لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کا بیٹا سیف الاسلام کہاں ہے؟

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 7th November 2019, 6:02 PM | عالمی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

واشنگٹن،7نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) جرائم کی بین الاقوامی عدالت نے ایک اعلان میں بتایا کہ وہ اُس مقام کے حوالے سے تقریبا مصدقہ معلومات رکھتی ہے جہاں لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی کا بیٹا سیف الاسلام موجود ہے۔ سیف الاسلام جون 2017 میں الزنتان شہر کی جیل سے رہا ہونے کے بعد سے روپوش ہے۔مذکورہ عدالت کی پراسیکیوٹر فاتو بینسودہ نے عالم سلامتی کونسل میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عدالت یہ سمجھتی ہے کہ سیف الاسلام قذافی نے لیبیا کے جنوب مغربی شہر الزنتان سے کوچ نہیں کیا اور وہ آج تک وہاں موجود ہے۔

فاتو نے واضح کیا کہ اُن کے دفتر کے پاس موجود مصدقہ معلومات کے مطابق اس وقت مذکورہ مقام پر 3 مشتبہ شخصیات موجود ہیں جن کے خلاف جرائم کی بین الاقوامی عدالت نے طویل عرصے سے گرفتاری کے وارنٹ جاری کر رکھے ہیں۔ ان میں ایک شخصیت قذافی کا بیٹا اور بقیہ دو میں لیبیا کی داخلہ سیکورٹی کے ادارے کے سابق سربراہ التہامی محمد خالد (2011 میں جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزام میں مطلوب ہے) اور الصاعقہ بریگیڈ کا کمانڈر محمود الورفلی شامل ہے جو ابھی تک بنغازی شہر میں آزاد گھوم رہا ہے۔عدالت کی پراسیکیوٹر نے لیبیا اور مصر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذکورہ تینیوں لیبیائی مفرور افراد کی فوری گرفتاری میں معاونت کریں۔ فاتو کے مطابق تینوں افراد پر خطرناک بین الاقوامی جرائم کے ارتکاب کے الزامات ہیں جن میں جنگی جرائم، تشدد، اذیت رسانی اور انسانیت کے خلاف دیگر نوعیت کے جرائم شامل ہیں۔

دوسری جانب الزنتان شہر کے اندر موجود ایک ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں سیف الاسلام کی رہائی کے بعد الزنتان شہر میں اس کی موجودگی کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ ذریعے کے مطابق قذافی کا بیٹا ابو بکر الصدیّق بریگیڈ کے کمانڈر کرنل العجمی العتیری کے ساتھ شہر سے نکل گیا تھا جو سیف الاسلام کا ذاتی محافظ تھا۔یاد رہے کہ سیف الاسلام قذافی 2011 سے ایک ملیشیا کی قید میں تھا۔ بعد ازاں اس کو جون 2017 میں الزنتان شہر میں آزاد کر دیا گیا۔ تاہم وہ انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے سلسلے میں ابھی تک ہیگ میں واقع جرائم کی بین الاقوامی عدالت کو مطلوب ہے۔ اس دوران سیف الاسلام کی دفاعی قانونی کمیٹی اپنے مؤکل پر عائد الزامات کے سقوط کے لیے کوشاں ہے۔

واضح رہے کہ لیبیا میں انقلاب، معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے اور پھر قتل کیے جانے کے 8 برس بعد بھی 47 سالہ سیف الاسلام قذافی کو لیبیا کے عوام کے ایک حصے کی بھرپور حمایت   حاصل ہے۔ صدارتی انتخابات ہونے کی صورت میں وہ ایک سیاسی طاقت کے روپ میں نمودار ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بالخصوص رواں سال کے اوائل میں سیف الاسلام کو ایک بار پھر لیبیا کے سیاسی منظر نامے میں واپس لانے کی اندرون اور بیرون ملک کوششیں دیکھنے میں آئیں۔ اس کا مقصد لیبیا میں مصالحت کے عمل میں سیف الاسلام کے نمایاں کردار کو ممکن بنانا ہے۔لیبیا میں سیف الاسلام کی سیاسی سرگرمیوں پر عائد پابندی ختم کرنے کے لیے عوامی حلقوں کی جانب سے آوازیں بلند کی جا رہی ہیں۔سیف الاسلام نے اپنی مقرّب شخصیات کے ذریعے بعض صحافیوں اور میڈیا اداروں کے ساتھ نمودار ہونے کی منصوبہ بندی کی تھی تاہم دارالحکومت طرابلس میں چار اپریل سے لیبیا کی فوج اور وفاق کی حکومتی فورسز کے بیچ فوجی کارروائی شروع ہو گئی۔ اس کے سبب قذافی کا بیٹا حالات سازگار ہونے تک اپنے اس منصوبے پر عمل درامد سے پیچھے ہٹ جانے پر مجبور ہو گیا۔

