لوک سبھا انتخابات؛ کرناٹکا میں 67.28 فیصد اور ضلع اُترکنڑا میں74.07 فیصد پولنگ، بھٹکل میں ہوئی 71.73 فیصد پولنگ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 23rd April 2019, 10:02 AM | ساحلی خبریں |

بھٹکل  23/اپریل (ایس او نیوز)  ریاست کرناٹک کے دوسرے اور آخری مرحلے کی ووٹنگ آج صبح سات بجے شروع ہوکر اکثر پولنگ بوتھوں  پر شام چھ بجے  اختتام کو پہنچ گئے۔  جس میں اُترکنڑا لوک سبھا  حلقہ میں   74.07 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ اس درمیان شام قریب چار بجے  بھٹکل سمیت ضلع کے  بعض علاقوں میں بادلوں کی گرجدار آوازوں اور بجلیوں کی چمک کے ساتھ بارش شروع ہوجانے سے  کچھ جگہوں پر ایک گھنٹہ اور بعض جگہوں پر آدھا گھنٹہ  انتخابی کاروائی  متاثر ہوئی۔

شام چھ بجنے سے پہلے ہی اکثر پولنگ بوتھ  ووٹروں سے خالی ہوچکے تھے اس  بنا پر  اکثر پولنگ بوتھوں پر چھ بجتے ہی  انتخابی کاروائی مکمل کی گئی ۔  اُترکنڑا کے الیکشن آفسر ڈاکٹر  ہریش کمار  نے بتایا کہ  اُتر کنڑا  لوک سبھا حلقہ میں   74.07 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی جس میں سب سے زیادہ پولنگ  سرسی  میں ریکارڈ کی گئی ہے۔ ضلع میں سب سے کم پولنگ خانہ پور کے بعد بھٹکل میں ریکارڈ کی گئی۔  

ضلع کے الیکشن آفسر ڈاکٹر ہریش کمار نے بتایا کہ اُترکنڑا پارلیمانی حلقہ کے مختلف اسمبلی حلقوں میں  حتمی پولنگ اس طرح ریکارڈ کی گئی ہے۔سرسی 78.09 فیصد، یلاپور 77.75 فیصد، کمٹہ 77.13 فیصد،  ہلیال 73.4 فیصد، کِتُور 72.56 فیصد، کاروار 72.42 فیصد،  بھٹکل71.73 فیصد اور  خانہ پور 70.72 فیصد

خیال رہے کہ صبح سے دوپہر تک ضلع میں شدت کی گرمی محسوس کی جارہی تھی مگر دوپہر 3:30 بجے کے بعد اچانک موسم تبدیل ہوگیا۔ بھٹکل سمیت ضلع اُترکنڑا کے کئی علاقوں میں   ٹھنڈی ہوائیں چلنی شروع ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے  اسمان ابرآلود ہوگیا۔ چار بجنے سے پہلے ہی زور دار آوازوں کے ساتھ  بادل گرجنے لگے اور بجلیاں چمکنے کے ساتھ   بارش شروع ہوگئی۔ ایسے میں  کچھ وقت کے لئے بجلی بھی فیل ہوگئی۔

اچانک موسم تبدیل ہوجانے سےزیادہ تر کھلے علاقوں والے پولنگ بوتھوں میں  ووٹروں کو کچھ دیر کے لئے  پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ بارش شروع ہوتے ہی لوگوں کو چھت    کی تلاش کرنی پڑی ، جن علاقوں میں نوجوان    پولنگ بوتھوں کے باہر ٹیبل ڈال کر ووٹروں کی رہنمائی کے لئے بیٹھے تھے، اُنہیں اپنا ٹیبل  ہٹانا پڑا اورمحفوظ مقامات  کی طرف بھاگنا پڑا۔ ایسے میں الیکٹری سٹی فیل ہوجانے سے  بعض پولنگ بوتھوں پر کچھ وقت کے لئے  لوگوں کو اپنی موبائل ٹارچ سے ووٹ ڈالنے پر بھی مجبور ہونا پڑا۔ طوفانی ہوائوں کے ساتھ ہوئی بارش سے بھٹکل ہیبلے میں قائم  ایک خصوصی بوتھ کا شامیانہ بھی اُڑ گیا ۔

سرسی میں زوردار بارش؛ منڈگوڈ میں پولنگ مرکز کے قریب  درخت گرنے سے لوگ بال بال بچے

بھٹکل کے ساتھ ساتھ ضلع کے دیگر تعلقہ جات میں بھی  شام کو اچانک طوفانی ہواوں کے ساتھ بارش شروع ہوجانے سے  کچھ وقت کے لئے انتخابی کاروائی متاثر ہوئی۔ منڈگوڈ میں پولنگ ایجنٹ  اُس وقت بال بال بچ گئے جب  ایک  پولنگ مرکز کے قریب ہی ایک گھنا درخت گرگیا۔یہاں قریب آدھے گھنٹے تک زور دار بارش ہوئی اس دوران بجلیاں بھی چمک رہی تھی جس کی وجہ سے  ووٹروں کو  سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

