ضلع اُترکنڑا میں آئندہ مہینے سے ریت نکالنے کی شروعات کاامکان۔ ضلع انتظامیہ کونئی ریت پالیسی کا انتظار

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 1st September 2018, 2:06 PM | ساحلی خبریں |

کاروار یکم ستمبر (ایس او نیوز)ضلع شمالی کینرا میں ندیوں سے ریت نکالنے کا کام آئندہ مہینے شروع ہونے کی امید جتائی جارہی ہے۔ریت کے کاروبار میں ملوث افراد کا کہنا ہے کہ عام طور پر ستمبر میں ریت نکالنے کاکام شروع ہوجاتاتھالیکن برسات کا موسم مزید آگے بڑھنے کی وجہ سے اورسرکارکی طرف سے نئی ریت پالیسی سامنے آنے کی  امید میں اگلے مہینے تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

ندیوں میں ریت کے ذخیرے: ضلع کی ندیوں سے ریت نکالنے پر جون کے مہینے سے روک لگائی گئی تھی اور تین مہینے کے تعطل کے بعد اب اسے دوبارہ شروع ہوجانا چاہیے تھا۔ مگر برسات جاری رہنے کی وجہ سے ندیوں کی تہہ میں ریت کے ذخیرے پوری طرح وجودمیں نہیں آئے ہیں۔جیسے ہی برسات میں کمی آئے گی تو پھر ندی میں بہاؤ بھی کم ہوجائے گا اور ریت کے ڈھیر لگنے شروع ہوجائیں گے۔اس کے بعد آسانی سے ریت نکالی جاسکے گی۔

ریت مافیا کی سرگرمیاں: دوسری طرف برسات کے موسم کی وجہ سے فی الحال ضلع میں کہیں بھی تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ بارش کا سلسلہ رکتے ہی تعمیراتی سرگرمیاں بھی تیز ہوجائیں گی جس سے ریت کی مانگ بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔مگر سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ماحولیاتی تغیرات کے پیش نظر ندیوں سے ریت نکالنا پہلے کی طرح اب آسان کام نہیں ہے۔ریت نکالنے کا ٹھیکہ اور اجازت جن لوگوں کو مل جاتی ہے وہ لوگ بے تحاشہ ریت لوٹنے میں لگ جاتے ہیں ۔ اس سے ہٹ کر غیر قانونی طور پر بھی ندیوں سے ریت نکالنے کا دھندہ زورپکڑ جاتا ہے۔ گویا ایک پورا ریت مافیا سرگرم ہوجاتا ہے۔

نئی پالیسی کب بنے گی؟: سابقہ حکومت نے ساحلی علاقے کے لئے جداگانہ ریت پالیسی وضع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مگر وہ پالیسی اب تک جاری نہیں کی گئی ہے۔ اس تجویز کا انجام کیا ہوایہ کسی کو بھی پتہ نہیں ہے۔ریاست کے دوسرے علاقوں میں موجود ریت پالیسی میں کچھ کوتاہیاں موجود ہیں۔ اگر ساحلی علاقے کے لئے نئی خصوصی پالیسی بنتی ہے ، تو ریت نکالنے کے تعلق سے پابندیوں میں کچھ ڈھیل مل سکتی ہے۔امید کی جارہی ہے کہ اکتوبر کے مہینے میں ضلع انتظامیہ کی طرف سے ندیوں سے ریت نکالنے کے سلسلے میں احکام جاری ہونگے۔

ایم سیانڈ کے خلاف آواز: ندیوں سے ریت نکالنے کی وجہ سے ماحولیات پر جو برے اثرات پڑتے ہیں اس سے چھٹکارہ پانے کے لئے سرکار کی طرف سے مصنوعی ریت (M Sand)کے استعمال کی ترغیب دی جارہی ہے۔لیکن یہ ریت (مینوفیکچرڈ سیانڈ) ساحلی علاقے کے لئے مناسب نہیں ہے۔ یہاں کے عوام ابھی بھی ندی کی تہہ سے نکالی گئی ریت ہی استعمال کرتے ہیں اور اسی کو فوقیت دیتے ہیں۔ وہ مصنوعی ریت کو پسند نہیں کرتے۔ اس لئے مصنوعی ریت کو استعمال کرنے کے لئے عوام  کی ذہن سازی میں ابھی بہت وقت لگے گا۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایم سیانڈ کی افادیت کے ساتھ ساتھ اس کے اپنے نقصانات بھی موجود ہیں۔

