مسلمان موجودہ حالات کا سامنا جذباتی ہوکر نہیں دانشمندی سے کریں: حامد انصاری

Source: S.O. News Service | Published on 25th August 2021, 10:53 AM | ریاستی خبریں |

 رحمن خان کی کتابوں کے ورچوئل اجراء میں ملک کی ممتاز شخصیات کے تاثرات، تعلیم کو اپنانے پر زور

بنگلورو،25؍اگست(ایس او نیوز)سابق مرکزی وزیر اور سینئر کانگریس رہنما ڈاکٹر کے رحمن خان کی دو تصنیفات ’میری یادیں‘ اور ہندوستانی مسلمان۔ لائحہ عمل‘ کے اجراء کے سلسلہ میں منگل کے روز ایک ورچوئل پروگرام کا زوم پر اہتمام کیا گیا۔ جس میں سابق نائب صدر ہند حامد انصاری سمیت ملک کی ممتاز شخصیتوں نے شرکت کی اور ان کتابوں اور مسلم معاشرے کی موجودہ صورتحال پر اپنے خیالا ت کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ مسلم معاشرے کو موجودہ نا امیدی کے ماحول سے نکال کر ایک نئی امید کے ساتھ ترقی کی جانب لے جانے کے لئے ڈاکٹر رحمن خان کی فکر کوسراہا۔ سابق نائب صدر ہند حامد انصاری نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات کو پریشان کن بتایا، لیکن انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے مسائل کسی حد تک حل ہوئے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ بڑی حد تک پیچیدگیوں میں اضافہ بھی ہو گیا ہے۔ ملک کا ایک طبقہ اس کوشش میں لگا ہوا ہے کہ مسلمانوں کو غیر ثابت کرے، اس کا جواب جذباتی ہو کر نہیں بلکہ عقل و دانشمندی سے دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی وجہ سے کوئی بچہ تعلیم وترقی میں پیچھے رہ جائے تو معاشرے کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کو آگے بڑھنے کی سہولت مہیا کروائے۔ حکومتوں کو معاشرے کی ترقی کے لئے جو کرنا تھا افسو س کہ وہ نہ کر پائیں، ہمیں اس بات کا محاسبہ بھی کرنے کی ضرورت ہے کہ بحیثیت شہری ہم نے اپنی ذمہ داری کوکس حد تک پورا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تشخیص و تحفظ کے بغیر کوئی شہری سماج اطمینان کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ قوم کو تعلیم سے آراستہ کرنے کی ذمہ داری کسی حد تک حکومت کی ہے لیکن زیادہ ذمہ داری سماج اور برادری پر عائد ہو تی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری مراعات میں مسلمانوں کو مساوی حصہ داری نہیں مل رہی ہے۔ فیصلہ سازی میں ان کی شمولیت نہیں ہو رہی ہے۔ ہر صوبے میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کم سے کمتر ہو تی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو تعلیم اور خود کو بااختیار بنانے کی کوشش اجتماعی طور پر کرنی چاہئے۔مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا سچر کمیٹی نے برسوں پہلے ہی آئینہ دکھا دیا ہے، اس کودور کرنے کے لئے دیانت داری سے جو کوشش ہو نی چاہئے تھی وہ نہ ہو سکی۔اس بات کا بھی محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ دوسری قوموں کے مقابل ہماری خواتین تعلیمی میدان میں پیچھے کیوں رہ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رحمن خان نے اپنی کتابوں میں ان سوالات کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے جواب بھی پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

ڈاکٹرکے رحمن خان:صاحب کتب ڈاکٹر کے رحمن خان نے اتبدائی تاثرات پیش کرتے ہوئے اس کتاب کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور مسلمانوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے مشورہ دیا کہ وقتی ناکامیوں سے دل برداشتہ نہ ہوں، بلکہ اللہ کی ذات سے امید قوی رکھیں کہ آنے والے دن ضرور اچھے ہوں گے۔ انہوں نے مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی پسماندگی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اس کے لئے صرف حکومتوں کو ذمہ دار بتا کر مسلمان اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔ ہماری پسماندگی کے لئے ہم دوسروں کو الزام نہیں ڈال سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں اس وقت تک مسلم قوم غالب رہی جب تک کہ وہ دینے والی رہی۔ اب معاشی پسماندگی کے سبب جب مسلم قوم نے مانگنا شروع کیا تو اس کو دبانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کے مسلمانوں کو ایک مشکل دور سے گزرنا پڑ رہا ہے لیکن مسلمان ایسی مشکلوں سے کبھی ڈرا ہے اور نہ ڈرے گا۔

