رہائی پانے والے طالبان قیدی اب کیا کریں گے؟

Source: S.O. News Service | Published on 10th June 2020, 7:48 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن،10؍جون (آئی این ایس انڈیا) امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے تحت افغانستان کی جیلوں سے طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل جاری ہے۔ رہائی پانے والے بعض قیدیوں نے دوبارہ محاذ جنگ میں جانے کا عندیہ دیا ہے جس کے بعد افغانستان میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ ان طالبان جنگجوؤں کا مستقبل کیا ہو گا۔

رواں سال 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طے پانے والے امن معاہدے کے تحت افغان حکومت نے لگ بھگ پانچ ہزار طالبان قیدی جب کہ طالبان نے ایک ہزار سے زائد افغان حکومت کے قیدیوں کو رہا کرنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اب تک افغان حکومت 3000 طالبان قیدیوں کو رہا کر چکی ہے جب کہ طالبان نے افغان حکومت کے 750 قیدیوں کو رہا کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ رہائی پانے والوں میں خود کش حملہ آور، خود کش جیکٹس تیار کرنے کے ماہر، اغوا کاروں سمیت کئی غیر ملکی قیدی بھی شامل ہیں۔

رہائی سے قبل ان قیدیوں سے ایک تحریری وعدہ لیا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ ہتھیار نہیں اٹھائیں گے۔ لیکن ماہرین کے نزدیک ایسے تحریری وعدوں کی عملاً کوئی وقعت نہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اُنہیں خدشہ ہے کہ رہائی پانے والے جنگجو دوبارہ عسکریت پسندی کی طرف مائل ہو کر امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

افغانستان کی بگرام جیل سے رہائی پانے والے ایک طالبان قیدی 28 سالہ محمد داؤد نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ امریکی افواج نے اپنی کارروائیوں میں کئی افغان شہریوں کو ہلاک کیا۔ لہذٰا جب تک وہ یہاں سے نکل نہیں جاتے اس وقت تک جہاد جاری رہے گا۔

داؤد نے مزید بتایا کہ وہ اپنے ملک میں اب غیر ملکی فوج کا وجود مزید برداشت نہیں کر سکتے۔

رہائی کے بعد داؤد کو جیل انتظامیہ کی جانب سے 65 امریکی ڈالر دیے گئے تاکہ وہ اپنے گاؤں جا سکیں۔

پاکستان میں مقیم ایک طالبان رہنما نے خبر رساں ادارے’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ رہائی پانے والے طالبان قیدیوں کو اگلے مورچوں پر لڑنے کے لیے تعینات کیا جائے گا۔ لہٰذا کسی کو اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔

طالبان رہنما نے کہا کہ ہمارا جہاد اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک ہم کابل حکومت کے ساتھ کسی حتمی معاہدے پر متفق نہیں ہو جاتے۔

طالبان کا یہ موقف رہا ہے کہ امن معاہدے کے تحت وہ امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے خلاف حملے نہ کرنے کے پابند ہیں۔ لیکن وہ افغان سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

لیکن امریکہ کا یہ اصرار رہا ہے کہ طالبان کو یہ حملے روک کر افغان حکومت سے مذاکرات کرنے چاہئیں تاکہ افغانستان کے سیاسی مستقبل کا تعین ہو سکے۔

ایک نظر اس پر بھی

ہانگ کانگ کے جمہوریت نواز میڈیا ٹائیکون جمی لائی گرفتار

ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز میڈیا کی اہم شخصیت جمی لائی کے ایک قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ انہیں غیر ملک طاقتوں کے ساتھ ملی بھگت کے شبہے میں متنازعہ سکیورٹی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ جمی لائی کی میڈیا کمپنی 'نیکسٹ ڈیجیٹل' سے وابستہ ایک سینیئر افسر مارک سائمن نے پیر 10 جولائی ...

افغانستان میں چند ماہ کے دوران امریکی فوجیوں کی تعداد 5 ہزار سے کم کردی جائیگی، امریکی وزیر دفاع

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کو نومبر کے اختتام تک کم از کم 5ہزارتک کم کر دیا جائیگا۔ایسپر نے فاکس نیوز کودیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ہم نومبر کے آخر تک یہ تعداد 5 ہزار سے کم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں کانگریس کو بریف کرنا پڑے ...

بیروت دھماکوں کے بعد لبنان میں سیاسی دھماکے جاری ، وزیر اطلاعات منال عبدالصمد مستعفی

بیروت دھماکہ جن میں چھہ ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے اور ڈیڑھ سو سے زائد افراد موت کا شکار ہوئے اس کے بعد سے لبنان میں حکومت کے خلاف پہلے سے موجود ناراضگی بڑھ گئی ہے ۔ اس بڑھتی ناراضگی کی وجہ سے لبنان کی وزیر اطلاعات منال عبدالصمد نے استعفی دے دیا ہے اور ابھی تک چھہ ارکان پارلیمنٹ ...