سیلاب زدگان کے لئے ریلیف کا مطالبہ۔شمالی کینرا کے اراکین اسمبلی اور بی جے پی لیڈروں کے وفد نے کی وزیر اعلیٰ سے ملاقات  

Source: S.O. News Service | Published on 10th September 2019, 1:06 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

کاروار10/ستمبر (ایس او نیوز) ضلع شمالی کینرا میں گزشتہ مہینے میں موسلادھار برسات کی وجہ سے مختلف مقامات پر جو سیلاب آیا تھااور سیکڑوں خاندان متاثر ہوئے ان کے لئے مناسب ریلیف کا مطالبہ لے کر ضلع کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے کی قیادت میں اراکین اسمبلی اور بی جے پی لیڈران کے ایک وفد نے وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا سے ملاقات کی۔

 معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے دوران وفد کی طرف سے سیلاب سے متاثرہ مقامات اور خاندانوں کی تفصیلات اور ہونے والے نقصانات کا تخمینہ پیش کیا گیا۔ اس کے ردعمل میں وزیر اعلیٰ نے اس بات پرمعذرت کا اظہار کیا کہ وہ ضلع کا دور ہ کرنے اور سیلاب زدگان سے ملاقاتیں کرنے کا موقع نکال نہیں پائے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ جلد ہی وہ ضلع کا دورہ کریں گے اور حالات کا جائزہ لینے کے بعدمتاثرین کو زیادہ سے زیادہ امداد فراہم کریں گے۔

 بتایا جاتا ہے کہ اس موقع پرکاروار انکولہ حلقے کی رکن اسمبلی روپالی نائک نے وزیر اعلیٰ سے ماہی گیروں کے لئے بھی راحت رسانی کرنے اور ای۔ پراپرٹی اور این اے کے قوانین کو آسان کرنے کی بھی درخواست کی۔روپالی نائک نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیاکہ ضلع میں مچھلیوں کے اندر بیماری پیدا ہوجانے سے ماہی گیروں کی زندگی مشکل میں پڑ گئی ہے۔ اس لئے ماہی گیروں کو فی خاندان 10ہزار روپے مالی امداد فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ کاروار کدرا ڈیم کے علاقے میں پانی چھوڑنے سے جو سیلاب آیا تھا اس میں نقصان اٹھانے والوں کے لئے امداد کا مطالبہ کرتے ہوئے روپالی نائک نے کہا کہ جن کی دکانیں سیلاب میں پوری طرح تباہ ہوگئی ہیں انہیں فی کس 10ہزار روپے کی امداد فراہم کی جائے۔اور جن مکانات کو نقصان پہنچا ہے انہیں فی خاندان 1لاکھ روپے اور جو مکانات مکمل طور پر گر گئے ہیں ان کے لئے فی خاندان 5لاکھ روپے کا معاوضہ جاری کیاجائے۔

 وزیراعلیٰ سے ملاقات کے اس موقع پر بی جے پی کے ضلع صدر کے جی نائک، رکن اسمبلی دینکر شیٹی، روپالی نائک، سنیل نائک، سابق رکن اسمبلی شنیل ہیگڈے، بی جے پی ضلع جنرل سیکریٹری این ایس ہیگڈے اور وینکٹیش نائیک وغیرہ موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار اسپتال سے 12 مزید لوگ ڈسچارج

بھلے ہی  ضلع اُترکنڑا میں کورونا پوزیٹیو کے معاملے ہر روز سامنے آرہے ہوں، لیکن کاروار اسپتال میں ایڈمٹ کورونا کے متاثرین  روبہ صحت ہوکر ڈسچارج ہونے کا سلسلہ بھی برابر جاری ہے۔

اُترکنڑا میں پھر 36 کورونا پوزیٹیو؛ بھٹکل میں بھی کورونا کے بڑھنے کا سلسلہ جاری؛ آج ایک ہی دن 19 معاملات

اُترکنڑا میں کورونا کے معاملات میں روز بروز اضافہ کا سلسلہ جاری ہے اور آج منگل کو بھی ضلع کے مختلف تعلقہ جات سے 36 کورونا کے معاملات سامنے آئے ہیں جس میں صرف بھٹکل سے پھر ایک بار سب سے زیادہ  یعنی 19 معاملات سامنے آئے ہیں۔ کاروار میں 6،  ہلیال میں 3،  کمٹہ، ہوناور ...

