وکاس دوبے کوئی ’ہیرو‘ نہیں، بہار آیا تو محفوظ واپس نہیں جائے گا: بہار ڈی جی پی

Source: S.O. News Service | Published on 8th July 2020, 9:48 PM | ملکی خبریں |

پٹنہ،8؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) ایک طرف یو پی پولس ہسٹری شیٹر وکاس دوبے کی گرفتاری کے لیے پورا زور لگائے ہوئے ہے اور اس کی خبر دینے والے کو 50 لاکھ انعامی رقم دینے کا اعلان بھی کر دیا ہے، اور دوسری طرف کچھ لوگ وکاس کو 'ہیرو' تصور کر رہے ہیں جس پر بہار کے ڈی جی پی گپتیشور پانڈے نے حیرانی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ "کتنی شرم اور افسوس کی بات ہے کہ ایسے پیشہ ور قاتلوں کو برہمنوں کا شیر کہا گیا ہے۔ یہ شرم کی بات ہے اور یہی جرائم کا کلچر ہے جس کی ہم بات کرتے رہے ہیں۔ اپنی اپنی ذات کے پیشہ ور لٹیروں کو، زانیوں کو، ڈکیتوں کو، اغوا کرنے والوں کو، قتل کرنے والوں کو لوگ ہیرو بنا رہے ہیں۔ اگر کوئی اس طرح سے اپنی ذات کے جرائم پیشوں کو ہیرو بنائے گا، اس کی پوجا کرے گا، اس کے لیے زندہ باد کے نعرے لگائے تو جرائم کے کلچر کو فروغ ملے گا۔"

ایک رپورٹر کے ذریعہ یہ سوال کیے جانے پر کہ اگر وکاس دوبے بہار آیا تو وہ کیا کریں گے؟ گپتیشور پانڈے نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "آرتی لگائیں گے، اس کی پوجا کریں گے۔" پھر انھوں نے سخت لہجے میں کہا کہ "پورے ملک کی پولس ایک ہے۔ یو پی اور بہار کی پولس الگ الگ نہیں ہے۔ وکاس دوبے یو پی میں 8 پولس اہلکاروں کا قتل کر کے بہار میں گھس آئے گا، اور پھر یہاں سے محفوظ نکل جائے گا ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟"

ڈی جی پی گپتیشور پانڈے نے بتایا کہ انھوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھا ہے جس میں وکاس دوبے کو ایک خاص طبقہ کا ہیرو بنا کر دکھایا گیا ہے۔ ایسے لوگ انتظامیہ کو کمزور کر رہے ہیں، حکومت کو کمزور کر رہے ہیں، یہ لوگ پولس کو کمزور کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ "وکاس دوبے شیر نہیں ہے۔ ایسے تو نامرد بھی کسی کو گولی مار سکتا ہے۔ پولس اہلکار جو اسے گرفتار کرنے گئے تھے وہ چوہے تھے کیا؟ مارنے والا نامرد شیر ہو گیا؟ اگر ایسا ہے تو (وکاس) آئے بہار میں، شیر کا شکار کیسے ہوتا ہے اسے بتا دیا جائے گا۔ اگر ایسے ہی جرائم پیشے شیر ہیں تو بھگت سنگھ کون تھے، نیتا جی سبھاش چندر بوس کون تھے، عبدالحمید کون تھے، اشفاق اللہ کون تھے۔ شیر وہ ہوتا ہے جو وطن کے لیے شہید ہوتا ہے۔شیر وہ ہوتا ہے جو سماج کے لیے جیتا ہے اور سماج کے لیے مرتا ہے۔"

ڈی جی پی نے واضح لفظوں میں کہا کہ جرائم پیشہ کسی بھی ذات اور مذہب کا ہو، وہ صرف جرائم پیشہ ہوتا ہے۔ لوگ جرائم پیشہ کو ہیرو بنا رہے ہیں جو درست نہیں۔ عوام کو جرائم کے کلچر کے خلاف لڑنا ہوگا۔ جرائم کا کلچر صرف پولس ختم نہیں کر سکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ جرائم پیشہ چاہے کسی بھی ذات، مذہب، پارٹی کا ہو، عوام اسے ہیرو نہ بنائیں۔ اسے عزت مت دیجیے۔ اسے شیر مت بنائیے۔

ایک نظر اس پر بھی

بے لگام میڈیا پر جمعیۃ کی عرضی: جب تک عدالت حکم نہیں دیتی حکومت خود سے کچھ نہیں کرتی: چیف جسٹس

مسلسل زہر افشانی کرکے اور جھوٹی خبریں چلاکر مسلمانوں کی شبیہ کوداغدار اور ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوارکھڑی کرنے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں کے خلاف داخل کی گئی

دہلی فسادات: پروفیسر اپوروانند کی حمایت میں سامنے آئے ملک و بیرون ملک کے دانشوران

 ملک اور بیرون ملک کے ایک ہزار سے زائد معروف دانشوروں، نوکر شاہوں، صحافیوں، مصنفوں، ٹیچروں او اسٹوڈنٹس نے دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند سے مشرقی دہلی میں فسادات کے معاملے میں پوچھ گچھ کئے جانے اور انکا موبائل فون ضبط کرنے کے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے اور پولیس کے ذریعہ ...

کالعدم چینی کمپنیوں سے بی جے پی کے گہرے رشتے ہیں: کانگریس

 کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے قومی سلامتی کے لیے خطرہ بتاتے ہوئے جن چینی کمپنیوں پر پابندی لگائی ہے ان میں سے کئی کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے گہرے رشتے ہیں اور گزشتہ عام انتخابات میں ان کمپنیوں نے اس کے لیے تشہیری مہم کا کام کیا تھا۔

ریا چکرورتی کا سوشانت کے ساتھ جڑنے کا واحد مقصد ان کی جائیداد ہڑپنا تھا: بہار پولیس کا حلف نامہ

 بہار پولیس نے اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں سپریم کورٹ میں دائر حلف نامے میں کہا کہ کلیدی ملزمہ ریا چکرورتی اور اس کے اہل خانہ کا اداکار کے ساتھ جڑنے کا واحد مقصد اس کی جائیداد ہڑپنا تھا۔