ہتھیار اور منشیات کا سیاہ کاروبار، انٹرنیٹ پر بنا نیا اڈہ

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 14th February 2020, 1:42 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،13فروری (آئی این ایس انڈیا)انٹرنیٹ اب ہتھیار اور منشیات کے سیاہ کاروبار کا اڈہ بنتا جا رہا ہے۔سائبر کریمنل اس کے لئے ڈارک ویب کا استعمال کر رہے ہیں۔سائبر کرائم کرنے کے لئے یہ مجرمین کا پسندیدہ اڈہ بن چکا ہے۔حال میں ڈارک ویب سے منسلک ایک کیس لکھنؤ میں سامنے آیا۔اس میں سائبر مجرمین کروڑوں روپے کا گلوبل منشیات ریکیٹ چلا رہے تھے۔ان سائبرمجرمین کے اڈے سے پولیس کو 12 ہزار ساکوٹرپک گولیاں ملے ہیں۔ان گولیاں کو یہ ادویات اور دیکھ بھال سپلمیٹ کے طور پر ڈارک ویب پر فروخت کر رہے تھے۔ڈارک ویب کو انٹرنیٹ انڈرورلڈ بھی کہا جا سکتا ہے،یہاں مہلک ہتھیار، لوگوں کے کریڈٹ کارڈ / ڈیبٹ کارڈ کی تفصیلات، ای میل ایڈریس، لوگوں کے فون نمبر، منشیات، جعلی کرنسی اور دوسری چیزیں بڑی آسانی سے مل جاتی ہیں۔یہ ساری چیزیں یہاں کافی کم قیمت پر مل جاتی ہیں۔اصل میں ہم جس انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں، وہ بہت چھوٹا حصہ ہے۔انٹرنیٹ کے بڑے حصے تک لوگوں کی رسائی نہیں ہے اور اسے ہی ڈارک ویب کہتے ہیں۔کئی سائبر سیکورٹی فارمس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈارک ویب پر اپنی ذاتی تفصیلات کو چند ہزار روپے کے قیمت میں فراہم کیا جا رہا ہے۔ان تفصیلات میں آپ کے سوشل میڈیا اکاونٹس کے پاس ورڈ، بینک ڈیٹیلس اور کریڈٹ کارڈ سے منسلک معلومات شامل ہیں۔ہیکروں عام لوگوں اور کارپوریٹس کی انفارمیشن میں نقب زنی کر کے اسے ڈارک ویب میں فروخت کرتے ہیں۔ہیکروں کے لئے دھندے کا یہ ایک بڑا اڈہ ہے۔

ڈارک ویب دراصل امریکہ کی دین ہے۔امریکی آرمی نے اسے جاسوسی کے لئے بنایا تھا۔اسے اس لیے بنایا تھا کہ سرکاری جاسوس گمنام طور پر اطلاعات لے دے سکیں۔اسے بنانے کا مقصد دوسرے ممالک کی جاسوسی کرنا تھا۔وہیں ڈارک ویب میں منشیات یا دوسری چیزیں فروخت کرنے والے زیادہ تر لوگ بیرون ملک ہوتے ہیں۔ادائیگی کرنے پر یہ کوریئرز یا اپنے ایجنٹس کے ذریعے لوگوں تک چیزیں پہنچاتے ہیں۔ڈارک ویب انٹرنیٹ کا وہ سیکشن ہے جس میں یوزر کی شناخت خفیہ رہتی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

پاکستان میں مندر کی تعمیر پر روک رجعت پسندانہ اقدام: التجا مفتی

 پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا مفتی نے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک مندر کی تعمیر پر جاری تنازعے کے حوالے سے کہا ہے کہ مندر کی تعمیر پر روک ایک اسلامی فلاحی ریاست کے مذہبی آزادی کے تصور کے منافی ہے۔