بھٹکل رکن اسمبلی اسمبلی سنیل نائک نے چتراپور میں اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا

بھٹکل رکن اسمبلی سنیل نائک اپنی والدہ اور اپنی اہلیہ کے ساتھ  صبح دس بجے چتراپور موڈل ہائیر پرائمری اسکول  پہنچ کر اپنی حق رائے دہی کااستعمال کی، اُسی طرح سرسی میں لوک سبھا حلقہ کے بی جےپی اُمیدوار آننت کمار ہیگڈے اور کاروار میں کانگریس۔جے ڈی ایس مشترکہ اُمیدوار آنند اسنوٹیکر نے اپنی حق رائے کا استعمال کیا۔

بھٹکل کے شرالی  چتراپور میں ووٹروں کی کافی لمبی قطار نظر آئی، البتہ بھٹکل ٹاون علاقوں کے پولنگ بوتھوں پر ووٹروں کی تعداد کافی کم نظر آئی۔

بھٹکل مدینہ کالونی پولنگ بوتھ نمبر پر 224 میں34 منٹ تاخیر

بھٹکل مدینہ کالونی محی الدین اسٹریٹ کے  پولنگ بوتھ نمبر 224 پر قریب 34  منٹ تاخیر سے پولنگ شروع ہوئی  بتایا جارہا ہے کہ مشین میں کچھ ٹیکنیکل  خامی کی وجہ سے  تاخیر ہوئی ۔البتہ دیگر پولنگ بوتھوں پر وقت پر پولنگ شروع ہوگئی۔

تیسرے مرحلے میں 117 لوک سبھا سیٹوں کے لیے ہوئی  پولنگ

لوک سبھا انتخاب کے تیسرے مرحلے کے لیے آج  15 ریاستوں کی  کل 117 سیٹوں پر پولنگ ہوئی اور اس میں پورے جوش و خروش  کے ساتھ ووٹروں نے حصہ لیا۔ بہار کی 5، اتر پردیش کی 10، مغربی بنگال کی 5، مہاراشٹر کی 14، کرناٹک کی 14، گجرات کی سبھی 26، جموں و کشمیر کی 1، اڈیشہ کی 6، آسام کی 4، تمل ناڈو کی 1، چھتیس گڑھ کی 7، کیرالہ کی سبھی 20، گوا کی 2، تریپورہ کی 1، دادر حویلی اور دمن دیو کی 1 سیٹ پر آج پولنگ مکمل ہوئی۔ جن 117 سیٹوں پر آج ووٹنگ ہو ئی ہے وہاں مجموعی طور پر 1622 امیدوار میدان میں ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

ساگر مالا منصوبہ: انکولہ سے بیلے کیری تک ریلوے لائن بچھانے کے لئے خاموشی کے ساتھ کیاجارہا ہے سروے۔ سیکڑوں لوگوں کی زمینیں منصوبے کی زد میں آنے کا خدشہ 

انکولہ کونکن ریلوے اسٹیشن سے بیلے کیری بندرگاہ تک ’ساگر مالا‘ منصوبے کے تحت ریلوے رابطے کے لئے لائن بچھانے کا پلان بنایا گیا اور خاموشی کے ساتھ اس علاقے کا سروے کیا جارہا ہے۔

ماڈرن زندگی کا المیہ: انسانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ضلع شمالی کینرا میں درج ہوئے ڈھائی سال میں 641معاملات!

جدید تہذیب اور مادی ترقی نے جہاں انسانوں کو بہت ساری سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں پر زندگی جینا بھی اتنا ہی مشکل کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں اور خاص کرکے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

منگلورو پولیس نے ایک اور مشکوک کار کو پکڑا؛ پنجاب نمبر پلیٹ والی کار کے تعلق سے پولس کو شکوک و شبہات

دو دن دن پہلے لٹیروں اور جعلسازوں کی ایک ٹولی کے قبضے سے منگلورو پولیس نے ایسی کار ضبط کی تھی جس پر نیشنل کرائم انویسٹی گیشن بیوریو، گورنمنٹ آف انڈیا لکھا ہوا تھا۔اب مزید ایک مشکوک کار کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ جس پر بھی گورنمینٹ آف انڈیا لکھا ہوا ہے۔

مرڈیشور ساحل پر ماہی گیروں اور انتظامیہ افسران کے درمیان پارکنگ جگہ کو لےکر تنازعہ: ماہی گیروں کا احتجاج  

مرڈیشور میں مچھلی شکار پیشہ کے لئے جگہ مختص کرنے اور ماہی گیر کشتیوں کو  محفوظ رکھنے کےلئے جگہ متعین کرنے کے متعلق   ماہی گیروں اور مقامی انتظامیہ کے درمیان پھر ایک بار تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