اتراکھنڈ اسمبلی میں ’پچھلے دروازے‘ سے ہوئیں سبھی 228 تقرریاں منسوخ، سکریٹری بھی معطل

Source: S.O. News Service | Published on 23rd September 2022, 11:40 PM | ملکی خبریں |

دہرادون،23؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) اتراکھنڈ اسمبلی میں پچھلے دروازے سے تقرری معاملے میں اسمبلی اسپیکر رتو کھنڈوری نے آج ایک پریس کانفرنس کر کہا ہے کہ 228 تقرریوں کو منسوخ کرنے کی درخواست حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔ ساتھ ہی اسمبلی سکریٹری مکیش سنگھل کو بھی فوری اثر سے معطل کر دیا گیا ہے۔ اسمبلی اسپیکر نے بتایا کہ جانچ رپورٹ سونپتے وتق جانچ کمیٹی کے سربراہ ڈی کے کوٹیا، ایس ایس راوت اور اونیندر سنگھ نیال موجود رہے۔ اسمبلی اسپیکر رتو کھنڈوری نے کہا کہ کمیٹی نے تقرریاں رد کرنے کی پیشکش کی ہے۔

اسمبلی اسپیکر نے کہا کہ نوجوانوں کو مایوس نہیں ہونا ہے۔ بے ضابطگیوں پر کارروائی کے لیے ہم ہمیشہ سخت رہیں گے۔ جانچ کمیٹی نے 20 دن میں اپنی جانچ پوری کر رپورٹ سونپی ہے۔ ساتھ ہی اسمبلی کے اہلکاروں نے بھی جانچ میں پورا تعاون دیا۔ یہ جانچ رپورٹ 214 صفحات کی ہے۔ جانچ رپورٹ میں 2016 اور 2021 میں جو ایڈہاک تقرریاں ہوئی تھیں، ان میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، جانچ کمیٹی نے ان تقرریوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسمبلی اسپیکر نے کہا کہ تقرریوں کے لیے نہ نوٹیفکیشن نکالا گیا، نہ امتحان لیا گیا، سروس پلاننگ آفس سے بھی تفصیلات نہیں مانگی گئیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ 2016 تک 150 تقرریوں، 2020 میں 6 تقرریوں، 2021 میں 72 تقرریوں کو منسوخ کرنے کی منظوری کے لیے حکومت کے پاس بھیجا گیا ہے۔ ان تقرریوں کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ اسمبلی سکریٹری مکیش سنگھل کو فوری اثر سے معطل کر دیا گیا ہے۔

دراصل دہرادون اسمبلی میں پچھلے دروازے سے ہوئی تقرری کے معاملے میں وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی منشا کے مطابق ہی اسمبلی اسپیکر نے جانچ کمیٹی کی موصولہ رپورٹ کی بنیاد پر فیصلہ لیتے ہوئے 250 تقرریوں کو رد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پر وزیر اعلیٰ دھامی نے کہا کہ قبل میں اسمبلی اسپیکر کو بھیجی گئی درخواست کے تعلق سے اسمبلی میں بے ضابطگی پر مبنی تقرریوں پر کارروائی ریاستی حکومت کی سشاسن پالیسی کو لے کر عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔ اسمبلی اسپیکر کے ذریعہ متنازعہ تقرریوں کو رد کرنا انتہائی قابل تعریف قدم ہے۔ ریاستی حکومت مستقبل میں ہونے والی بھرتیوں میں پوری شفافیت لانے کے لیے ایک کارگر پالیسی بنانے پر بھی کام کر رہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

نوٹ بندی کی آئینی درستگی کو چیلنج کرنے والی 59 عرضیوں پر سپریم کورٹ میں 12 اکتوبر کو ہوگی سماعت

مودی حکومت کی جانب سے 2016 میں نافذ کی گئی نوٹ بندی کے آئینی جواز کے خلاف دائر کی گئی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی آئینی بنچ میں 12 اکتوبر کو سماعت ہوگی۔ نوٹ بندی کے خلاف عرضیوں پر سپریم کورٹ نے سوال کیا ہے کہ اب اس معاملے میں کیا باقی ہے؟ کیا اس معاملے کی جانچ کرنے کی ضرورت ...

یوپی: لکھیم پور کھیری میں دلخراش سڑک حادثہ، بس اور ٹرک کے تصادم میں 8 افراد ہلاک، 25 سے زائد زخمی

 اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں آج صبح ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ معلومات کے مطابق بس اور ٹرک کے درمیان تصادم میں 8 افراد جاں بحق، جب کہ 25 زخمی ہوئے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ لکھیم پور کھیری ضلع کے عیسی نگر تھانہ علاقے کی کھماریا پولیس چوکی کے نزدیک شاردا ندی کے پل پر درجنوں مسافروں ...

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ روی کشن کو لگا چونا! کاروباری پر عائد کیا 3.25 کروڑ کی ٹھگی کرنے کا الزام، پولیس میں درج کرائی شکایت

 بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور اداکار روی کشن مبینہ طور پر 3.25 کروڑ روپے کی ٹھگی کا شکار ہو گئے ہیں، اس واقعہ کی اطلاع پولیس نے دی ہے۔ گورکھپور صدر سے رکن پارلیمنٹ روی کشن نے گورکھپور کینٹ تھانہ میں ایک بلڈر کے خلاف 3.25 کروڑ کی ٹھگی کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کرایا ہے۔

مرکزی حکومت کے ملازمین کو ملی سوغات، مہنگائی بھتہ میں 4 فیصد کا اضافہ

مرکزی حکومت نے ایک کروڑ سے زیادہ سرکاری ملازمین اور پنشن حاصل کرنے والے افراد کو تہواروں کے موقع پر سوغات پیش کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں منعقد ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں مہنگائی بھتہ میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نیشنل اسٹاک ایکسچینج کو-لوکیشن گھوٹالہ معاملہ میں چترا رام کرشن اور آنند سبرامنیم کو دہلی ہائی کورٹ سے ملی ضمانت

دہلی ہائی کورٹ نے نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) کو-لوکیشن گھوٹالہ معاملے میں گرفتار سابق چیف ایگزیکٹیو افسر چترا رام کرشن اور سابق گروپ آپریٹنگ افسر آنند سبرامنیم کو ضمانت دے دی ہے۔ اس گھوٹالے کی سی بی آئی کے ذریعہ جانچ کی جا رہی ہے۔

’کانگریس ہمیشہ سے فرقہ پرستی کے خلاف رہی ہے‘، پی ایف آئی پر پابندی کے بعد جئے رام رمیش کا رد عمل

مرکزی حکومت کے ذریعہ پی ایف آئی پر پانچ سال کی پابندی عائد کیے جانے کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہمیشہ سے سبھی طرح کی فرقہ پرستی کے خلاف رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اکثریت یا اقلیت کی بنیاد پر مذہبی تشدد میں فرق ...