ٹرمپ کوریا کی سرحد عبور کرنے والے پہلے امریکی صدر، کم جونگ سے تاریخی مصافحہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 1st July 2019, 11:28 AM | عالمی خبریں |

سیول،یکم جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی)  ڈونلڈ ٹرمپ 53-1950 کی کوریا کی لڑائی کے ختم ہونے کے بعد کوریائی سرحد پار کرنے والے پہلے امریکی صدر بن گئے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے کوریائی جزیرے کے غیر فوجی علاقے کا دورہ کیا اور اس کے بعد انہوں نے شمالی اور جنوبی کوریا کے بارڈر پر سخت سکیورٹی والے علاقے میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے تاریخی مصافحہ کیا ہے۔ ٹرمپ امریکہ کے پہلے صدر ہیں جنہوں نے شمالی کوریا کی سرحد عبور کر کے کم جونگ سے ملاقات کی ہے۔

حالانکہ ناقدین نے ٹرمپ اور کم کی اس ملاقات کو خالص سیاسی تھیٹر قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے لیکن کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ملاقات مستقبل میں ہونے والے مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کر سکتی ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان 2018 میں جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے لیے سنگاپور میں ہونے والے اجلاس کا دوسرا دور شمالی کوریا کی رضامندی کے بغیر ہی ختم ہو گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اسے ایک ’برا معاہدہ‘ قرار دیا تھا۔

امریکہ اور کوریا کے لیڈروں کے درمیان اس تیسری ملاقات میں جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان بھی شامل ہوئے۔ بعد ازاں دونوں لیڈروں کے درمیان اہم چوٹی کانفرنس منعقد ہوئی۔ تینوں لیڈروں کی یہ میٹنگ تاریخی بن گئی ہے۔

اس سے پہلے ٹرمپ نے میڈیا کے سوالوں پر کہا کہ شمالی کوریا کی سرحد میں داخل ہونے والا پہلا صدر بننے کا فخر حاصل کرنابڑی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا،’’ایسا ہونا اعزاز کی بات بھی ہے۔‘‘ کم نے بھی ٹویٹر پر امریکی صدر کی ستائش کرتے ہوئے،انہیں’حوصلہ مند اور پرعزم ‘قرار دیا۔

اس سےپہلے ٹرمپ نے کوریائی جزیرے کے غیر فوجی علاقے (ڈی ایم زیڈ) میں اتوار کے مجوزہ دور کے دوران کم سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے حکمراں سے تعلق اچھے ہوئے ہیں۔

تینوں لیڈروں کی غیر فوجی علاقے میں واقع سرحدی گاؤں پنمون جوم میں مقامی وقت کے مطابق دو بجے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے مون کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریش کانفرنس میں کہا، ’’ہم ڈی ایم زیڈ پر جارہے ہیں،اور میں چیئرمین کم کے ساتھ ملاقات کروں گا۔میں اس کےلئے بہت پرجوش ہوں۔میں انہیں دیکھنے کےلئے بھی پرجوش ہوں۔ ہمارے تعلقات بہت بہتر ہوئے ہیں۔‘‘ اس سے پہلے، امریکی صدر نے کہا کہ وہ اور ڈی پی آر کے لیڈر ڈی ایم زیڈ میٹنگ کرنا چاہتے ہیں۔ ڈی ایم زیڈ سال 53-1950 کی کوریائی لڑائی کے بعد سے کوریائی جزیرے کی خطے تقسیم ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ نے ہفتے کو ٹویٹر کے ذریعہ کم کو بھی کوریائی جزیرے کے غیر فوجی علاقے میں ملاقات کے لئے مدعو کیاتھا۔ مون نے کہا تھا کہ اگر ٹرمپ اور کم ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو وہ بھی امریکی صدر کے ساتھ ڈی ایم زیڈ دورے پر جائیں گے۔ یہ تاریخی واقعہ ہوگا۔ کوریائی جزیرے کو نیوکلیائی ہتھیاروں سے پاک بنانے کے مقصد سے گزشتہ کچھ مہینوں سے کم اور ٹرمپ بات چیت کی کوشش ہوئی ہے۔

کوریائی جزیرے میں نیوکلیائی ترک اسلحہ کرنےکےلئے سلسلے میں ٹرمپ اور کم کے درمیان گزشتہ سال جون میں سنگاپور میں پہلی میٹنگ ہوئی تھی۔اس کے بعد اس سال فروری میں ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں دونوں لیڈرون کے درمیان دوسری میٹنگ ہوئی تھی جو ناکام رہی تھی ۔دونوں لیڈروں کے درمیان ایک سال کے اندر یہ دوسری چوٹی کانفرنس تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

ایران میں انٹرنیٹ سروس: حکمرانوں کے  لئے حلال اور عوام کیلئے حرام

ایران میں انٹرنیٹ منقطع ہونے کا سلسلہ 100 گھنٹوں سے زیادہ تجاوز کر چکا ہے۔ یہ بات انٹرنیٹ کی جانچ کرنے والی بین الاقوامی تنظیم Net Blocks نے جمعرات کی صبح بتائی۔تنظیم نے ٹویٹر پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر مزید کہا کہ ایرانی حکام نے اپنے عوام کا دنیا سے رابطہ مکمل طور پر کاٹ دیا ہے۔

کیا ایرانی انٹیلی جنس القدس فورس کی جاسوسی کر رہی ہے؟

امریکی جریدے نے پیر کے روز جن ایرانی دستاویزات کو اِفشا کیا ان سے ایرانی وزارت انٹیلی جنس اور القدس فورس کے درمیان تنازع اور مسابقت کی تصویر سامنے آ گئی۔ القدس فورس ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک کارروائیوں کی ذمے دار تنظیم ہے۔جریدے کی ویب سائٹ پر جاری رپورٹوں میں 700 ...

حوثیوں کی طرف سے جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ بے بنیاد ہے:المالکی

یمن میں آئینی حکومت کے دفاع کے لیے لڑنے والے عرب عسکری اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بدھ کے روزان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حوثی ملیشیا نے عرب اتحاد کا ایک 'ایف 15' جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔

پولیو کیس میں اضافہ، 2019 پاکستان کے لیے بھیانک قرار

اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام کام کرنے والے ادارے انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ بورڈ (آئی ایم بی) اور گلوبل پولیو اریڈیکیشن پروگرام (جی پی ای آئی) نے اپنی جاری کردہ 17 ویں سالانہ رپورٹ میں 2019 کو پاکستان میں پولیو وائرس کی جیت اور مریضوں کے لیے ’بھیانک سال‘ قرار دے دیا ہے۔