دو تین سالوں تک اسی صلاحیت کے ساتھ کھیل سکتا ہوں: وراٹ کوہلی

Source: S.O. News Service | Published on 20th February 2020, 10:59 AM | اسپورٹس |

ویلنگٹن،20/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی)  ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی کا خیال ہے کہ مصروف شیڈول کے درمیان باقاعدہ آرام کرنے سے انہیں بین الاقوامی کرکٹ کے تمام فارمیٹس کے علاوہ آئی پی ایل کھیلنے میں بھی مدد ملی ہے اور وہ اگلے دو تین سال تک اسی صلاحیت کے ساتھ کھیل سکتے ہیں۔

وراٹ نے یہاں نیوزی لینڈ کے خلاف جمعہ سے شروع ہونے والی دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز سے پہلے بدھ کو صحافیوں سے یہ بات کہی۔ہندستانی کپتان نے کہاکہ میں گزشتہ آٹھ یا نو سال سے متواتر ایک سال میں تقریبا 300 دن کرکٹ کھیل رہا ہوں، جس میں سفر اور پریکٹس سیشن بھی شامل ہے۔ ہمیشہ آپ کو مکمل صلاحیت کے ساتھ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے جس کا اثر قدرتی طور پر آپ پر پڑتا ہے۔ یہ اتنا آسان نہیں ہوتا۔

وراٹ نے کہا کہ کئی کھلاڑی اس بارے میں سوچتے ہیں۔ مصروف شیڈول کے باوجود ذاتی طور پر ہم باقاعدگی سے وقت نکال کر آرام کرتے ہیں۔ مستقبل قریب میں میرے علاوہ بہت سے دوسرے کھلاڑی جو کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں کھیل رہے ہیں وہ بھی ایسا طریقہ اپنا سکتے ہیں۔وراٹ نے کہاکہ کپتان کے طور پر آپ کو پریکٹس سیشن کے دوران مکمل صلاحیت کے ساتھ کھیل کے لئے حکمت عملی بنانی ہوتی ہے جس کا اثر آپ پر پڑتا ہے۔لہذا مصروف شیڈول کے درمیان باقاعدگی سے آرام کرنے سے مجھے بہتر کارکردگی کرنے میں مدد ملتی ہے۔ہر وقت آپ کی جسمانی صلاحیت ایک جیسی نہیں رہتی ہے۔میں جب 34 یا 35 سال کا ہو جاؤں گا تو حالات کچھ اور ہوں گے، لیکن اگلے دو تین سالوں تک میں اسی صلاحیت کے ساتھ کھیل سکتا ہوں، مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے۔

ہندستانی کپتان نے کہاکہ میں اگلے دو تین سال تک اسی تال کے ساتھ کھیل سکتا ہوں اور ٹیم کو میری کافی ضرورت بھی ہے تاکہ ہم آسانی سے آنے والے تبدیلی کے دور سے گزر سکیں۔اس کے پیش نظر میں اگلے دو تین سال کے لئے خود کو تیار کر رہا ہوں۔وراٹ بین الاقوامی سطح پر سب سے مصروف کرکٹروں میں سے ایک ہیں اور کئی بار انہوں نے کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں کھیلنے والے ہندستانی کھلاڑیوں کی مصروفیت کو کم کرنے پر زور دیا ہے۔غور طلب ہے کہ نومبر 2019 میں بنگلہ دیش کے خلاف ٹوئنٹی -20 سیریز میں وراٹ کو آرام دیا گیا تھا۔۔اس کے علاوہ ورلڈ کپ کے بعد ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں بھی باقاعدہ کپتان وراٹ کو آرام دیا گیا تھا۔

جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش، سری لنکا اور آسٹریلیا کے خلاف مسلسل ایک کے بعد ایک ہوم سیریز کے بعد ہندستانی ٹیم یہاں نیوزی لینڈ کے دورے پر آئی ہے۔ ہندستان نے میزبان نیوزی لینڈ کو ٹوئنٹی -20 سیریز میں 5-0 سے شکست دی تھی جبکہ ون ڈے سیریز میں اسے 3-0 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

نیوزی لینڈ کو 372 رنز سے شکست، ہندوستان نے گھریلو میدان پر لگاتار 14ویں ٹیسٹ سیریز جیتی

آف اسپنر روی چندرن اشون اور جینت یادو کے چار چار وکٹوں کی بدولت ہندوستان نے دوسرے کرکٹ ٹسٹ میچ کے صبح کے سیشن میں نیوزی لینڈ کو 167 رنز پر ٖڈھیر کرنے کے بعد 372 رنز سے شکست دے کر دو میچوں کی سیریز 1-0 سے جیت لی۔

اعجاز پٹیل کے ’پرفیکٹ 10‘ کے بعد نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم 62 رن پر آؤٹ

ورلڈ ٹیسٹ چمپئن نیوزی لینڈ کی ٹیم اپنے بائیں ہاتھ کے اسپنر اعجاز پٹیل کی ہندوستانی اننگ میں تمام دس وکٹیں لینے کی شاندار کارکردگی سے تحریک نہیں لے سکی اوراس کےبلے بازوں نے ہندوستانی گیندبازوں کے سامنے یہاں دوسرے اور آخری ٹسٹ میچ کے دوسرے دن ہفتہ کو محض 62 رن پر گھٹنے ٹیک دئے۔

ممبئی ٹیسٹ: اعجاز پٹیل نے ایک اننگ میں 10 وکٹ لے کر رقم کی تاریخ، ایسا کرنے والے دنیا کے تیسرے گیندباز

نیوزی لینڈ کے گیندباز اعجاز پٹیل نے کسی ٹیسٹ میچ کی ایک اننگ کے تمام 10 وکٹ حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔ اعجاز پٹیل ایسا کرنے والے نیوزی لینڈ کے پہلے اور دنیا کے تیسرے گیند باز ہیں۔ اعجاز سے پہلے یہ کارنامہ انیل کمبلے اور جیم لیکر انجام دے چکے ہیں۔

تمل ناڈو نے تیسری بار سیدمشتاق علی ٹرافی کا خطاب جیتا

دھماکہ خیز بلے باز شاہ رخ خان کی 15 گیندوں پر 33 رن کی زبردست اننگ کی بدولت تمل ناڈو نے یہاں پیر کو دہلی کے ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں فائنل مقابلے میں کرناٹک کو چار وکٹ سے شکست دے کر تیسری بار سید مشتاق علی ٹرافی کاخطاب جیت لیا۔