ایک نظر اس پر بھی

جرمنی: سی ایس یو کی طرف سے پہلا مسلمان میئر اُمیدوار

اسلام اور جرمنی کی سیاسی جماعت کرسچن سوشل یونین کے مابین تعلقات کو ایک حساس اور مشکل موضوع تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن اب اسی جماعت نے میئر کی سیٹ کے لیے ایک 37 سالہ مسلمان امیدوار اوزان ایبش کا انتخاب کیا ہے۔ اس مسلمان امیدوار کا انتخاب میونخ کے شمال میں واقع قصبے 'نوئے فارن‘ کی سی ...

کولمبیا میں حکومت مخالف مظاہروں میں جھڑپیں 

کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا کی شاہراہوں پر حکومت مخالف مظاہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم چار افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے تین پولیس اہلکار تھے۔ منگل کے روز بوگوٹا سٹی ہال میں 20 مظاہروں کی اطلاع دی گئی، جن میں سے بیشتر کو پر امن بتایا گیا۔

انڈونیشیا میں پل گرنے سے9 افراد دریا میں ڈوب کرہلاک؛ 17 کو بچالیا گیا

انڈونیشی جزیرے سماٹرا میں پیدل چلنے والے افراد کے لیے بنائے گئے پل کے گرنے سے نو افراد دریا میں ڈوب گئے ہیں۔ کسی حد تک کمزور پل دریا میں آنے والے زوردار سیلابی ریلے کو برداشت نہ کر سکا۔ اس سیلاب کی وجہ اتوار انیس جنوری کو ہونے والی زور دار بارش تھی۔

آسٹریلیا میں شدید ژالہ باری اور طوفان باد و باراں 

مختلف آسٹریلوی علاقوں کو آج زوردار طوفانِ باد و باراں کے ساتھ ساتھ شدید ژالہ باری کا سامنا رہا۔ انتہائی تیز ہوا، شدید بارش اور ژالہ باری نے لوگوں کو مالی نقصان پہنچایا ہے۔ کم از کم دو افراد ژالے لگنے سے زخمی ہوئے ہیں اور انہیں ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔

کنڑا روزنامہ کا بی جے پی پر پھر وار؛ لکھا،کرناٹک سے بی جےپی کے 25ایم پی منتخب ہونے کے باوجود مرکز نے کیا کرناٹک کو نظر انداز

بی جےپی اور اس کے لیڈران سمیت پالیسی کی زبردست حمایت کرنےو الے کنڑا روزنامہ ’وجئے وانی ‘ نے دوسرے دن بھی اپنے فرنٹ پیج پر بی جےپی کی مرکزی حکومت پر کڑی تنقید کرتےہوئے اپنی ہی پارٹی کے زیر اقتدار ریاست کرناٹکا کو نظر انداز کئے جانےکے متعلق رپورٹ شائع کی ہے ، جس کا ترجمہ قارئین ...

شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کی مخالفت میں بھٹکل میں مزید مظاہروں کےآثار؛ کئی ٹورنامنٹ ملتوی

ملک کا خوفناک قانون  شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے)  اور این آر سی کی مخالفت  میں جہاں ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں،و ہیں بھٹکل  میں بھی آنے والے دنوں میں  مزید بڑے پیمانے پر مظاہرے اور احتجاجی ریلیاں نکالے جانے کے آثار نظر آرہے ہیں۔