امریکہ میں احتجاج جاری، وائٹ ہاؤس میں پولیس اصلاحات کی تیاریاں

Source: S.O. News Service | By INS India | Published on 11th June 2020, 6:47 PM | عالمی خبریں |

 واشنگٹن،۱۱/جون (آئی این ایس انڈیا) امریکہ میں پولیس تحویل کے دوران ایک سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد سے پولیس اصلاحات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ مظاہرین کی جانب سے کیے جانے والے مطالبات کے پیشِ نظر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت بھی محکمہ پولیس میں اصلاحات کے مسودے پر کام کر رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ پولیس کے محکمے میں اصلاحات کے مسودے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ البتہ وائٹ ہاؤ س نے پولیس کو حاصل استثنیٰ کم کرنے یا محدود کرنے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔

بدھ کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے پریس سیکریٹری کیلی میکنینی نے کہا کہ مظاہرین کے پولیس سے متعلق خدشات کے حل کے لیے حکومت نے اپنا مسودہ تیار کر لیا ہے جو آخری مراحل میں ہے اور اس کی تفصیلات جلد بتائی جائیں گی۔ پریس سیکریٹری نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ 10 روز بڑی خاموشی اور عرق ریزی سے پولیس اصلاحات کے مسودے پر کام کرنے میں گزارے ہیں۔ تاکہ ان مسائل کو حل کیا جا سکے جن پر ملک بھر میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ البتہ انہوں نے پولیس کو حاصل استثنیٰ محدود کرنے یا کم کرنے کے امکان کو مسترد کیا۔ پریس سیکریٹری کا کہنا تھا کہ پولیس کو حاصل استثنیٰ کم کرنے کی کوششوں کو صدر کی حمایت حاصل نہیں ہے کیوں کہ ان کے بقول اس سے پولیس کے محکمے پر اچھا اثر نہیں پڑے گا۔

یاد رہے کہ 25 مئی کو جارج فلائیڈ کی پولیس تحویل میں ہلاکت کے بعد سے امریکہ بھر میں مظاہرے جاری ہیں اور مظاہرین پولیس اصلاحات اور پولیس کی فنڈنگ کم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ امریکی کانگریس کے ڈیموکریٹ ارکان بھی انہی مطالبات کے پیشِ نظر پولیس اصلاحات کے مسودے پر کام کر رہے ہیں۔ پیر کو ڈیموکریٹس کی جانب سے پولیس اصلاحات کے معاملے پر ایک مجوزہ بل سامنے آیا تھا جسے ایوانِ نمائندگان میں پیش کر دیا گیا ہے۔ اس بل میں پولیس کو حاصل استثنیٰ محدود کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ ڈیموکریٹ ارکان کے مجوزہ بل میں ملزمان کی گردن گھٹنے سے دبانے پر پابندی اور ایک نیشنل ڈیٹابیس قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے جس میں پولیس افسران کے مِس کنڈکٹ کا ریکارڈ رکھا جا سکے گا۔ اس بل پر آئندہ ہفتے ووٹنگ متوقع ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ کے ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹ جماعت کی اکثریت ہے جب کہ امریکی سینیٹ میں ری پبلکن جماعت کے اراکین اکثریت میں ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ری پبلکن جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ اب چوں کہ وائٹ ہاؤس میں بھی پولیس اصلاحات کے مسودے پر کام جاری ہے، لہٰذا ڈیموکریٹ جماعت کو اپنا بل سینیٹ سے منظور کرانے میں مشکل پیش آسکتی ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا۔

ایک نظر اس پر بھی

ترک حکومت پر حماس کی اعلی قیادت کو ترکی کی شہریت دینے کا الزام

برطانوی اخبار "ٹیلی گراف" نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی نے فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" کے سینیر رہ نماؤں کو ترکی کی شہریت دینے کا عمل شروع کیا ہے، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ فلسطینی گروپ دنیا بھر میں اسرائیلی شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی میں مزید آزادی حاصل کرے گا۔

ایران سے متعلق قرارداد مسترد ہونے پر امریکہ کی سیکیورٹی کونسل پر تنقید

ایران پر ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر پابندی کی قرارداد کی توثیق نہ ہونے پر امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل پر تنقید کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کونسل دْنیا میں قیامِ امن یقینی بنانے کی کوششوں میں ناکام ہو گئی۔ اپنے بیان میں مائیک ...

ڈیموکریٹک کنونشن کی تیاریاں مکمل، ٹرمپ سوئنگ اسٹیٹس کا دورہ کریں گے

امریکہ کی سیاست میں 'سوئنگ اسٹیٹس' ان ریاستوں کو کہا جاتا ہے جہاں ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں ری پبلکن اور ڈیموکریٹس میں سے کسی کو بھی واضح اکثریت حاصل نہیں ہے اور یہاں سے کبھی ایک تو کبھی دوسری جماعت کے امیدوار کامیاب ہوتے ہیں۔