہ ہونے کے باوجود اس کا کوئی حصہ منہدم نہیں ہوا تھا، تاوقتیکہ 6دسمبر 1992کو ڈائنامائٹ کی مدد سے مسجد کے گنبدزمیں بوس نہیں کردئیے گئے۔

رام مندر کی بنیادوں میں ریت اور پانی برآمد ہونے کی خبریں ایک ایسے مرحلہ میں آئی ہیں جب اس کی عالیشان تعمیر کے لیے ساٹھ کروڑ لوگوں سے چندہ جمع کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے اور اس کام کے لیے انتہا پسند ہندو تنظیموں نے اپنی جارحانہ مہم شروع کردی ہے۔رام مندر کے لیے چندہ جمع کرنے کی اشتعال انگیز یاتراؤں کو مسلم علاقوں سے گزارا جارہا ہے اور تشدد پھیلایا جارہا ہے۔ یعنی رام مندر کی تعمیر کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم بھی اتنی ہی اشتعال انگیز اور مسلم مخالف ہے جتنی کہ بابری مسجد کو رام مندر میں بدلنے کی مہم تھی۔ اس سلسلے کی ایک انتہائی تکلیف دہ خبر مدھیہ پردیش کے مندسور ضلع سے موصول ہوئی ہے جہاںوشوہندو پریشد کی چندہ ریلی نے وہ تباہی مچائی ہے کہ مسلمان نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔مدھیہ پردیش کے دورانہ گاؤں سے ’’ انڈین ایکسپریس ‘‘ کے نامہ نگارنے جو اطلاعات فراہم کی ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ بابری مسجد سے محروم ہونے کے بعد بھی مسلمانوں کی آزمائشوں کا دور ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔مندسور ضلع میں گزشتہ منگل کو وشوہندو پریشد کے پانچ ہزارکارکنوں نے خوب اشتعال انگیزی کی اور پولیس نے ان حرکتوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔حالانکہ اس مارچ سے ایک روزپہلے گاؤں والوں نے ایس ایس پی کو عرضداشت دے کر تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، کیونکہ سوشل میڈیا پرہندوؤں سے بھگوا جھنڈوں کے ساتھ مسلم علاقوں سے مارچ نکالنے کی اپیل بھی کی گئی تھی۔ایک اور پیغام میں اورنگزیب کی اولادوں کو سبق سکھانے کی اپیل کی گئی تھی۔اس سے علاقے کے مسلمانوں میں دہشت پھیلی ہوئی تھی۔ اس مارچ کے دوران شر پسند ایک مقامی مسجد کے مینار پر چڑھ گئے اور وہاں بھگوا پرچم لہرادیا۔جب اس اشتعال انگیزکارروائی کے خلاف مقامی مسلمانوں نے احتجاج کیا تو پولیس نے ان پر پتھراؤ کرنے کا الزام لگایا اور درجنوں لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس دوران کئی مسلمانوں کے گھر بار تباہ وبرباد کردئیے گئے۔ وہ اتنے خوفزدہ ہیں کہ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ مدھیہ پردیش کی شوراج سنگھ چوہان سرکار شرپسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے پتھراؤ کرنے والوں کے خلاف نیا قانون بنارہی ہے۔

سبھی کو معلوم ہے کہ رام مندر کی تعمیر میں مسلمان نہ تو کوئی رکاوٹ کھڑی کررہے ہیں اور نہ ہی انھوں نے کوئی تحریک چھیڑی ہے۔ انھوں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پربھی پورے صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا ہے ، لیکن اس کے باوجود ان کے صبر وضبط کا امتحان لینے کی کوشش کی جارہی ہے اور انھیں ناکردہ گناہوں کی سزا دی جارہی ہے۔ اگر آپ غور سے دیکھیں تو رام مندر کی پوری تحریک ظلم ونا انصافی اور جبر واستبداد کی تحریک ہے۔کسی تاریخی شہادت اور ثبوت کے بغیر بابری مسجد کو رام مندر میں بدلنے کا آندولن  شروع کیا گیا۔ اس دوران اتنا اشتعال پھیلایا گیا کہ ہزاروں بے گناہوں کو اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا ۔اربوں روپوں کی املاک تباہ وبربادہوئیں اور نہ جانے کتنے لوگوں کی زندگیاں تاراج کردی گئیں۔آج اگر ’’ عالیشان رام مندر‘‘ کی بنیاد یں لرز رہی ہیں اور ان میں ریت اور پانی نکل رہا ہے تو یہ خواہ مخواہ نہیں ہے۔فی الحال اجودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر ایک عارضی مندر کا ڈھانچہ کھڑا ہوا ہے۔ گربھ گرہ سے مورتی کو ہٹادیا گیا ہے، کیونکہ اسی جگہ سے مندر کی تعمیر کا کام شروع ہونا ہے۔ یہاں مندر کی بنیاد گزاری کے لیے دوسو فٹ نیچے تک زمین کی جانچ کی گئی تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ زیر زمین بھربھری ریت اور گربھ گرہ کے کچھ فاصلے پرمغرب کی سمت زمین کے نیچے سرجو ندی کا بہاؤ ہے۔ رام جنم بھومی ٹرسٹ کے جنرل سیکریٹری چمپت رائے کا کہنا ہے کہ’’ کسی نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھاکہ جہاں ’گربھ گرہ ‘بنایا گیا تھا ، وہاں کی زمین کھوکھلی ہے۔دریا ئے سرجو زمین پر نہیں بلکہ زمین کے نیچے بہہ رہا ہے اور اس کے قریب ہی گربھ گرہ بنایاگیا ہے۔رام جنم بھومی مندر کے چیف پجاری ستیندر داس کا کہنا ہے کہ’’ انجینئرس چاہتے تھے کہ بنیاد سوفٹ نیچے سے اٹھائی جائے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ قدیم سرجو ندی کی دھارا تھی۔ اس لیے اگر اس پر بنیاد اٹھائی گئی تومندر کے گرنے کا امکان ہے۔ہوسکتا ہے کہ ماہرین رام مندر کے نیچے بہنے والی سرجو ندی اور ریت کا کوئی حل نکالنے میں کامیاب ہوجائیں ، لیکن دنیا اس حقیقت کو کبھی فراموش نہیں کرسکے گی کہ یہ مندر ایک پانچ سو سالہ قدیم مسجد کے ملبے پر تعمیر کیا جارہا ہے۔ جس مقام پر پانچ صدیوں تک بابری مسجد پورے وقار کے ساتھ کھڑی رہی وہاں ناجائز رام مندر کی بنیادیں لرز رہی ہیں ۔

