شہریت قانون... ہم صرف چولہا نہیں پھونکتیں، قوم کی بھی فکر ہے: خاتون مظاہرین

Source: S.O. News Service | Published on 16th February 2020, 12:40 AM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

مرادآباد،15/فروری (ایس او نیوز/ناظمہ فہیم) ملک اور آئین بچاؤ کے جذبے سے سرشار خواتین عیدگاہ میدان میں پورے جوش و خروش کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہیں اور یہ اعلان بھی کر رہی ہیں کہ چاہے جو بھی ہوجائے جب تک حکومت سی اے اے جیسے کالے قانون کو واپس نہیں لیتی اور این آر سی سے اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹاتی تب تک ہمارے قدم بھی آدھا انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

عید گاہ میدان میں موجود ہندوستان کی ان بیٹیوں نے اپنے بلند حوصلوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بتا دیا کہ ہم گھروں میں رہ کر صرف چولھا نہیں پھونکتی ہیں بلکہ ملک اور قوم کی فکر بھی ہر وقت ہمارے مدّنظر رہتی ہے۔ عورت ملک، سماج، آئین کے تحفظ اور اپنے حقوق کی لڑائی کے لئے میدان میں جب اتر آتی ہے تو پھر اسے کوئی روک نہیں سکتا۔

مرادآباد عید گاہ کے میدان میں ہو رہے اس احتجاجی مظاہرے میں رات دن صرف کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ یوگی حکومت کے ضلع و پولس کے اعلیٰ افسران اس پُرامن احتجاج کو پہلے دن سے ہی ختم کرانا چاہتے ہیں جس کے لئے وہ ہماری ہی صفوں میں شامل چند مفاد پرست سیاست دانوں و سماج کے ٹھیکیداروں کا استعمال کر رہے ہیں۔ ضلع و پولس کے افسران کی یہ کوششیں ان کی ڈیوٹی کا ایک حصہ ہوسکتی ہیں، لیکن ہمیں شکایت ان ضمیر فروشوں سے ہے جو افسران کے غلام بنے ہوئے ہیں۔ یہ مفاد پرست سیاسی عروج تو عوام کے دم پر حاصل کرتے ہیں مگر کام عوام کے خلاف کرتے ہیں۔ لیکن وہ یہ سمجھ لیں کہ ہم لوگوں کی بدولت وہ اس لائق بنے ہیں کہ یہ افسران ان کو اپنے پاس بٹھاتے ہیں۔

ان خواتین کا کہنا ہے کہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف پہلے دن سے ہی ملک بھر میں احتجاج بلند ہو رہے ہیں مگر مرادآباد کے چند سیاسی، سماجی اور مذہبی ٹھیکیداروں کی وجہ سے یہاں اس ملک مخالف قانون کے خلاف کوئی احتجاج نہیں ہو رہا تھا جس کو لے کر یہاں کے لوگوں میں زبردست مایوسی اور غصہ تھا۔

ملک بھر میں ہو رہے احتجاجی مظاہروں کے بعد عوامی غصہ کا لاوا پھوٹ پڑا، خاص طور پر خواتین نے آئین بچاؤ تحریک اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے مرادآباد کے عید گاہ میدان کو ایک اور شاہین باغ میں تبدیل کردیا۔ اس احتجاجی مظاہرے سے جہاں ضلع و پولس کے افسران سکتہ میں آگئے، وہیں ان چند ٹھیکیداروں کے ہوش بھی اُڑ گئے جو آپنے آقاؤں سے یہ کہتے نہیں تھک رہے تھے کہ ہندوستان بھرمیں جو بھی ہو مرادآباد میں ہم کوئی بھی احتجاج نہیں ہونے دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے ہی دن سے اس احتجاجی مظاہرے کو ختم کرائے جانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

احتجاج کے پہلے دن کچھ سیاسی سماجی ٹھیکیداروں نے یہ کہتے ہوئے اپنے آقاؤں کو دلاسہ دیا کہ یہ چند مرد اور خواتین ہیں اور اس علاقے کی بھی نہیں ہیں، فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ مگر دیکھتے ہی دیکھتے چند لوگوں پر مشتمل یہ احتجاج عوامی جم غفیر میں تبدیل ہوگیا اور اگلے دن ہی یہ مفاد پرست خود بھی اس احتجاجی مظاہرے میں شامل ہونے کے لئے مجبور ہوگئے، مگر ایک دن بھی اس احتجاجی مظاہرے کو اُکھاڑ پھینکنے کی جستجو ان ضمیر فروشوں نے نہیں چھوڑی۔

