مشرق وسطیٰ کے تحفظ کے لیے ایران پر اسلحے کی پابندی ضروری ہے:برائن ہُک

Source: S.O. News Service | Published on 29th June 2020, 5:16 PM | عالمی خبریں |

 دبئی،29/جون (آئی این ایس انڈیا) ایران کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی برائن ہُک نے کہا ہے کہ تہران دنیا بھر میں بدمعاش حکومتوں اور دہشت گرد تنظیموں کے لیے اسلحے کا سپلائر ہے۔ دہشت گردوں کو جنگی ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کے لیے یران پر اسلحہ کےحصول پرعاید پابندی میں توسیع ضروری ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹ پریس کو دیے گئے ایک انٹرویو برائن ہک نے کہا کہ اگر اکتوبر میں ختم ہونے والے اسلحے کے پابندی میں توسیع کردی گئی کرنا ضروری ہے۔ دنیا کو ایران کی طرف سے انتقام لینے کی دھمکیوں کو نظر انداز کرنا چاہیئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ دھمکیاں عموما مافیا کی تدابیر ہوتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ ایرانی قوانین کے مطابق کھیلیں گے تو ایران جیت جائے گا۔ یہ ایک مافیا کا طریقہ ہے۔ ایران میں شہریوں کو خوفزدہ کیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی خراب صورتحال کے خوف سے کسی مخصوص طرز عمل کو قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں۔

ایک سوال کے جواب میں برائن ہک نے کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی معائنہ کاروں کو ملک بدر کرنے کا سہارا لے سکتا ہے۔ ایسے کسی بھی اقدام سے 2015 میں عالمی طاقتوں کے ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے پر بحران مزید گہرا ہوجائے گا۔

اقوام متحدہ کے اسلحے کی پابندی نے اب تک ایران کو جنگجوؤں ، ٹینکوں ، جنگی جہازوں اور دیگر ہتھیاروں کی خریداری سے محروم کر رکھا ہے مگر تہران جنگی علاقوں میں اسلحہ اسمگلنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔

ہُک کا کہنا ہے کہ تھا مشرق وسطی کو محفوظ بنانے کے لیے تہران پر اسلحہ کی پابندی کا نفاذ لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم ایران پر عاید کردہ اسلحے کی پابندیاں ختم کر دیتے ہیں۔ آپ یقین کریں کہ ایران جو کچھ چھپ چھپ کر کر رہا تھا اس کے بعد وہ اعلانیہ کرے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

ترکی: صوفیا میں 24 جولائی سے باجماعت نماز ہوگی

استنبول کے عجائب گھر آیا صوفیا کو مسجد میں بدلنے کے فیصلے کے بعد جمعہ کو وہاں اذان دی گئی جسے ترک چینلوں نے براہ راست نشر کیا۔ صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ 24 جولائی سے باجماعت نماز شروع کردی جائے گی۔