ڈبلیو ایچ او نے دنیا بھر میں ’ہائیڈراکسی کلوروکوئن‘ کے ٹرائل پر لگائی روک

Source: S.O. News Service | Published on 26th May 2020, 5:32 PM | عالمی خبریں |

جنیوا،26؍مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی) عالمی صحت ادارہ یعنی ڈبلیو ایچ او نے پیر کے روز اعلان کر دیا کہ اس نے احتیاط کے طور پر ہائیڈراکسی کلوروکوئن کا کورونا وائرس کے علاج کے لیے کلینیکل ٹرائل غیر مستقل طور پر بند کر دیا ہے۔ ادارہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس رپورٹ کی بنیاد پر لیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کورونا انفیکشن والے مریضوں کے لیے ہائیڈراکسی کلوروکوئن کا استعمال خطرناک ہے اور اس سے موت کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

غور طلب ہے کہ گزشتہ دنوں عالمی صحت ادارہ کے ایک سینئر افسر نے ہائیڈراکسی کلوروکوئن یا کلوروکوئن کا استعمال کورونا وائرس سے انفیکشن والے مریضوں کے علاج میں کیے جانے کو لے کر متنبہ کیا تھا۔ اس افسر نے کہا تھا کہ "ان دواؤں کے کلینیکل ٹرائل کو روکے جانے کی ضرورت ہے۔"

واضح رہے کہ ہائیڈراکسی کلوروکوئن کا ہندوستان میں بڑے پیمانے پر پروڈکشن ہوتا ہے۔ اس دوا کا اصل استعمال ملیریا جیسی بیماری کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گٹھیا یعنی آرتھرائٹس کے علاج میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ امریکہ جیسے ممالک میں یہ دوا کورونا وائرس کے مریضوں کو دی جا رہی ہے اور کافی معاملوں میں اس سے مریضوں کو فائدہ بھی ہوا ہے۔ اس لیے امریکہ سمیت کئی ممالک میں اس کی طلب کافی بڑھ گئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

خطرے میں اسپین، 95 فیصد آبادی ہو سکتی ہے کورونا کا شکار: تحقیق

کورونا وائرس یعنی کووڈ-19 کے حوالہ سے اسپین میں کی گئی اسٹڈی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسپین کی آبادی کا صرف 5فیصد ہی اینٹی باڈیز تیار کرسکا ہے، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کورونا سے بچاؤ کے لیے ’ہرڈ امیونٹی‘ حاصل نہیں کی جاسکتی۔