حکومت ریلوے کی نجکاری کرنے کی کوشش کر رہی ہے: اپوزیشن

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th July 2019, 8:19 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،11؍جولائی (ایس او نیوز؍یواین آئی) اپوزیشن نے حکومت پر ریلوے کی نجکاری کی کوشش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ ہماری کچھ سماجی ذمہ داریاں ہیں جن کو پورا کیا جانا چاہیے، جبکہ حزب اقتدار نے کہا کہ ریلوے ہندوستان کی ثقافتی قوم پرستی کا اظہار اور اقتصادی ترقی کی ریڑھ ہے اور آنے والے وقت میں اسے منافع کمانے کے قابل بنایا جائے گا۔

وزارت ریلوے سے متعلقہ مطالبات پر لوک سبھا میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ گزشتہ تین سال سے ریل بجٹ کو عام بجٹ میں ہی ضم کر دیا گیا ہے۔ اس سے اس کی چمک ماند پڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ریلوے پر 50 لاکھ کروڑ روپے خرچ کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ریلوے کی املاک بیچ کر جو پیسہ آئے گا، اس سے یہ سرمایہ کاری کی جائے گی۔ لیکن، گزشتہ بجٹ میں خرچ کا جو وعدہ کیا گیا تھا وہ بھی اب تک مکمل نہیں کیا جا سکا ہے۔

چودھری نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سال 2014 میں بنارس میں اعلان کیا تھا کہ وہ ریلوے کی نجکاری نہیں ہونے دیں گے اور کم سے کم مودی کے وعدے کا تو احترام کیا جانا چاہیے۔

کانگریس لیڈر نے رائے بریلی اور چترنجن کی اکائیوں سمیت ریلوے کی سات مینوفیکچرنگ یونٹس کے کارپورائزیشن کی تجویز کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی منشا پہلے کارپوریشن اور بعد میں نجکاری کرنے کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا یہ تمام اکائیاں منافع کما رہی ہیں، پھر انہیں کیوں فروخت کیا جا رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے دور میں ریلوے کی حالت خراب ہوئی ہے۔ مالی سال 2019-20 میں اس کا آپریشن تناسب بڑھ کر 98.40 تک پہنچ گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر 100 روپے کمانے کے لئے اس کو 98.40 روپے خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس بجٹ میں اسے 96.20 رکھنے کی بات کہی گئی ہے، لیکن یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہو پائے گا۔ گزشتہ مالی سال میں حکومت نے ریلوے کے لئے 12999 ہزار کروڑ روپے کی آمدنی کا ہدف رکھا تھا، لیکن حقیقت میں اس کی کمائی 6014 کروڑ روپے ہی رہی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں ریلوے کا منافعہ 7.8 فیصد گھٹا ہے۔ وقت پر ٹرینوں کے چلانے میں کمی آئی ہے۔ مالی سال 2018-19 میں محض 68.91 فیصد ٹرینیں ہی وقت پرچلیں جبکہ 17-18 میں یہ اعدادوشمار 71.55 فیصد اور 2016-17 میں 76 فیصد سے زیادہ رہے تھے۔

