کاغذ مانگیں تو کہو، چارمینار میرے باپ نے بنوایا ہے تیرے باپ نے نہیں:اکبرالدین اویسی کی مودی حکومت کو پھٹکار

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 22nd January 2020, 7:34 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

حیدرآباد،22جنوری(آئی این ایس انڈیا)آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے لیڈر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے بھائی اکبر الدین اویسی نے پیر کو حیدرآباد میں ایک بار پھر ایک بیباک تبصرہ کرتے ہوئے مودی حکومت کو پھٹکار لگائی ۔حیدرآباد کے ایک اجتماع میں اویسی نے شہریت ترمیم قانون کی مخالفت کرتے ہوئے مرکز پر نشانہ لگایا اور کہا کہ جو لوگ کاغذ دیکھنے کے لئے گھر آئیں تو ان سے کہہ دو کہ ہم نے اس ملک میں 800 سال راج کیا ہے،یہ چار مینار میرے باپ دادا نے بنوایا ہے، تیرے باپ نے نہیں۔

اویسی نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کسی کو بھی ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے،ہمیں ان کی باتوں میں آنے کی ضرورت نہیں ہے،جو لوگ پوچھ رہے ہیں کہ مسلمان کے پاس کیا ہے، میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ تو میرے کاغذ دیکھنا چاہتا ہے،میں نے 800 برس تک اس ملک میں حکمرانی  کی ہے،یہ ملک میرا تھا، میرا ہے اور میرا رہے گا، میرے ابا اور دادا نے اس ملک کو چارمینار دیا، قطب مینار دیا، جامع مسجد دیا،ہندوستان کا وزیر اعظم جس لال قلعہ پر پرچم لہراتاہے اسے بھی ہمارے باپ دادا نے ہی دیا ہے۔اویسی نے مزید کہا کہ اگر کوئی کاغذ مانگتا ہے تو اسے کہو کہ تو کاغذ کیا مانگ رہا ہے، وہ جو چار مینار کھڑا ہے وہ میرے باپ دادا نے بنوایا، تیرے باپ نے نہیں بنوایا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

دہلی: خفیہ بیورو کے افسر انکت شرما کا بہیمانہ قتل، لاش نالے سے برآمد

شمال مشرقی دہلی میں لوگ دہشت کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس درمیان خفیہ بیورو (آئی بی) کے ساتھ کام کرنے والے ایک 26 سالہ نوجوان کی لاش شمال مشرقی دہلی واقع چاند باغ سے برآمد ہونے کے بعد لوگوں میں مزید خوف دیکھنے کو مل رہا ہے۔

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کا ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا مطالبہ، اسمبلی میں ہنگامہ

  اترپردیش اسمبلی میں بدھ کو سماج وادی پارٹی(ایس پی) نے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کے مطالبے کے ساتھ ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے اسپیکر کو کارروائی کو ملتوی کرنی پڑی۔ جس کی وجہ سے وقفہ سوالات تقریباً 50 منٹوں تک متأثر رہا۔

دہلی کے موجودہ حالات پر ممتا بنرجی نے ’جہنم‘ کے عنوان سے لکھی نظم

وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے دہلی میں حالیہ تشدد کے واقعات پر ’جہنم‘ کے عنوان سے ایک نظم اپنے فیس بک پر پوسٹ کی ہے جس میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تشدد کے واقعات میں اموات پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ہولی سے قبل خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے“۔

دہلی تشدد: مسجد پر لہرایا گیا بھگوا جھنڈا، پولیس نے 24 گھنٹے بعد بھی نہیں اتارا!

راجدھانی کے شمال مشرقی ضلع میں منگل کے روز شدید تشدد کے دوران اشوک نگر علاقے میں زبردست ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ اس دوران علاقے کی گلی نمبر 5 میں واقع ایک مسجد پر شرپسندوں نے حملہ کیا اور اسے پوری طرح تباہ کر دیا۔ اتنا ہی نہیں کچھ شرپسند عناصر نے مسجد کے مینار پر چڑھ کر وہاں بھگوا ...

سپریم کورٹ کے معاملہ کو ملتوی کرنے پر شاہین باغ کی مظاہرین کا رد عمل

 قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے سپریم کورٹ کے روڈ کے معاملے میں سماعت کو 23 مارچ تک ملتوی کردینے کے بعد ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالات کے پیش نظر سپریم کورٹ نے معاملہ کو ملتوی کر دیا ہے، اگرچہ تاخیر کرنا مناسب نہیں۔

دہلی: خفیہ بیورو کے افسر انکت شرما کا بہیمانہ قتل، لاش نالے سے برآمد

شمال مشرقی دہلی میں لوگ دہشت کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس درمیان خفیہ بیورو (آئی بی) کے ساتھ کام کرنے والے ایک 26 سالہ نوجوان کی لاش شمال مشرقی دہلی واقع چاند باغ سے برآمد ہونے کے بعد لوگوں میں مزید خوف دیکھنے کو مل رہا ہے۔

لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کا ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا مطالبہ، اسمبلی میں ہنگامہ

  اترپردیش اسمبلی میں بدھ کو سماج وادی پارٹی(ایس پی) نے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کے مطالبے کے ساتھ ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے اسپیکر کو کارروائی کو ملتوی کرنی پڑی۔ جس کی وجہ سے وقفہ سوالات تقریباً 50 منٹوں تک متأثر رہا۔

دہلی کے موجودہ حالات پر ممتا بنرجی نے ’جہنم‘ کے عنوان سے لکھی نظم

وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے دہلی میں حالیہ تشدد کے واقعات پر ’جہنم‘ کے عنوان سے ایک نظم اپنے فیس بک پر پوسٹ کی ہے جس میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تشدد کے واقعات میں اموات پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ہولی سے قبل خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے“۔

ہندوہو؟بچ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! :شو نرائن راج پروہت

 (زیر نظر تحریر دراصل انڈین ایکسپریس کے صحافی شونرائن راج پروہت کی اس انگریزی رپورٹ کا اردو ترجمہ ہے جس میں انہوں نے دہلی کے جمناپارفساد زدہ علاقوں میں پیش آنے والی اپنی سرگزشت بیان کی ہے۔۔