غیر ملکی ریت کی درآمد: جہازوں کے ذریعے بیرونی ممالک سے ریت درآمد کرنے کی با ت بھی سابقہ ریاستی حکومت کی طرف سے سامنے آئی تھی۔یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ ریت سے لدے ہوئے دو جہاز ریاستی بندرگاہوں پر پہنچ بھی گئے ہیں۔لیکن اس معاملے میں کیا پیش رفت ہوئی اور اس ریت کا کیا ہوا ابھی تک کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے۔کیا درآمد کی گئی ریت یونہی ایک بوجھ بن کر پڑی ہوئی ہے یا اس کا استعمال ہوگا، اس بارے میں بھی کوئی تفصیل معلوم نہیں ہوسکی ہے۔

ضلع انتظامیہ کو نئی پالیسی کاانتظار: موجودہ ریاستی حکومت کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ نئی ریاستی ریت پالیسی وضع کی جائے گی۔ مگر وہ کب تک وضع کی جائے گی؟کب جاری ہوگی اور اس پر کب سے عمل شروع ہوگایہ معلوم نہیں ہورہا ہے۔اس کے باوجود ضلع انتظامیہ کی طرف سے نئی ریت پالیسی کا انتظار کیا جارہا ہے۔البتہ جانکاروں کاکہنا ہے کہ اس طرح کی پالیسی اِس وقت جاری ہونے کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔
 

ایک نظر اس پر بھی

کرناٹک میں تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے کورونا؛ 122 نئے کیسس، صرف گلبرگہ میں ہی 29 پوزیٹو کی تصدیق، دکشن کنڑا اور اُڈپی میں بھی بڑھ رہے ہیں معاملات

ریاست کرناٹک میں  کورونا کیسس تھمنے کا نام نہیں رہے ہیں اور ہرروز سو سے زائد معاملات درج کئے جارہےہیں ۔ آج بدھ کو ریاست میں 122 کورونا پوزیٹو کیسس کی تصدیق کی گئی ہے جس میں سب سے زیادہ گلبرگہ سے 28 معاملات سامنے آئے ہیں، یادگیر سے16، ہاسن سے 15جبکہ ضلع اُترکنڑا میں چھ،  پڑوسی ضلع ...

انکولہ ۔ہبلی ریلوے منصوبہ : ماہرین ماحولیات کے خلاف اسنوٹیکر گرم

انکولہ۔ ہبلی ریلوے لائن منصوبے کو لے کر ماہرین ماحولیات کے خلاف  جے ڈی ایس لیڈر آنند اسنوٹیکر نے سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس منصوبے کے تعلق سے مداخلت یا مخالفت نہ کریں تو بہتر ہے ورنہ ماہرین ماحولیات کی طرف سے فاریسٹ کی جتنی زمین ہتھیائی گئی ہے ثبوت کے ساتھ پیش کرنے کی ...

اترکنڑا کے کمٹہ میں پی یو دوم کے سالانہ  پرچوں کے جانچ مرکز کے قیام کا مطالبہ

اترکنڑا کے کمٹہ تعلقہ  میں پی یو سال دوم کے سالانہ پرچوں کے جانچ مرکز کے قیام کا مطالبہ لے کر اترکنڑا پی یو لکچررس اسوسی ایشین نے ضلع ایڈیشنل ڈی سی ناگراج سنگریر کی معرفت ریاستی وزیر تعلیم سریش کمار کو   میمورنڈم سونپا۔

ضلع اُترکنڑا میں کورونا کےپھر 6 معاملات؛سداپور میں بھی پہنچ گیا کورونا

ضلع اُترکنڑا میں آج بدھ کو مزید چھ  کورونا پوزیٹو معاملات سامنے آنے کے ساتھ ہی  ضلع میں کورونامتاثرین کی تعداد بڑھ کر 73 ہوگئی ہے۔  ضلع میں انکولہ، ہلیال اور سداپور  ایسے تعلقہ جات تھے جہاں اب تک کورونا نے دستک نہیں دی تھی، مگر آج سداپور کے ایک شخص میں بھی کورونا کے اثرات ...

بھٹکل میں خدمات انجام دینے والے کورونا کے خصوصی آفسر ڈاکٹر شرتھ نائیک اب ہوں گے ضلع ہیلتھ آفسر

بھٹکل میں کورونا وباء پر قابو پانے کے لئے کاروار سے ڈاکٹر شرتھ نائیک کو بھٹکل روانہ کرکے انہیں نوڈل آفسر کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، اُنہیں اب ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسر کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسر کے طور پرخدمات انجام دینے والے  ڈاکٹر ...

بھٹکل میں ایک شخص نے کی خودکشی

یہاں آزادنگر فورتھ کراس میں ایک 22 سالہ نوجوان نے گھر کے ایک کمرے میں ہی  چھت سے لٹک کر خودکشی کرلی جس کی شناخت محمد مستقیم شیخ کی حیثیت سے کی گئی ہے۔