جی -7 اجلاس میں کشمیر مسئلہ ٹرمپ کے ایجنڈے میں شامل کانفرنس میں ٹرمپ کشمیر پر مودی کا موقف سننا چاہیں گے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 24th August 2019, 10:42 AM | عالمی خبریں |

واشنگٹن،24؍ اگست (ایجنسی) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی -7 چوٹی کانفرنس کے دوران عالمی لیڈروں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر، یورپ کو روسی گیس کی فراہمی اور وینزویلا سمیت کئی اہم مسائل پر گفتگو کریں گے۔فرانس میں 24 سے 26 اگست کے درمیان جی -7 چوٹی کانفرنس منعقد ہونے جا رہی ہے۔ امریکی انتظامیہ کے سینئر افسر نے جمعرات کو بتایا کہ مسٹر ٹرمپ وزیر اعظم نریندر مودی، جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل، فرانس کے صدر امانوئل میکرون، برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن، جاپان کے وزیر اعظم شینزو آبے اور کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔ افسر نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ جی -7 کے اجلاس میں کشمیر پر کشیدگی کو کم کرنے کے لئے مسٹر مودی کی منصوبہ بندی کے متعلق سننا چاہتے ہیں۔ افسر نے کہا کہ دونوں لیڈر تجارت کے معاملات پر بھی بات چیت کریں گے، کیونکہ امریکہ ہندوستان کو امریکی اشیاء اور خدمات کے لئے اپنا بازار کھولنے کے لئے درآمدات فیس کم کرنا چاہتا ہے۔افسر نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ اور محترمہ مرکل کے درمیان جی -7 کانفرنس سے الگ روسی قدرتی گیس فراہمی پر یورپ کے انحصار پر بات چیت متوقع ہے۔افسر نے کہاکہ وہ (ٹرمپ اور مرکل) توانائی تحفظ اورروسی گیس ذرائع پر یورپی انحصار کو کم کرنے کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کریں گے ”مسٹر ٹرمپ اور جانسن برطانیہ کے یورپی یونین سے باہر نکلنے اور دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت پر بھی بات چیت کا امکان ہے۔ مسٹر ٹرمپ اور ٹروڈو کے درمیان وینزویلا کے صدر نکولس مادرو کی حکومت پر بڑھتے دباؤ اور ہانگ کانگ کی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ افسر نے کہا کہ آئندہ جی -7چوٹی کانفرنس کے دوران عالمی لیڈر روس کو جی 8 میں دوبارہ لانے کیلئے بات کر سکتے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

چین کی انتقامی کارروائی،امریکی شہریوں پر ویزا سے متعلق پابندی عائد کرے گا چین

چین نے ہانگ کانگ سے وابستہ امور پر کھل کر اپنے خیالات کااظہار کرنے والے امریکی شہریوں پر ویزا سے متعلق پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے،چین کے اس اقدام کو امریکہ کے خلاف انتقامی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