پروفیسر اختر الواسع:جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمریٹس پروفیسر اختر الواسع نے رحمن خان کی کتابوں کو مسلمانوں میں موجودہ حالات کے متعلق بیداری لانے کی کوشش کے ساتھ اس سے بہتر طریقہ سے نپٹنے کے لئے مشعل راہ سے تعبیر کیااور کہا کہ ان کتابوں کے ذریعے مسلمانوں کی خود احتسابی کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم کل مرکز ی اہمیت کے حامل رہے آج ہمارا وجود حاشیہ پر بھی نہیں۔ اس کے اسباب پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کومسلمانوں نے قطب مینار کی بلندی، لال قلعہ کی مضبوطی، تاج محل کا حسن،جامع مسجد کا تقدس عطا کیا۔ مسلمانوں کو معاشی، سماجی اور تعلیمی طور پر آگے بڑھنے کے لئے اقدامات پر زوردیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمان خدا پر بھروسہ رکھیں اور خود پر بھی بھروسہ رکھیں۔ اس ملک کا مسلمان بھیک نہیں بلکہ بھاگیداری چاہتا ہے۔ رعایت نہیں شراکت چاہتا ہے۔ حکومت اگر مواقع فراہم کرے تو ہم بھی ہندوستان کے روشن چہرے بن کر ابھر سکتے ہیں۔مسلمان ہمدردی کی بیساکھیوں کے سہارے زیادہ دور نہیں چل سکتے بلکہ مثبت تبدیلی کے لئے مسلمانوں کو مضبوط ارادوں کے ساتھ قدم بڑھانے ہوں گے۔جس قوم کی آدھی آبادی غیر تعلیم یافتہ ہو وہ قوم کہاں سے ترقی کر سکتی ہے۔

ڈاکٹر منظور عالم: انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے چیر مین ڈاکٹر منظور عالم نے اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے مسلمانوں سے گزارش کی کہ وہ شکوے شکایتوں کی عادت کو ترک کردیں اور اپنے باوقار کردار کے ذریعے آگے بڑھیں۔ یقینی طور پر کامیابی ہمارا مقدر ہو گی۔ انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہحالات کو دیکھ کر مسلمانوں نے زمانے کی فطرت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ مسائل کو ان کے مطابق سمجھ کر ان کا حل تلاش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو موجودہ اور آنے والی نسلوں میں چیلنجس قبول کرنے اور ان کا سامنا کرنے کی قوت پیداکرنی چاہئے،اس کے لئے علم کا سہارا لیا جائے۔

مولانا صغیر احمد خان: کرناٹک کے امیر شریعت مولانا صغیر احمد خان نے اس موقع پر اپنے دعائیہ کلمات میں دار العلوم سبیل الرشاد سے ڈاکٹر کے رحمن خان کی دیرینہ وابستگی اور لگاؤ کاتذکرہ کیا اور کہا کہ بلند مرتبوں پر فائز رہنے کے باوجود ڈاکٹر کے رحمن خان ہمیشہ ملت کے درپیش مسائل کے تئیں متفکر رہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اعتبار سے مسلمانوں کو آگے بڑھانے کی جدوجہد ضروری ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ملک کے مسلمانوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی فلاح کے لئے دعا فرمائی۔ اس اجلاس کا آغاز حافظ عبدالعظیم رحمانی کی قرأت سے ہوا۔ نظامت محترمہ صبیحہ فاطمہ نے کی۔ ملک بھر کی ممتاز شخصیات اس ورچیول رسم اجراء کا حصہ زوم کانفرنس کے ذریعے بنے۔ آخر میں ڈاکٹر کے رحمن خان نے شرکاء کی طرف سے کتابوں کے متعلق کئے گئے سوالات کے جوابات دئیے-

ایک نظر اس پر بھی

مسلمانوں میں نکاح معاہدہ ہے نہ کہ ہندو شادی کی طرح رسم، طلاق کے معاملے پرکرناٹک ہائی کورٹ کااہم تبصرہ

کرناٹک ہائی کورٹ نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ مسلمانوں کے یہاں نکاح ایک معاہدہ ہے جس کے کئی معنی ہیں ، یہ ہندو شادی کی طرح ایک رسم نہیں ہے اور اس کے تحلیل ہونے سے پیدا ہونے والے حقوق اور ذمہ داریوں سے دور نہیں کیا جاسکتا۔

کرناٹک سے روزانہ 2100کلو بیف گوا کو سپلائی ہوتاہے : وزیر اعلیٰ پرمود ساونت

بی جے پی کی اقتدار والی ریاست کرناٹک سے روزانہ 2000کلوگرام سے زائد جانور اور بھینس کا گوشت (بیف)گوا کو رفت ہونےکی جانکاری بی جے پی اقتدار والی ریاست گوا کے وزیرا علیٰ پرمود ساونت نے دی۔ وہ گوا ودھان سبھا کو تحریری جواب دیتےہوئے اس بات کی جانکاری دی ۔

کرناٹک کے داونگیرے میں ایک لڑکی نے والدین سمیت 4 افرادکو سلایا موت کی نیند؛ کیا ہے پورا واقعہ

کرناٹک میں ایک لڑکی نے امتیازی سلوک سے تنگ آکر اپنے پورے خاندان کو زہر دے کر ہلاک کردیا۔ جب فارنسک رپورٹ منظر عام پر آئی تو انکشاف ہوا کہ اس خاندان کی موت رات کے کھانے میں پائے جانے والے زہر سے ہوئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق داونگیر میں ایک 17 سالہ لڑکی کو کچھ عرصے سے اپنے خاندان ...

ہبلی میں مبینہ تبدیلی مذہب کی مخالفت کرتے ہوئے شدت پسند ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے چرچ کے اندر گھس کر گایا بھجن

ہبلی میں تبدیلی مذہب کی مخالفت کرتے ہوئے ہندو شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں نے ایک چرچ کے اندر گھس کر بھجن گانا شروع کردیا جس کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں درجنوں مرد و خواتین کو دیکھا گیا ہے کہ وہ کس طرح ہبلی کے بیری ڈیوارکوپا چرچ کے اندر بیٹھے ہاتھ جوڑ کر بھجن گارہے ہیں۔