ہندوستان-پاکستان کشیدگی کم کرنے کے لئے  دو رخی حکمت پر عمل پیرا ہیں:امریکہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 25th August 2019, 11:09 AM | عالمی خبریں |

 واشنگٹن /25 اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) جموں و کشمیر ریاست کے لیے خصوصی درجہ ختم کرنے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھے کشیدگی کو کم کرنے کے لئے امریکہ دو رخی حکمت عملی پر کار بند ہے۔ اس کی اطلاع ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر حکام نے دی۔ انہوں نے بتایا کہ پہلی حکمت عملی سرحد پار دراندازی روکنے اور ہندوستان میں، خصوصی طور پر کشمیر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے مالی اور دیگر امداد نہ دینے کے لئے پاکستان پر دباؤ بنانا ہے۔ دوسری حکمت عملی بھارت کو جموں و کشمیر میں حالات معمول پرلانے کی تلقین کرنا  اور ریاست کے لوگوں کے انسانی حقوق کی حفاظت کو یقینی بنا نا ہے۔ امریکہ حکومت کے سینئر افسر نے کہاکہ (امریکہ کے) صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان کو کنٹرول لائن پار دہشت گردوں کی دراندازی روکنے اور اس زمین پر فعال ان دہشت گرد گروپوں کیخلاف کارروائی کرنے کو کہا ہے۔جنہوں نے بھارت میں حملے کئے ہیں۔ پہلی حکمت عملی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ایک اور اہلکار نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے درمیان یہ اہم ہے کہ اسلام آباد کی زمین کا استعمال سرحد پار دہشت گردی کے لئے نہ دینے کا عزم دکھائے۔ انہوں نے 1989 میں پاکستان کی جانب سے بھارت میں دہشت گردوں اور ریاستی عناصر کی مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے اسلام آباد کو اس طرح کے ہتھکنڈے دوبارہ بھی خبردار کیا ہے۔ افسر نے کہا کہ 1989 میں کشمیری عوام اور یہاں تک کی پاکستان کی ناکامی تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان بھارت میں دہشت گردوں اور مبینہ ریاستی  عناصر کی دراندازی کے لئے ہندوستان-پاکستان کے درمیان موجودہ صورتحال کا فائدہ اٹھائے۔

ایک نظر اس پر بھی