آپریشن کنول کا بھانڈا پھوٹا؛کمارسوامی حکومت کوگرانے کی کوشش امیت شاہ کی ہدایت پر ہوئی:رمیش جارکی ہولی

Source: S.O. News Service | Published on 16th November 2019, 10:57 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،16/نومبر(ایس او نیوز) کل ہی بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والے نا اہل اراکین اسمبلی نے جہاں سابقہ مخلو ط حکومت کوگرانے کے لئے کئے گئے آپریشن کنول کے متعلق انکشافات کئے ہیں وہیں ان باغیوں کے لیڈر سمجھے جانے والے رمیش جارکی ہولی نے یہ علی الاعلان کہا ہے کہ ریاست کی کمارسوامی حکومت کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی ہدایت پر ہی گرایا گیا اور انہی کی نگرانی میں آپریشن کنول انجام دیا گیا-

بی جے پی میں شامل ہونے کے دوسرے دن اپنے اسمبلی حلقہ گوکاک میں بی جے پی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے رمیش جارکی ہولی نے کہا کہ جس دن ریاست میں کمارسوامی نے اپنی کابینہ میں ان لوگوں کو شامل کیا اسی دن انہوں نے آر شنکر کے ساتھ مل کر اس حکومت کو گرانے کی سازش پر کام شروع کردیا او ر اس سلسلہ میں وہ شنکر کے ہمراہ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ سے تین مرتبہ ملے اور ان ملاقاتوں میں امیت شاہ نے انہیں حکومت گرانے کی کوشش جاری رکھنے کی ہدایت دی -

جارکی ہولی نے کہا کہ انہوں نے باغی اراکین کو اعتماد میں لے کر حکومت گرانے کی کوشش سات مرتبہ کی لیکن نا کام رہے -اس مرحلے میں موجودہ وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا اور بی جے پی لیڈر جگدیش شٹر نے ان کو طلب کر کے یہ کہہ دیا تھا کہ اب بس کریں اور حکومت کوگرانے کی کوشش نہ کریں - لیکن انہوں نے اپنا ارادہ ترک نہیں کیا - شنکر کے ساتھ انہوں نے آٹھویں بار کوشش کی اور اس میں انہیں کامیابی مل گئی- جارکی ہولی نے کہا کہ مخلوط حکومت کو انہوں نے اس لئے گرانے کا منصوبہ بنایا کیونکہ سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کو حاشیہ بردار کردیا گیا تھا اور کانگریس کے سبھی امور پر ڈی کے شیو کما ر غالب آ گئے تھے- وہ نہیں چاہتے تھے کہ ڈی کے شیو کمار جیسے بدعنوان لیڈر کو بڑھاوا ملے اس لئے انہوں نے حکومت  کو گرانا ہی مناسب سمجھا-

جیسے ہی اس حکومت کو گرانے کا منصوبہ تیار ہو گیا انہوں نے اس سلسلے میں ایڈی یورپا سے بات کی اور اس کے بعد حیدر آباد میں شنکر کے ساتھ انہوں نے امیت شاہ سے ملاقات کی- اس ملاقات کے دوران حکومت گرانے کے لئے ان کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیاگیا اور امیت شاہ نے اس کے مطابق آگے بڑھنے کی منظوری دی-جارکی ہولی نے کہا کہ شنکر کے ساتھ حکومت گرانے کے لئے انہوں نے جب شنکر کے ساتھ منصوبہ بنایا تھا اسی وقت ایڈی یورپا ساتھ بی جے پی میں شامل ہونے کی بات چیت ہو چکی تھی- تب یہ بھی طے ہوا تھا کہ حکومت کو گرانے کی کوشش کامیابی یا ناکامی کی پرواہ کئے بغیر بار بار کی جائے گی- ایک اور نا اہل رکن اسمبلی نارائن گوڑا نے کہا کہ کمارسوامی سے انہوں نے اپنے اسمبلی حلقے کے آر پیٹ کے لئے 700کروڑ روپے کا گرانٹ طلب کیا تھا جو انہوں نے نہیں دیا- جبکہ موجودہ وزیر اعلیٰ نے ایک ہزار کروڑ روپے کا گرانٹ دینے کا اعلا ن کیا اس لئے وہ بی جے پی میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو گئے- ایک اور نا اہل رکن ایچ وشواناتھ نے کہا کہ چامراج نگر کے رکن پارلیمان وی سرینواس پرساد کے کہنے پر انہوں نے بی جے پی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا - سرینواس پرساد کے کہنے پر وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا نے انہیں بی جے پی میں آنے کی دعوت دی- وشواناتھ نے یہ اعتراف کیا کہ سابقہ جے ڈی ایس کانگریس مخلوط حکومت کو کمزور کرنے میں تمام نا اہل اراکین نے کلیدی رول اداکیا-

ایک نظر اس پر بھی

  مسلم متحدہ محاذ، جماعت اسلامی ہند اور کئی تنظیموں کے ایک نمائندہ وفدکا سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا سے ملاقات اور شہریت ترمیمی بل   کی مخالفت اور دستور کے تحفظ میں تعاون کرنے کی اپیل

مسلم متحدہ محاذ، جما عت اسلامی ہند، سدبھاؤ نا منچ بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن کرناٹک، ایف ڈی سی اے، ایس آئی او، اے پی سی آر  اور مومنٹ فار جسٹس جیسے ہم خیال تنظیموں کی قیادت میں مسلم نمائندوں کا ایک وفد 7 / دسمبر 2019  ء  بروز سنیچر، سابق وزیر اعظم شری ایچ ڈی دیوے گوڈا سے ملاقات کرتے ...

ہوناورمیں پریش میستا کی مشتبہ موت کوگزرگئے2سال۔ سی بی آئی کی تحقیقات کے باوجود نہیں کھل رہا ہے راز۔ اشتعال انگیزی کرنے والے ہیگڈے اور کرندلاجے کے منھ پر کیوں پڑا ہے تالا؟

اب سے دو سال قبل 6دسمبر کو ہوناور میں دو فریقوں کے درمیان معمولی بات پر شرو ع ہونے والا جھگڑا باقاعدہ فرقہ وارانہ فساد کا روپ اختیار کرگیا تھا جس کے بعد پریش میستا نامی ایک نوجوان کی لاش شنی مندر کے قریب واقع تالاب سے برآمد ہوئی تھی۔     اس مشکوک موت کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر پورے ...

کاروار:ہائی وے توسیع کے لئے سرکاری زمین تحویل میں لینے پرمعاوضہ کی ادا ئیگی۔ ملک میں قانون وضع کرنے کے لئے ضلع شمالی کینرا بنا ماڈل

نیشنل ہائی وے66 توسیعی منصوبے کے لئے سرکاری زمینات کو تحویل میں لینے کے بعد خیر سگالی کے طورمعاوضہ ادا کرنے کی پہل ضلع شمالی کینرا میں ہوئی جس کی بنیاد پر نیشنل ہائی وے ایکٹ 1956میں ترمیم کرتے ہوئے ملک بھر میں تحویل اراضی پرمعاوضہ ادائیگی کا نیا قانون2017میں وضع کیا گیا ہے۔