ایک نظر اس پر بھی

’ وشوگرو‘ کسے کہاگیا ؟ : عوامی تحریکات کو غلط رخ دینے والے ’آندولن جیوی‘ کون ہیں ؟ معروف کنڑا روزنامہ پرجاوانی کی خصوصی رپورٹ

کرناٹک کی بات کریں تویہاں  بی جےپی کی کوئی بنیاد ہی نہیں تھی ۔ ہبلی عیدگاہ میدان اور چک منگلورو کے بابابڈھن گری جیسے تنازعوں کے سہارے بی جے پی  یہاں اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوئی ہے، گائے ذبیحہ کا معاملہ چھیڑ کر  اور  فرقہ وارانہ نفرت بو کر بی جے پی نے  ساحلی پٹی پراپنی  جڑیں ...

مسلمانوں پر ملک کی آبادی بڑھانے کا الزام غلط۔سابق چیف الیکشن کمشنر نے اپنی نئی کتاب میں اعداد وشمار پیش کئے ، 70سال میں مسلمانوں کی آبادی صرف4فیصد بڑھی

ملک کے سابق چیف الیکشن کمشنر اور چار کتابوں کے مصنف ایس وائی قریشی نے اپنی تازہ تصنیف’آبادی کا تصور۔ ہندوستان میں اسلام،فیملی پلاننگ اورسیاست‘ منظر عام پر پیش کی ہے۔

ریزرویشن معاملہ: حکومت کا تعصب ایک طرف لیکن مسلمان اپنے حقوق کی حصولیابی اورسرکاری اسکیمات سے فائدہ اٹھانے میں بھی ناکام۔۔۔۔ روزنامہ سالارکا تجزیہ

کرناٹک میں مختلف طبقات کی طرف سے ریزرویشن کی مانگ کو لے کر ماحول جس طرح دن بہ دن گرمی اختیار کرتا جا رہا ہے اسی درمیان یہ بات بھی سامنے آئی کہ تمام طبقات کیلئے حکومت کی طرف سے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ریزرویشن دینے کا وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کی طرف سے اعلان کیا گیا-

انکولہ کے ڈونگری دیہات کے طلبا جان ہتھیلی پرلے کرتعلیم حاصل کرنے پر مجبور؛ ایک ماہ کے اندر بریج تعمیر کرکے دینے کا ایم ایل اے نے کیا وعدہ

انکولہ تعلقہ کے  ڈونگری  دیہات کے طلبا کےلئے تعلیم حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ یہاں کے طلبہ کو  ہر روز خطرناک حالت میں جان ہتھیلی پر لےکر ندی پارکرتےہوئے  اسکول پہنچنا ہوتاہے۔

 کیا بھٹکل جالی ساحل سیر و تفریح کے لئے ہوگیا ہے غیر محفوظ؟ شہریوں کے لئے کیا ہے اس کا متبادل ؟!

بھٹکل تعلقہ میں  مرڈیشور ساحل اور مرڈیشور کا  مندر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت یافتہ سیاحتی مرکز ہے۔ اس کے بعد بھٹکل شہر سے قریب جالی بیچ ان دنوں سیر و تفریح کرنے والوں کے لئے بہت زیادہ دلکش بنتا جارہا ہے۔