اتر پردیش: داڑھی رکھنے کے سبب مسلم پولس اہلکار کے خلاف کارروائی پر ہنگامہ

Source: S.O. News Service | Published on 23rd October 2020, 10:08 PM | ملکی خبریں |

لکھنؤ،23؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) داڑھی رکھنے کی وجہ سے باغپت سب انسپکٹر انتشار علی کے خلاف ہوئی کارروائی کے بعد مسلم طبقہ میں کافی ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے علماء نے اس عمل پر غصہ کا اظہار کرتے ہوئے باغپت پولس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) ابھشیک سنگھ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ابھشیک سنگھ نے ہی انتشار علی کو داڑھی رکھنے کی وجہ سے معطل کیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے علماء کا کہنا ہے کہ انتشار علی کے خلاف جو کارروائی ہوئی ہے وہ غلط ہے اور ان کی معطلی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ایس پی کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہیے۔

اتحاد علمائے ہند کے قومی صدر مولانا قاری مصطفیٰ دہلوی نے اس تعلق سے کہا کہ مسلم پولس اہلکار کے خلاف تعصب کی بنیاد پر کارروائی کی گئی ہے اور اس عمل کی مذمت کی جانی چاہیے۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ایس پی کے خلاف کارروائی کرے۔ کچھ علماء نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا سے کہا کہ یہ کارروائی مذہبی منافرت کا نتیجہ ہے جسے درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں باغپت کے سب انسپکٹر انتشار علی کو بغیر اجازت داڑھی رکھنے کی وجہ سے معطل کر دیا گیا اور پولس لائنس بھیج دیا گیا ہے۔ میڈیا ذرائع میں آ رہی خبروں کے مطابق انتشار علی کو داڑھی ہٹانے کے لیے تین بار تنبیہ کی گئی تھی اور داڑھی بڑھانے کو لے کر اجازت لینے کے لیے بھی کہا گیا تھا، لیکن انھوں نے بغیر اجازت داڑھی کو بڑھانا جاری رکھا۔ حالانکہ جب میڈیا نے انتشار علی سے اس سلسلے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ "میں نے داڑھی رکھنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔"

باغپت کے پولس سپرنٹنڈنٹ ابھشیک سنگھ کا کہنا ہے کہ پولس مینوئل کے مطابق صرف سکھوں کو داڑھی رکھنے کی اجازت ہے جب کہ دیگر سبھی پولس اہلکاروں کو چہرہ صاف ستھرا رکھنا ضروری ہے۔ ایس پی نے کہا کہ "اگر کوئی پولس اہلکار داڑھی رکھنا چاہتا ہے تو اسے اس کی اجازت لینی ہوگی۔ انتشار علی سے بار بار اجازت کے لیے کہا گیا، لیکن انھوں نے اس پر عمل نہیں کیا اور بغیر اجازت کے داڑھی رکھ لی۔"

ایک نظر اس پر بھی

غازی پور بارڈر پر کمربستہ کسانوں نے مطالبات نہ ماننے کی صورت میں راجدھانی کی سڑکوں پرٹریکٹر چلانے کا دیا انتباہ

مودی حکومت کے ذریعہ پاس کردہ متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف دہلی-غازی پور سرحد پر مظاہرہ کر رہے کسانوں نے جمعہ کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ہفتہ کے روز حکومت کے ساتھ ہونے والے اگلے دور کی بات چیت بے نتیجہ ہوتی ہے تو وہ قومی راجدھانی دہلی میں سڑکوں پر بڑی تعداد میں نکلیں گے اور خوردنی ...

اتر پردیش میں لو جہاد کے نام پر 14 افراد کے خلاف معاملہ درج

 اترپردیش کے ضلع مئو میں دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے عاشق جوڑے کے گھر سے بھاگ جانے کے بعد مئو پولس نے مبینہ لوجہاد پر کنٹرول کے دعوی کے ساتھ ریاستی حکومت کی جانب سے پاس کئے گئے تبدیلی مذہب قانون کے تحت 14افرادکے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔افسران کے مطابق لڑکا پہلے سے شادی شدہ ...

حیدر آباد الیکشن: گذشتہ انتخابات میں چار سیٹیں جیتنے والی بی جے پی نے اس بار دیا ’اویسی‘ کو جھٹکا

گریٹر حیدر آباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کے انتخابات میں  بی جے پی نے اویسی کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔  حیرانی کی بات یہ کہی جارہی ہے کہ بی جے پی جس نے 2016 کے انتخابات میں محض چار سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی، اس بار اس  نے 150 میں سے 48 سیٹوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ ویسے تو   اویسی ...

ادھیر رنجن نے مودی سے پوچھا، ملک میں کڑوڑوں لوگوں کو دو وقت کی روٹی نہیں ملتی ٹیکہ کےلئے پیسے کہاں سے آئیں گے ؟

جمعہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کے بعد  کانگریس  لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ 130 کروڑ کی آبادی کی ٹیکہ کاری پر مودی نے کوئی روڈ میپ پیش نہیں کیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ ملک میں کروڑوں لوگوں کو دو وقت کی روٹی ملنا مشکل ہے، ایسے میں غریب ...