دبئی سے بھٹکل و اطراف کے 181 لوگوں کو لے کر آج آرہی ہے دوسری چارٹرڈ فلائٹ؛ رات کو مینگلور ائرپورٹ میں ہوگی لینڈنگ

کورونا وباء اور اس کے بعد ہوئے لاک ڈاون سے  دبئی اور امارات میں پھنسے ہوئے 181 لوگوں کو لے کر آج دبئی سے دوسری چارٹرڈ فلائٹ مینگلور پہنچ رہی ہے۔ اس بات کا اطلاع بھٹکل کے معروف اورقومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے نائب صدر  جناب عتیق الرحمن مُنیری نے دی۔

منگلورو:گروپور میں منڈلارہا ہے مزید پہاڑی کھسکنے کا خطرہ۔ قریبی گھروں کو کروایا گیاخالی۔ مکینوں میں مایوسی اور دہشت کا عالم

گروپور میں اتوار کے دن بنگلے گُڈے میں پہاڑی کھسکنے سے جہاں  تین  مکان زمین بوس اور دو بچے، صفوان (16سال) اور سہلہ (10سال) جاں بحق ہوگئے تھے وہاں پر مزید پہاڑی کھسکنے کا خطرہ لوگوں کے سر پر منڈلا رہا ہے۔

بھٹکل میں اب کورونا کا قہر؛ 45 معاملات سامنے آنے کے بعدحکام کی اُڑ گئی نیند؛ انتظامیہ نےکیا دوپہر دوبجے سے ہی لاک ڈاون کا اعلان

بھٹکل میں کورونا کو لے کر گذشتہ چار پانچ دنوں سے جس طرح کے خدشات ظاہر کئے جارہے تھے، بالکل وہی ہوا، آج ایک ہی دن 45 کورونا کے معاملات سامنے آنے سے نہ صرف حکام  کی نیندیں اُڑ گئیں بلکہ عوام میں بھی خوف وہراس کی لہر دوڑ گئی۔  حیرت کی بات یہ رہی کہ آج جن لوگوں کے رپورٹس پوزیٹیو ...

کرناٹک میں کورونا کا قہر جاری؛ پھر 1498 نئے معاملات، صرف بنگلور سے ہی سامنے آئے 800 پوزیٹیو

کرناٹک میں کورونا کا قہر جاری ہے اور ریاست  میں روز بروز کورونا کے معاملات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، ریاست کی راجدھانی اس وقت  کورونا کا ہاٹ اسپاٹ بنا ہوا ہے جہاں ہر روز  سب سے زیادہ معاملات درج کئے جارہے ہیں۔ آج منگل کو پھر ایک بار کورونا کے سب سے زیادہ معاملات بنگلور سے ہی ...

کورونا: ہندوستان میں ’کمیونٹی اسپریڈ‘ کا خطرہ، اموات کی تعداد 20 ہزار سے زائد

  ہندوستان میں کورونا انفیکشن کے بڑھتے معاملوں کے درمیان کمیونٹی اسپریڈ یعنی طبقاتی پھیلاؤ کا  اندیشہ بڑھتا نظر آرہا ہے۔ بالخصوص کرناٹک  میں کورونا انفیکشن کے کمیونٹی اسپریڈ کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ کرناٹک کے علاوہ گوا، پنجاب و مغربی بنگال کے نئے ہاٹ اسپاٹ بننے کے ...

منگلورو:گروپور میں منڈلارہا ہے مزید پہاڑی کھسکنے کا خطرہ۔ قریبی گھروں کو کروایا گیاخالی۔ مکینوں میں مایوسی اور دہشت کا عالم

گروپور میں اتوار کے دن بنگلے گُڈے میں پہاڑی کھسکنے سے جہاں  تین  مکان زمین بوس اور دو بچے، صفوان (16سال) اور سہلہ (10سال) جاں بحق ہوگئے تھے وہاں پر مزید پہاڑی کھسکنے کا خطرہ لوگوں کے سر پر منڈلا رہا ہے۔

ساری توجہ کورونا پر ہے تو کیا دیگر مریض مرجائیں۔۔۔ ؟؟ اسپتالوں میں علاج دستیاب نہ ہونے کے سبب غیر کورونا مریضوں کی اموات میں بے تحاشہ اضافہ

شہر بنگلورو میں کورونا وائرس جس تیزی سے پھیل رہا ہے اس کے ساتھ شہر میں صحت کا انفرسٹرکچر سرکاری سطح پر کس قدر ناقص ہے وہ سامنے آرہا ہے اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ بڑے بڑے اسپتال کھول کر انسانیت کی خدمت کرنے کا دعویٰ کرنے والے تجاری اداروں کے دعوے کورونا وائرس کے ...