احتجاجی مظاہرے کی کمان سنبھالے ان خواتین کا الزام ہے کہ یہ ضمیر فروش اپنے ذاتی مفاد حاصل کرنے کے چکر میں ملک اور قوم کے ساتھ غداری کرنے میں لگے ہیں مگر ہم ان کو ان کے منصوبوں میں ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ عید گاہ کے اس احتجاجی مظاہرے کو بام عروج پر پہچانے والی اور مفاد پرستوں کو آئینہ دکھانے والی ان شیردل خواتین کی ہمت کو سلام کرتے ہوئے شہر کی کچھ سرکردہ شخصیات نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہماری یہ ماں بہنیں ملک کے آئین اور قوم کی سلامتی کے لئے ہر طرح کا آرام چھوڑ کر کھلے آسمان کے نیچے سینہ سپر کھڑی ہیں، افسوس ہے ان لوگوں پر جو اس احتجاجی مظاہرے میں ڈٹی ہوئی خواتین کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے ان کی حوصلہ شکنی کرنے میں لگے ہیں۔ ایسے مفاد پرست و قوم کے غداروں کو قوم کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

اللہ یہ کیسی عید، پروردگار ایسی عید پھر کبھی نہ آئے۔۔۔۔ از:ظفر آغا

اللہ، یہ کیسی عید آئی پروردگار! نہ مسجد میں نماز، نہ بازار میں خریداری، نہ چاند رات کی بے چینی، نہ وہ گلے ملنا اور نہ ہی وہ گلے مل کر عطر سے معطر ہو جانا... کچھ بھی تو نہیں۔ گھروں میں بند، سیوئیاں بھی بے مزہ۔ وہ شام کی دعوتیں، وہ گھر گھر جا کر عید ملنا، سب خواب ہو گیا۔ ارے رمضان بھی ...

کووِڈ کے علاج میں ایک نئی پیش رفت۔ کینسر اسپتال کے ڈاکٹروں نے تلاش کیا ایک نیا طریقہ۔ تجرباتی مرحلے پر ہورہا ہے کام!

سر اور گلے کے کینسر اورروبوٹک سرجری کے ماہر ڈاکٹر وشال راؤ کا کہنا ہے کہ ایچ سی جی کینسر اسپتال میں کووِڈ 19کے علاج کے لئے ڈاکٹروں نے ایک نئے طریقے پر کام کرنا شروع کیا ہے جس میں خون کے اندر موجود سائٹوکینس نامی ہارمون کا استعمال کیا جائے گا۔

کورونا وباء بھٹکل والوں کے لئے بن گئی ایک آفت۔فرقہ پرست نہیں چھوڑرہے ہیں مخصوص فرقے کو بدنام کرنے کا موقع، ہاتھ ٹوٹنے کی وجہ سے بچی کو منگلورو لے جانے پر گودی میڈیا نے مچایا واویلا

بھٹکل کے مسلمانو ں کے لئے بیماری بھی فرقہ وارانہ رنگ و روپ لے کرآتی ہے اورانہیں ہر مرحلے پر نئی ہراسانیوں کا شکار ہونا پڑتا ہے۔کورونا کی وباء ایک طرف مرض کے طور پر مصیبت بن گئی ہے تو کچھ فرقہ پرستوں کی طرف سے اس کو متعصبانہ رنگ دیا جارہا ہے اور یہ دوسری مصیبت بن گئی ہے۔

بھٹکل میں کووِڈ کے تازہ معاملات: کیا جنوبی کینرا اور شمالی کینرا ضلع انتظامیہ کی کوتاہی نے بگاڑا سارا کھیل؟ ۔۔۔۔۔۔ سینئر کرسپانڈنٹ کی خصوصی رپورٹ

بھٹکل میں خلیجی ملک سے کورونا وباء آنے اور پھر ضلع انتظامیہ، پولیس، محکمہ صحت اور عوام کے تعاون سے اس پر تقریباً قابو پالینے کے بعد اچانک جو دوسرا مرحلہ شروع ہوا ہے اور بڑی سرعت کے ساتھ انتہائی سنگین موڑ پر پہنچ گیا ہے اس پر لوگ سوال کررہے ہیں کہ کیا ا س کے لئے ضلع جنوبی کینرا ...