بنگلہ دیش: استثنیٰ کی عادی بدعنوان اشرافیہ کے خلاف کریک ڈاؤن

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 6th November 2019, 6:14 PM | عالمی خبریں |

ڈھاکہ/6نومبر (آئی این ایس انڈیا)بنگلہ دیش میں اْن امیر اور بدعنوان افراد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے، جو خود کو قانون سے بالا تر سمجھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا بدعنوانی کی مرتکب بااثر اور مرکزی سیاسی شخصیات پر بھی ہاتھ ڈالا جائے گا۔

بنگلہ دیش کی ریپڈ ایکشن بٹالین عمومی طور پر دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کرتی ہے لیکن آج کل یہ ملک کے بدعنوان عناصر کے خلاف چھاپے مارنے میں مصروف ہے۔ چند روز پہلے ایک ہی رات میں ایک جوا خانہ پر چھاپہ مارا گیا اور اسی رات دارالحکومت ڈھاکہ میں اس جوئے خانے کے مشتبہ مالک خالد محمود کو ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ اس بااثر شخصیت کا تعلق وزیراعظم شیخ حسینہ کی سیاسی جماعت سے ہے۔یہ چھاپے ان کارروائیوں کا حصہ تھے، جو بدعنوانی کے نام پر کی جا رہی ہیں۔

وزیراعظم شیخ حسینہ نے انتخابات سے پہلے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ کرپشن کے خلاف وسیع تر کارروائیاں کریں گی اور ان افراد کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا، جن کا تعلق ان کی سیاسی جماعت سے ہے۔ستمبر سے شروع اس کریک ڈاؤن میں ابھی تک برسر اقتدار جماعت کے متعدد سیاستدانوں کو منی لانڈرنگ، ناجائز اسلحہ رکھنے اور جوئے خانے چلانے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ 600 سے زائد بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جا چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شیخ حسینہ اس وجہ سے یہ کریک ڈاؤن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں کیوں کہ وہ گزشتہ دس برسوں سے اقتدار میں ہیں اور قدم جما چکی ہیں۔ انہیں یہ بھی خطرہ نہیں ہے کہ پارلیمان میں ان کی حمایت کم ہو جائے گی کیوں کہ ان کے پاس پارلیمان کی 96 فیصد سیٹیں ہیں اور اپوزیشن نہ ہونے کے برابر ہے۔ دوسری جانب کرپٹ سیاستدانوں کا تعلق کسی نہ کسی طریقے سے انہی کی جماعت سے نکلتا ہے کیوں کہ وہ ان کے ساتھ اتحاد کر چکے ہیں۔علی ریاض کے مطابق اگر اس کریک ڈاؤن کے دوران برسر اقتدار مرکزی بدعنوان سیاستدانوں کو نہ پکڑا گیا تو یہ مہم کامیاب نہیں ہو گی اور حکمراں جماعت کا تشخص بھی بری طرح خراب ہو گا۔
 

ایک نظر اس پر بھی

ہند۔چین ثالثی کیلئے ٹرمپ کی حیرت انگیز پیشکش

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستان اور چین کے مابین جاری سرحدی تنازعہ میں ثالثی کی پیش کش کرتے ہوئے گذشتہ سال پاکستان کے ساتھ تنازعہ کی یاد تازہ کردی- انہوں نے اس وقت بھی یہی پیش کش کی تھی اور کہا تھا کہ اگر ہندوستان اور پاکستان چاہیں تو وہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کر سکتے ہیں -

نیوزی لینڈ: زلزلہ نے وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کو بنایا عوامی توجہ کا مرکز

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انتہائی پرسکون انداز میں ٹی وی میزبان Ryan Bridge کے پروگرام Newshub AM Show کرونا سے نمٹنے سے متعلق مباحثے کے دوران زلزلے کے جھٹکے شروع ہوئے اور کیمرے میں دکھائی دینے والی چیزیں حرکت کرنے لگیں۔