ادھیر رنجن چودھری حکومت پر وعدے پورے نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ 2017-18 کے بجٹ میں اس نے نیا میٹرو ریل ایکٹ بنانے کی بات کہی تھی۔ اس نے تمام ریلوے کوچوں میں بائیو ٹوائلیٹ لگانے کی بات کہی تھی۔ ان دونوں پر اب تک عمل نہیں ہوا ہے۔ ساتھ ہی اس نے دوسرے ممالک کے ساتھ کئی مفاہمت ناموں پر دستخط کیے ہیں جن میں ٹالگو کوچ کے لئے کیے گئے معاہدہ کو چھوڑ کر کوئی دوسرا پروان نہیں چڑھ سکا۔ مال ڈھلائی کے لئے وقف کوریڈور بھی طے شدہ وقت پر مکمل نہیں ہو سکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ریلوے کو کتنی اہمیت دیتی ہے اس کا اندازہ اسی بات سے لگتا ہے کہ اقتصادی سروے کے جلد- 2میں 278 صفحات ہیں جن میں ریلوے کی بات صرف دو صفحات میں سمیٹ دی گئی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سنیل کمار سنگھ نے کہا کہ کانگریس 1832 کے ریلوے کا موازنہ 1883 کی کانگریس سے کر رہی ہے اور وہ ریلوے کو اسی وقت میں بنائے رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن مودی حکومت کے وقت کے ہندوستانی ریلوے نئے ہندوستان میں ہماری ثقافتی قوم پرستی کا اظہار ہے جس نے نیشنل ڈیزاسٹر کے وقت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہم نے ریلوے کو ملک کی ترقی کے انجن کے طور پر تسلیم کیا ہے جو گاؤں، دیہات، قصبوں میں رہنے والوں کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرتا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مہاراشٹر الیکشن: خواتین ریزرویشن کی بات کرنے والی پارٹیاں خود خواتین کو نہیں دے رہیں حق

مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ کی 46 اسمبلی سیٹوں کے لئے 21 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے واسطے کل 676 امیدواروں میں سے صرف 30 خواتین امیدوار انتخابی میدان میں ہیں جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایک بار پھر سبھی سیاسی جماعتوں نے خواتین كو 33 فیصد ریزرویشن دینے کا وعدہ پورا نہیں کرپائی ہیں۔

حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں کساد بازاری: سیتا رام یچوری

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ (سی پی آئی ایم) کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے بدھ کے روز کہا کہ نوٹ بندی اور’ اشیاء اور خدمات ٹیکس‘ (جی ایس ٹی) جیسی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہی آج ملک میں اقتصادی مندی کادور آیا ہے اور بڑھتی مہنگائی سے عوام پریشان ہیں۔

کساد بازاری پر حکومت نے ابھیجیت بنرجی کی بات نہیں سنی: چدمبرم

کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے آج حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نوبل انعام سے سرفراز ماہر اقتصادیات ابھیجیت بنرجی نے جب اقتصادی بحران کے سلسلے میں آگاہ کیا تھا تو حکومت میں کسی نے ان کی بات ہی نہیں سنی۔

حکومت کا رپورٹ کارڈ پارلیمان سے قبل آرایس ایس ایک کے سامنے پیش ہوتا ہے: اشوک گہلوت

بی جے پی حکومت آرایس ایس کے اشارے پرکام کر رہی ہے۔ حکومت کا رپوریٹ کارڈ پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے سے قبل آر ایس ایس سربراہ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ بی جے پی حکومت کے دور میں ملک کی جمہوریت و آئین پر خطرہ منڈلا رہا ہے، ووٹ کی طاقت کے استعمال سے جمہوریت کو بچانے کا یہی وقت ہے۔ یہ ...

مودی پی ’ایم سی بینک‘ سے رقم نکالنے پر عائد پابندی ہٹا کر دکھائیں، کانگریس کا چیلنج

  کانگریس نے پنجاب اور مہاراشٹر کو آپریٹو (پی ایم سی) بینک گھپلے کی وجہ صدمے میں آئے کئی اکاؤنٹ ہولڈروں کی موت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو چیلنج کیا ہے کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ 24 گھنٹے کے اندر بینک سے رقم نکالنے پر عائد پابندی ہٹانے کا اعلان کریں۔

بابری مسجد ملکیت مقدمہ: سپریم کورٹ میں حتمی بحث آج ختم، فیصلہ محفوظ۔ رام للا کے وکیل کی طرف سے پیش کردہ نقشہ ڈاکٹر راجیو دھون نے کیوں پھاڑا ؟ کیا ہے پورا معاملہ ؟

بابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت تنازعہ معاملہ میں آج بالآخر سپریم کورٹ نے فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا اور فریقین کو حکم دیا کہ وہ تین دن کے اندر اپنے تحریری جوابات داخل کردیں نیز عدالت نے فریقین سے سپریم کورٹ کو حاصل خصوصی اختیارات پر مشورہ بھی طلب کیا ہے۔